ذہن کی فریکوئنسی اور ٹیلی پیتھی

ذہن کی فریکوئنسی اور ٹیلی پیتھی
0 0 votes
Article Rating

ذہن کی فریکوئنسی اور ٹیلی پیتھی

ذہنوں کے درمیان رابطہ کیسے ہوتاہے؟

کیا واقعی ایسا ممکن ہے کہ دو انسان بغیر الفاظ، بغیر آواز صرف ذہن کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کر سکیں؟
یہ سوال صدیوں سے انسان کے شعور میں موجود ہے۔
کچھ لوگ اسے محض اتفاق کہتے ہیں، کچھ روحانیت سے جوڑتے ہیں، اور کچھ اسے وہم سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔
لیکن جدید نیورو سائنس ایک مختلف اور زیادہ حقیقت پسندانہ تصویر پیش کرتی ہے۔
نیورو سائنس کے مطابق، ہمارا دماغ ایک خودکار نظام کی طرح کام کرتا ہے جو خود سے سیکھتا رہتا ہے اور اپنے اہداف تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے
یعنی جب ہم کسی چیز پر دھیان دیتے ہیں یا اسے بار بار کرتے ہیں، تو دماغ خود بخود اسے سمجھنے اور یاد رکھنے لگتا ہے۔
جب ہم دماغ کو صحیح طریقے سے توجہ دیں صاف مقصد بتائیں اور بار بار مشق کریں تو یہ حیران کن نتائج دینے لگتا ہے

ٹیلی پیتھی دراصل دماغ کے اس نظام کی طاقت ہے جو ہمیں کسی کے ساتھ ذہنی رابطہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔
نہ کوئی جادو
نہ کوئی ماورائی عمل
بلکہ دماغ کی فطری صلاحیت۔

ذہن کی فریکوئنسی اور ٹیلی پیتھی

ٹیلی پیتھی: تجربہ یا محض اتفاق؟

تقریباً ہر انسان نے زندگی میں کبھی نہ کبھی یہ تجربہ ضرور کیا ہوگا

آپ کسی شخص کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں

اچانک اسی لمحے اس کا فون آ جاتا ہے

یا وہ شخص خود آپ کے سامنے آ جاتا ہے

عام ردِعمل ہوتا ہے
“عجیب اتفاق ہے!”

لیکن سوال یہ ہے
 کیا ہمارا دماغ واقعی اتنا سادہ ہے کہ ہر چیز محض اتفاق ہو؟

نیورو سائنس کہتی ہے: نہیں۔

ذہن کا اندرونی ریڈار

ایسے لمحات میں جب ہم کسی خاص شخص یا چیز کے بارے میں سوچتے ہیں اور اچانک وہ ہمارے سامنے آ جاتی ہے  ہمارا دماغ ایک مخصوص نیورولوجیکل نظام  کے تحت کام کر رہا ہوتا ہے جسے سائنس کی زبان میں کہا جاتا ہے

Reticular Activating System (RAS)  ریٹیکیولر ایکٹیویٹنگ سسٹم

یہ دماغ کا ایک طاقتور فلٹر  ہے جو ہمارے روزمرہ کے ہزاروں خیالات میں سے صرف وہی چیزیں منتخب کرتا ہے جو ہمارے مقصد یا توجہ کے لیے اہم ہوں۔

 کے اہم کامRAS

اہم خیالات منتخب کرنا: ہزاروں خیالات میں سے صرف ضروری چیزیں دماغ کے سامنے آتی ہیں۔

توجہ مرکوز کرنا: دماغ کی توجہ  کسی خاص ہدف  یا شخص پر رکھی جاتی ہے۔

معلومات پہنچانا: شعورتک صرف وہ معلومات پہنچتی ہیں جو ہمارے مقصد  سے متعلق ہوں۔

یعنی  وہ نظام ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ آپ کیا دیکھیں گے، کیا محسوس کریں گے اور کیا نظر انداز کریں گے۔

مثال کے طور پر آپ نئی گاڑی خریدنے کا سوچ رہے ہیں:

اچانک وہی ماڈل آپ کو ہر جگہ نظر آنے لگتی ہے  سڑک پر، اشتہارات  میں، سوشل میڈیا  پر۔

 کیا واقعی گاڑیاں بڑھ گئی تھیں؟

 نہیں۔

 اصل میں آپ کا  ریٹیکیولر ایکٹیویٹنگ سسٹم ایکٹیو ہو گیا تھا۔

یہی اصول ٹیلی پیتھی  میں بھی کام کرتا ہے
جب آپ کسی شخص کے بارے میں بار بار سوچتے ہیں تو
دماغ کو اس شخص پر فوکس  کر دیتا ہے اور آپ کے ذہن میں اس کے خیالات یا پیغامات آنا شروع ہو جاتے ہیں جیسے وہ حقیقت میں آپ سے رابطہ کر رہا ہو۔RAS

ٹیلی پیتھی میں   کیوں بنیادی کردار ادا کرتا ہے؟ RAS

جب آپ کسی خاص شخص سے ذہنی رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو RAS

غیر ضروری خیالات کو فلٹر کرتا ہے

توجہ کو صرف اسی شخص پر لاک کر دیتا ہے

ذہن کو ایک مخصوص فریکوئنسی پر لے آتا ہے

اسی وجہ سےآپ کو اس شخص کے خیالات اچانک محسوس ہونے لگتے ہیں

اسی دن فون میسج یا ملاقات ہو جاتی ہے

یہ کوئی جادو نہیں بلکہ ذہن کی فریکوئنسی کا ہم آہنگ ہونا ہے۔

ذہنی فریکوئنسی کیا ہوتی ہے؟

ہر سوچ ہمارے دماغ میں ایک الیکٹرو کیمیکل سگنل  پیدا کرتی ہے، یعنی دماغ کے نیورونز چھوٹے برقی اور کیمیائی اشارے بھیجتے ہیں۔

جب آپ کسی خاص خیال یا شخص پر بار بار دھیان دیتے ہیں

دماغ کے نیورونز  ایک خاص ترتیب  میں کام کرنے لگتے ہیں

دماغ ایک مخصوص فریکوئنسی  پر سیٹ ہو جاتا ہے

اور جب یہ فریکوئنسی کسی دوسرے شخص کے ذہن کی فریکوئنسی سے ہم آہنگ  ہو جاتی ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ دونوں کے درمیان ذہنی رابطہ  قائم ہو رہا ہو۔

یعنی جب آپ اور دوسرا شخص ایک ہی سوچ یا توجہ کی لہر پر ہوں تو دماغ ایک دوسرے کے خیالات سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

ٹیلی پیتھی میں سب سے اہم راز: فوکس

 فوکس کریں   طاقت خود ظاہر ہوگی

جب آپ مستقل مزاجی سے کسی ایک ہدف یا شخص پر توجہ دیتے ہیں

ذہن غیر ضروری خیالات خود بخود ختم کرتا ہے

ارتکاز بڑھتا ہے

سگنل واضح ہوتا ہے

ہر انسان میں یہ صلاحیت پہلے سے موجود ہےمگر
 باقاعدہ ذہنی ایکسرسائز اور درست رہنمائی  اسے کئی گنا طاقتور بنا دیتی ہے۔

خواہش اور ہدایت میں فرق

اکثر لوگ کہتے ہیں

“میں ٹیلی پیتھی سیکھنا چاہتا ہوں”

یہ صرف خواہش ہے۔ذہن خواہش پر کام نہیں کرتا
ذہن واضح ہدایت پر کام کرتا ہے۔

یہ بالکل ایسے ہے جیسےبغیر فریکوئنسی سیٹ کیے ریڈیو چلانا۔

جب ہدف غیر واضح ہو تو کیا ہوتا ہے؟

اگر ہدف واضح نہ ہو تو

الجھ جاتا ہےRAS

توجہ بکھر جاتی ہے

ذہن ایک فریکوئنسی پر قائم نہیں رہتا

یہ ایسے ہے جیسےجی پی ایس   کو منزل نہ بتائی جائے 
گاڑی چلتی رہتی ہے مگر کہیں نہیں پہنچتی۔

واضح ٹارگٹ کیوں ذہن کے لیے طاقتور ہوتا ہے؟

جب آپ یوں کہتے ہیں

“میں اگلے 4 ماہ میں ٹیلی پیتھی کی اس لیول کی ایکسرسائز مکمل کروں گا”

RASتو

 کو واضح ہدایت ملتی ہے

ذہن وقت مواقع اور وسائل خود ترتیب دیتا ہے

سیکھنے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے

یہی اصول سائیکو سائبرنیٹکس میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

سائیکو سائبرنیٹکس اور ذہن کا خودکار نظام

ڈاکٹر میکس ویل مالٹز ایک معروف سائیکولوجسٹ اور مصنف تھے جنہوں نے انسانی ذہن، خود اعتمادی ) اور گول سیٹنگ  پر گہرائی سے کام کیا۔

ان کی مشہور کتاب “سائیکو سائبرنیٹکس میں اسی اصول کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

“ذہن ایک گول سیٹنگ مشین ہے مگر اسے واضح ٹارگٹ دینا ضروری ہے”

جب ٹارگٹ واضح ہو اور مشق مسلسل ہو توغیر ضروری خیالات کم ہوتے ہیں

فوکس بہتر ہوتا ہے

ذہنی صلاحیتیں تیزی سے ڈیولپ ہوتی ہیں
ڈاکٹرمالٹز کے مطابق ہمارا دماغ ایک خودکار نظام کی طرح کام کرتا ہے۔
جب اسے واضح ہدف اور مقصد دیا جائے
تو یہ خود بخود غیر ضروری خیالات کو چھوڑ کر صرف اہم چیزوں پر توجہ مرکوز کر لیتا ہے اور بہترین نتائج دیتا ہے۔

ٹیلی پیتھی ایک سائنسی حقیقت

ٹیلی پیتھی کوئی جادو نہیں

کوئی خلافِ فطرت عمل نہیں

اور نہ ہی ہر شخص میں ایک جیسی ہوتی ہے

یہ ذہن کی پوشیدہ مگر حقیقی صلاحیت ہے
جو درست فریکوئنسی  واضح ہدف اور مسلسل مشق سے آہستہ آہستہ ایکٹیو ہوتی ہے۔

اس تحریر سے خصوصی  سوالات

 سوال نمبر 1: کیا ہر انسان ٹیلی پیتھی سیکھ سکتا ہے؟

کو کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے؟ RAS :سوال نمبر 2 

0 0 votes
Article Rating

You may also like...

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
0 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x