ابھی نہیں تو کبھی نہیں

عزیز ٹیلی پیتھی سٹوڈینٹس
ایک سچ سننے کے لیے صرف دل نہیں بلکہ مضبوط ارادہ چاہیے۔
اور آج وہ سچ یہ ہےآپ میں کوئی کمزوری نہیں ہے۔
آپ میں ٹیلی پیتھی کی صلاحیت موجود ہے۔
آپ ناکام طالبِ علم نہیں ہیں۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ آپ ہر روز اپنے ذہنی وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
رات کو ارادہ پکا ہوتا ہے
کل میں مکمل فوکس کے ساتھ پریکٹس کروں گا۔
کل اپنے ذہن کو فوکس کر کے سگنل بھیجوں گا۔
اور صبح
وہی ٹال مٹول
وہی جملہ
آج نہیں… پھر کل دیکھیں گے۔
میں یہ کیفیت بخوبی جانتا ہوں۔
یہ سستی نہیں
یہ ذہنی مزاحمت ہے۔
یہ وہ خوف ہے جو آپ کو اپنی اصل طاقت سے ملواتا ہے۔
لیکن غور سے سنیں
میں پھر بھی آپ سے مایوس نہیں
استاد کی خیرخواہی میں بات کر رہا ہوں۔
ٹیلی پیتھی کا راستہ کسی اور سے مقابلہ نہیں مانگتا
یہ صرف آپ کے اپنے ذہن کے ساتھ مقابلہ ہے۔
اور خوشخبری یہ ہے
آپ کا ذہن آج بھی تیار ہے۔
آپ کی اندرونی فریکوئنسی آج بھی بیدار ہو سکتی ہے۔
بس ایک لمحے کے لیے رکیں
اور خود سے ایماندار سوال کریں
کیا آپ واقعی انتظار کرنا چاہتے ہیں؟
یا آج ہی اپنی صلاحیت کو جگائیں گے؟
کیا آپ واقعی ٹیلی پیتھی ماسٹر بننا چاہتے ہیں؟
کیا آپ واقعی اپنی قوتِ تصور اور توجہ سے بڑھانا چاہتے ہیں؟
اکثر آپ آج دماغ تھکا ہوا ہے کہہ کرایکسرسائز نہیں کرتے اور پھر بعد میں کہتے ہیں کہ رابطہ کیوں نہیں ہو رہا ۔
یاد رکھیے
ٹیلی پیتھی میں تھوڑا سا بھی عمل بڑے دروازے کھول دیتا ہے۔
میں آپ سے گھنٹوں کی ایکسرسائز نہیں کروا رہا۔
کوئی مشکل ایکسرسائز بھی نہیں۔
کوئی غیر معمولی چیز نہیں۔
آپ صرف میری ہدایات کو فالو کریں اور کل نہیں بلکہ آج سے
صرف 5 منٹ نکال کراپنی سانس کی ایکسرسائز کے بعد آٹوسجیشن جملے دیرائیں
اور 5 منٹ ہی تصور میں بھی ہوتا ہوا دیکھیں۔
یقین مانیں یہی 10 منٹ آپ کے دماغ کی فریکوئنسی بدل دیں گے
وقت تو گزر جاتا ہے لیکناس وقت کو اپنی بہتری کے لیے استعمال کیجیے
کیا آپ نے اس قیمتی وقت میں اپنے ذہن کو ٹرین کیا؟
یا صرف سوچتے ہی رہے؟
اپنی ذہنی طاقت کے ساتھ ظلم مت کیجیے
یاد رکھیے آٹوسجیشن کوئی وقتی عمل نہیں
یہ آپ کے لاشعور کے ساتھ روزانہ کی ملاقات ہے۔
یہ آپ کے لاشعور کے ساتھ روزانہ کی ملاقات ہے۔
جب آپ دس منٹ پوری توجہ کے ساتھ ایک ہی مثبت خیال یا جملہ بار بار دہراتے ہیں
تو دراصل آپ اپنے دماغ کو نیا پروگرام دے رہے ہوتے ہیں۔۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے
جب پرانی ذہنی رکاوٹیں آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتی ہیں
فوکس بہتر ہونے لگتا ہے
اور ذہن ایک منظم فریکوئنسی پر آنا شروع ہو جاتا ہے۔
جب آپ کا دماغ روزانہ ٹرین ہونے لگتا ہے
تو وہ باریک اشاروں اور اندرونی سگنلز کو زیادہ واضح طور پر پڑھنے لگتا ہے۔
یہی وہ وقت ہے جب آپ اپنے لاشعور کے سگنلز کو پہچاننا شروع کرتے ہیں
اور وہ احساسات یا تصاویر جو آپ نے کبھی تنہائی میں محسوس کیے وہ محض خواب یا وہم نہیں ہوتے۔
یہ سگنلز اس لیے آتے ہیں کہ آپ کے دماغ میں نیورل کنکشنز اور الیکٹرو کیمیکل فریکوئنسیز ایسی ترتیب میں کام کر رہی ہیں
جو آپ کو ذہن سے ذہن تک پہنچنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
آغاز مشکل ہوسکتا ہے کیونکہ دماغ نئی فریکوئنسی پر آنا چاہتا ہے لیکن یہ ناممکن نہیں۔
جیسے ہی آپ مستقل مشق کرتے ہیں
دماغ میں نیورل پاتھز مضبوط ہوتے ہیں
اور سگنلز زیادہ تیز، زیادہ واضح اور زیادہ کنٹرول کے قابل ہو جاتے ہیں۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں آپ محسوس کرتے ہیں کہ
ٹیلی پیتھی یا ذہنی رابطہ واقعی ایک سائنسی عمل ہے
اکثر ٹیلی پیتھی میں سب سے مشکل لمحہ وہی ہوتا ہے
جب آپ “پریکٹس شروع” کرتے ہیں۔
لیکن آپ کی مستقل مزاجی سے س آسان ہو جاتا ہے
اگر آج بھی اپنی ایکسرسائز کا تسلسل برقرار نہ رکھا تو کل لاشعور خود سوال کرے گا
کہ میں تیار تھا تم کیوں نہیں تھے
میں آپ کو ڈرا نہیں رہا
صرف حقیقت بتا رہا ہوں
ٹیلی پیتھی میں وقت انتظار نہیں کرتا اور ذہن بار بار نظرانداز ہونے پرخاموش نہیں رہتا
اپنی ذہنی طاقت کو جگائیں۔
آج اپنے دماغ کی قدر کریں۔
آج سے ایکسرسائز اور آٹوسجیشن کے ذریعے اپنے ذہن کی سپر پاورز کو ایکٹیو کریں۔
یقین رکھیں جب آپ ماہر بن جائیں گے
تو آپ نہ صرف خود کے لیے بلکہ ہر اُس انسان کے لیے روشنی بنیں گے جو آپ کی رہنمائی کی تلاش میں ہے۔
آپ کا استاد
غلام مصطفےٰ مہر


