وہ چیلنجز جو ٹیلی پیتھی ماسٹر بناتے ہیں

وہ چیلنجز جو ٹیلی پیتھی ماسٹر بناتے ہیں
2.5 2 votes
Article Rating

وہ چیلنجز جو ٹیلی پیتھی

ماسٹر بناتے ہیں

 

ٹیلی پیتھی سیکھنے کا سفر بظاہر دلچسپ اور آسان  لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک صبر آزما اور محنت طلب راستہ ہے۔
یہ صرف کسی فن کو سیکھنے کا عمل نہیں، بلکہ اپنے ذہن، جذبات اور عادتوں پر قابو پانے کا امتحان بھی ہے۔
کامیابی انہی کو ملتی ہے جو ہر رکاوٹ کے باوجود ہمت نہیں ہارتے
 ٹیلی پیتھی کورس کے دوران آپ کو کن مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے اور انہیں کیسے پار کرنا ہے وہ سب دی جا رہی ہیں ۔

 مشق کے لیے مناسب ماحول کا نہ ملنا

ٹیلی پیتھی کی مشق کے لیے سکون اور خاموشی لازمی ہے۔
لیکن عملی زندگی میں یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
کبھی گھر میں شور ہوتا ہےکبھی وقت نہیں ملتاکبھی جگہ بدلنی پڑتی ہے۔
یہ سب چیزیں مشق کے تسلسل کو توڑ دیتی ہیں۔
جب مشق کے لیے ماحول مستقل نہ رہے تو ذہن بھی منتشر ہو جاتا ہے۔
اسی لیے بہتر ہے کہ آپ ایک مقرر وقت اور جگہ طے کر لیں تاکہ ذہن خودبخود اس روٹین کا عادی ہو جائے۔

تسلسل کا ٹوٹ جانا

اکثر لوگ شروع میں جوش سے مشق شروع کرتے ہیں مگر چند دن بعد ناغے ہونے لگتے ہیں۔
کبھی طبیعت نہیں بنتی؎کبھی دل نہیں کرتا کبھی کوئی بہانہ نکل آتا ہے۔
یہ وقفے مشق کے اثر کو کم کر دیتے ہیں۔
یاد رکھیں  ٹیلی پیتھی میں کامیابی کا راز تسلسل ہے۔
روزانہ چند منٹ بھی مستقل مزاجی سے کی گئی مشق غیر متواتر گھنٹوں کی مشق سے کہیں زیادہ اثر رکھتی ہے۔
اس لیے کوشش کریں کہ بغیر ناغہ کے ایکسر سائز جاری رکھیں۔

 دل کا اچاٹ ہو جانا اور ذہنی مزاحمت

جب آپ ذہن کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دماغ خود مزاحمت کرتا ہے۔
یہ فطری عمل ہے
مشق کے دوران کبھی دل نہیں لگتا، کبھی سوچ آتی ہے کہ
یہ سب کیسے ممکن ہو گا؟،

کبھی لگتا ہے کہ کچھ نہیں ہو رہا۔
یہ سب دماغ کی طرف سے ردِعمل ہے۔
بس یہی وقت ہے جب آپ کو رکنا نہیں چاہیے۔
جتنا زیادہ آپ استقامت دکھائیں گے  اتنا ہی ذہن آہستہ آہستہ آپ کا ساتھ دینے لگے گا۔

 دوسروں کی حوصلہ شکنی

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ ٹیلی پیتھی سیکھنے کی بات اپنے گھر والوں یا دوستوں سے کریں تو وہ مذاق اُڑاتے ہیں
یا کہتے ہیںیہ سب کہانیاں ہیں۔
یہ رویہ حوصلہ کم کر دیتا ہے۔
لیکن یاد رکھیں  ہر وہ راستہ جو عام لوگوں کو سمجھ نہ آئے وہی غیر معمولی منزلوں تک لے جاتا ہے۔
ایسے وقت میں آپ کو اپنی محنت پر بھروسہ رکھنا چاہیے  دوسروں کی رائے پر نہیں۔

 جذبات اور حالات کا اثر

زندگی میں خوشی اور غم آتے رہتے ہیں، لیکن ٹیلی پیتھی کی مشق ان کے زیرِ اثر آکر متاثر ہو جاتی ہے۔
کبھی غم کے باعث دل بھاری ہوتا ہےبھی خوشی میں دھیان نہیں رہتا۔
یہ فطری ہے مگر کوشش یہی ہونی چاہیے کہ آپ جذبات کے باوجود مشق کا تسلسل برقرار رکھیں۔
اگر کچھ دن چھوٹ بھی جائیں تو دوبارہ اسی جذبے سے آغاز کریں۔

 بیماری کے بعد ذہنی یکسوئی نہ رہنا

بعض اوقات بیماری یا تھکن کے بعد دوبارہ مشق شروع کرنا مشکل لگتا ہے۔
ذہن پہلے جیسی یکسوئی نہیں دکھاتا۔
ایسے وقت میں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
آہستہ آہستہ جسمانی توانائی واپس آئے گی اور ذہن دوبارہ متوازن ہو جائے گا۔
بس شرط یہ ہے کہ آپ مشق چھوڑیں نہیں۔

 ناکامی کا احساس اور ہمت ہار دینا

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کئی دنوں یا ہفتوں کی مشق کے بعد جب ٹیسٹ کیا جائے تو نتیجہ توقع کے مطابق نہیں آتا۔
یہ مرحلہ بہت سے لوگوں کے لیے مایوسی کا سبب بنتا ہے۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اتنی محنت کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا
اب دوبارہ کیا فائدہ؟

یہ سوچ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یاد رکھیں ناکامی دراصل کامیابی کے قریب ہونے کی علامت ہے۔
جو لوگ اس لمحے ہمت نہیں ہارتے، وہی آگے بڑھ کر کامیاب ہوتے ہیں۔

 یکسانیت اور اکتاہٹ

لمبے عرصے تک ایک ہی مشق دہرانے سے بعض اوقات انسان بور ہو جاتا ہے۔
دل کہتا ہے اب کچھ نیا ہونا چاہیے۔
یہ وقت سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے
کیونکہ یہی وہ لمحہ ہے جب زیادہ تر لوگ راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔

اگر آپ اس مرحلے پر ثابت قدم رہے تو یہی یکسانیت کامیابی کے دروازے کھولتی ہے۔
یاد رکھیں  اکتاہٹ وہ دیوار ہے جس کے پیچھے منزل چھپی ہوتی ہے۔

 یقین کی کمی

ٹیلی پیتھی سیکھنے کے دوران کئی بار ذہن میں سوال آتا ہے
کہ کیا میں واقعی کر پاؤں گا؟

یہ وسوسے عام ہیں
مگر اگر یقین پختہ ہو تو وہ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔

جب آپ روزانہ خود سے یہ کہیں کہ
میں سیکھ سکتا ہوں،
میں کر سکتا ہوں

تو یہ سوچ دماغ میں ایک نیا اعتماد پیدا کرتی ہے۔
یقین جتنا مضبوط ہوگا، کامیابی اتنی قریب ہوگی۔

 صبر اور ثابت قدمی کا امتحان

ٹیلی پیتھی کا سفر لمبا ہے لیکن یہی زیادہ دورانیہ آپ کو پاور فل بنائے گا۔
زیادہ تر لوگ جلدی میں صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور منزل کے قریب پہنچ کر ہار مان لیتے ہیں۔
حالانکہ وہ درست سمت میں جا رہے ہوتے ہیں۔
 کامیابی ہمیشہ ان کے قدم چومتی ہے جو رُکتے نہیں۔
چاہے کتنا ہی وقت لگے
بس مسلسل آگے بڑھتے رہیں۔

جب یقین صبر اور محنت ایک ساتھ ہو جاتے ہیں
تو نتیجہ حیرت انگیز ہوتا ہے۔

تمام مشکلات اورذہنی مزاحمتوں کےباوجود آپ نے صبر کا دامن نہیں چھوڑن
ا آپ بس یہ ذہن میں رکھیں کہ منزل پر پہنچ کر موجودہ تمام مسائل ایک چٹکی میں حل  ہو جائیں گے۔ ان شاءاللہ
پھر آپ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دنیا کی ہر نعمت سے لطف اندوز ہوں گے ۔
آپ منزل پر پہنچنے کے بعد کی پر آسائش زندگی کا تصور ذہن میں رکھ کر صبر کے ساتھ مشقیں کرتے رہیں۔
یقین کیجیے آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔ ان شاءاللہ

2.5 2 votes
Article Rating

You may also like...

2.5 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
3 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
Guest
Sidra naz
15/10/2025 6:45 pm

بے شک سر ایسا ہی ہے،،اللہ نے چاہا تو آپ جیسے استاد کی رہنمائی میں ہم روز منزل پائیں گے۔۔۔

Guest
روبینہ پرویز
14/10/2025 11:16 pm

بلکل ٹھیک کہا سر آپ نے مشکلات تو آتی ہیں بس ھمیں اپنے دماغ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مستقل مزاجی سے مشقیں کرنی ہیں ہماری ہمت بڑھانے والے استاد کو اللہ جزائے خیر دے امین

Guest
Tadin
14/10/2025 9:35 pm

G sir ap n sare points correct kahen same ESA hi huta h but mustaqil mizagi in sb ko ruk deti h

error: Content is protected !!
3
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x