آپ کا ذہن کامیابی اور بزنس کے راستے کیسے پیدا کرتا ہے؟

آپ کا ذہن کامیابی اور بزنس کے راستے کیسے پیدا کرتا ہے؟
نوکری نہیں، بزنس سوچیں | بزنس آپ کی سوچ میں ہے
عزیز اسٹوڈنٹس
میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے پاس ڈگریاں ہیں، ہم محنت بھی کرتے ہیں اور ہم میں صلاحیت بھی موجود ہے، پھر کامیابی بعض اوقات اتنی دور کیوں محسوس ہوتی ہے؟
کیا مسئلہ صرف نوکریوں کی کمی ہے؟
یا مسئلہ ہماری سوچ میں بھی کہیں چھپا ہوا ہے؟
ہم نے زندگی میں اپنے ہاتھ، پاؤں اور جسم کو استعمال کرنا تو سیکھ لیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے جو سب سے بڑی نعمت ہمیں عطا کی ہے، یعنی ذہن، اسے استعمال کرنے اور تربیت دینے پر ہم نے کتنا وقت لگایا؟
یہی وہ مقام ہے جہاں مائنڈ پاور اور بزنس سوچ ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔
مائنڈ پاور اور بزنس سوچ کا تعلق کیا ہے؟
میں مئی 2002 سے، جب خط و کتابت کے ذریعے تربیت کا زمانہ تھا، اسی مشن پر کام کر رہا ہوں۔
میرے تجربے میں ایک بنیادی بات ہمیشہ اہم رہی ہے:
اصل تبدیلی جیب میں پیسے آنے سے پہلے ذہن میں آتی ہے۔
ایک شخص صرف نوکری تلاش کرتا رہتا ہے، جبکہ دوسرا اپنے علم، صلاحیت اور سوچ کو استعمال کرکے نئے مواقع پیدا کرنے کے طریقے تلاش کرتا ہے۔
فرق کہاں سے شروع ہوتا ہے؟
سوچ سے۔
اور سوچ بنتی کہاں ہے؟
اسی ذہن میں۔
مائنڈ پاور کی اصل قدر کیا ہے؟
جب میں نے یہ سفر شروع کیا تو میری خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیلی پیتھی اور مائنڈ پاور کی تربیت حاصل کر سکیں۔
اسی مقصد کے لیے 2002 میں کورس کی فیس 300 روپے رکھی گئی۔
وقت کے ساتھ فیس میں تبدیلی آتی رہی۔ یکم ستمبر 2026 سے شروع ہونے والے موجودہ کورس کے لیے ماہانہ فیس 6 ہزار روپے اور ایڈمیشن فیس 15 ہزار روپے رکھی گئی، جبکہ Fast Track پروگرام کی ماہانہ فیس 15 ہزار روپے اور ایڈمیشن فیس 25 ہزار روپے مقرر کی گئی۔
لیکن اس دوران ایک دلچسپ تجربہ بھی سامنے آیا۔
جب کسی چیز کی قیمت بہت کم رکھی جائے تو بعض لوگ اسے اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے جتنی اسے لینا چاہیے۔
کچھ ایسے لوگوں نے بھی ذاتی رابطہ کیا جو واقعی سیکھنا چاہتے تھے لیکن مالی وسائل محدود تھے۔ ان کی خواہش کو دیکھتے ہوئے کم فیس کے آپشن پر بھی غور کیا گیا۔
جب کم فیس کا اعلان ہوا تو بعض لوگوں نے سوال کیا:
“سر، اتنا قیمتی علم اتنی کم فیس میں کون سکھاتا ہے؟”
کسی نے پوچھا:
“آپ کو واقعی ٹیلی پیتھی آتی بھی ہے یا نہیں؟”
اور کسی نے کہا کہ جس علم کو لوگ سیکھنا چاہتے ہیں، اسے بہت کم قیمت پر رکھنے سے شاید اس کی قدر کم محسوس ہو۔
میں نے ان سوالات کو برا نہیں سمجھا۔
بلکہ میں نے ان میں ایک اہم سوال دیکھا:
آخر اس تربیت کی حقیقی قدر کیا ہونی چاہیے؟
Online Telepathy Master Course کی موجودہ فیس
اس کے بعد میں نے مختلف تربیتی پروگرامز، Mind Power، Personal Development اور Telepathy Training کے کورس اسٹرکچر اور فیس ماڈلز کا جائزہ لیا۔
اس کے نتیجے میں پروگرام کو ایک زیادہ منظم اور سنجیدہ تربیتی کورس کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
موجودہ Online Telepathy Master Course کی مکمل فیس 1000 امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
ماہانہ بنیاد پر فیس ادا کرنے والے طلبہ کے لیے 49 ڈالر ماہانہ کا آپشن رکھا گیا ہے۔
جبکہ تیز رفتار اور زیادہ گہری تربیت کے خواہش مند طلبہ کے لیے Fast Track پروگرام کی مکمل فیس 4000 ڈالر اور ماہانہ ادائیگی کی صورت میں 270 ڈالر ماہانہ ہے۔
یہ صرف فیس بڑھانے کا فیصلہ نہیں تھا۔
اس کا مقصد تربیت کو زیادہ سنجیدگی، نظم و ضبط اور Commitment کے ساتھ لینے کا ماحول پیدا کرنا بھی ہے۔
کیا زیادہ سرمایہ کاری کا مطلب زیادہ کامیابی ہے؟
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے:
زیادہ فیس خود بخود کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی۔
اصل فرق طالب علم کی محنت، مستقل مزاجی، وقت، عمل اور سیکھنے کی سنجیدگی سے پیدا ہوتا ہے۔
میرے طلبہ میں ایسے لوگ بھی رہے ہیں جو چھٹی کے دن بھی پوچھتے ہیں:
“سر، اگر اجازت ہو تو آج کی ایکسرسائز کر لیں؟ ہم ناغہ نہیں کرنا چاہتے۔”
یہی اصل فرق ہے۔
صرف فیس کا نہیں۔
کاCommitment
اگر وسائل کم ہوں تو کیا کیا جائے؟
یہ سوال بالکل جائز ہے:
“سر، جو شخص پہلے ہی بے روزگار ہے وہ اتنی فیس کیسے دے گا؟”
میرا جواب سادہ ہے۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں نوکری والی سوچ اور بزنس والی سوچ میں فرق سامنے آتا ہے۔
نوکری والی سوچ کہتی ہے:
“میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اس لیے میں سیکھ نہیں سکتا۔”
جبکہ بزنس سوچ سوال کرتی ہے:
“مجھے کیا سیکھنا چاہیے تاکہ میں اپنی صلاحیت سے آمدنی پیدا کرنے کے قابل بن سکوں؟”
یہ فرق صرف الفاظ کا نہیں۔
یہ سوچ کے زاویے کا فرق ہے۔
ایک شخص صرف خرچ دیکھتا ہے، دوسرا اپنی صلاحیت بڑھانے کے امکان پر بھی غور کرتا ہے۔
اپنے ذہن پر سرمایہ کاری کیوں ضروری ہے؟
آپ ایک اچھی نوکری حاصل کرنے کے لیے سالہا سال تعلیم پر سرمایہ لگاتے ہیں۔
ڈگری، کتابیں، سفر، وقت اور دیگر اخراجات برداشت کرتے ہیں۔
تو اپنی ذہنی تربیت، شخصیت، توجہ، مشاہدے، خود اعتمادی اور نئے ہنر پر سرمایہ کاری کرتے وقت ہم کیوں رک جاتے ہیں؟
کیا آپ کا ذہن آپ کی زندگی کی اہم ترین صلاحیتوں میں سے ایک نہیں؟
یہاں بھی ایک بات واضح ہے:
میں یہ نہیں کہتا کہ ہر شخص ہزار ڈالر خرچ کرے۔
میں صرف یہ کہتا ہوں کہ اگر آپ اپنی زندگی بہتر بنانا چاہتے ہیں تو اپنی ذات، علم اور ہنر پر سرمایہ کاری کو بھی زندگی کا حصہ بنائیں۔
ایک اچھا ہنر، بہتر سوچ اور مضبوط شخصیت مستقبل میں آپ کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ضرورت مند اور سنجیدہ طلبہ کے لیے رعایت
اگر وسائل واقعی محدود ہیں لیکن آپ سیکھنے کے لیے سنجیدہ ہیں، محنت کرنے کے لیے تیار ہیں اور واقعی اس تربیت کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو ذاتی پیغام کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
میں اپنی استطاعت کے مطابق ہر بیچ میں چند مخلص، اہل اور واقعی سیکھنے کے خواہش مند افراد کے لیے خصوصی رعایت یا وظیفے کی بنیاد پر شامل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
لیکن ایک بات واضح ہے:
رعایت ضرورت مند اور سنجیدہ طالب علم کے لیے ہے، صرف مفت حاصل کرنے کی خواہش کے لیے نہیں۔
مجھے صرف ایک بڑا ہجوم نہیں چاہیے۔
مجھے ایسے طلبہ چاہییں جو علم کی قدر جانتے ہوں، محنت کا حوصلہ رکھتے ہوں اور اپنی سوچ کو بہتر بنانے کے لیے واقعی تیار ہوں۔
میرا مقصد صرف طالب علموں کی تعداد بڑھانا نہیں
میرا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ طلبہ شامل کرنا نہیں۔
میری کوشش یہ ہے کہ ایسے افراد تیار ہوں جو اپنی ذہنی صلاحیت، توجہ، مشاہدے، تصور، خود اعتمادی اور ذہنی تربیت کو بہتر انداز میں سمجھیں اور اپنی عملی زندگی میں استعمال کرنا سیکھیں۔
میں چاہتا ہوں کہ ہمارا نوجوان صرف یہ نہ سوچے:
“مجھے نوکری کہاں ملے گی؟”
بلکہ یہ بھی سوچے:
“میں اپنی صلاحیت سے موقع کیسے پیدا کر سکتا ہوں؟”
یہی بزنس سوچ کا بنیادی سوال ہے۔
Mind-to-Mind Link
Mind-to-Mind Link کے تصور کو سمجھنا اور مائنڈ پاور کی تربیت حاصل کرنا میرے تربیتی پروگرام کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔
ان تصورات کو سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت، تعلقات اور کمیونیکیشن کی مہارتوں کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا سکتی ہے۔
اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو سمجھنے کے ساتھ اپنی عملی زندگی میں بھی بہتر نظم و ضبط اور توجہ پیدا کرے۔
آپ اشرف المخلوقات ہیں
اللہ تعالیٰ نے انسان کو سوچنے، سیکھنے، سمجھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔
اس نعمت کی قدر کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔
اپنے ذہن کو بہتر کاموں میں استعمال کریں۔
نئے ہنر سیکھیں۔
اور اپنی زندگی کے لیے واضح مقاصد بنائیں۔
نوکری صرف ایک راستہ ہے
نوکری زندگی میں کامیابی کا ایک راستہ ہو سکتی ہے، لیکن ہر شخص کے لیے واحد راستہ نہیں۔
آپ کا علم، ہنر، تجربہ، تخلیقی سوچ اور صلاحیت آپ کے لیے مختلف مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
ممکن ہے جس کامیابی کو آپ باہر تلاش کر رہے ہیں، اس کی پہلی بنیاد آپ کے اپنے ذہن کے اندر موجود ہو۔
اسی لیے آج خود سے ایک سوال کریں:
میں صرف نوکری تلاش کر رہا ہوں یا اپنی صلاحیت کو ایسا ہنر بنانے کی کوشش بھی کر رہا ہوں جو میرے لیے نئے مواقع پیدا کر سکے؟
یہ سوال آپ کی سوچ کا رخ بدل سکتا ہے۔
میری خواہش: علم ان لوگوں تک پہنچے جو واقعی سیکھنا چاہتے ہیں
میرا خواب آج بھی وہی ہے:
علم ان لوگوں تک پہنچے جو واقعی اسے سیکھنا چاہتے ہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ ہمارا نوجوان اپنی صلاحیت کو پہچانے، اپنے ذہن کی تربیت کرے اور مستقبل کے لیے نئے راستے تلاش کرے۔
اگر آپ بھی مائنڈ پاور، ٹیلی پیتھی ٹریننگ اور ذہنی تربیت کے اس سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو کمنٹ میں لکھیں:
“میں اپنی سپر پاور کو ایکٹیو کرنا چاہتا ہوں۔”
اور اس مضمون کو اپنے کسی ایسے دوست تک ضرور پہنچائیں جو آج کامیابی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔
کیا معلوم، آپ کی ایک Share کسی کی سوچ بدل دے۔
اور ایک بدلی ہوئی سوچ پوری زندگی کے سفر کا رخ بدلنے کا سبب بن جائے۔
آپ کا استاد
غلام مصطفیٰ مہر

