ٹیلی پیتھی سیکھیں خود پر سب سے بڑی سرمایہ کاری کریں

ٹیلی پیتھی سیکھیں خود پر سب سے بڑی سرمایہ کاری کریں
0 0 votes
Article Rating

ٹیلی پیتھی سیکھیں خود پر سب سے بڑی سرمایہ کاری کریں

ٹیلی پیتھی سیکھیں خود پر سب سے بڑی سرمایہ کاری کریں آج خود پر سرمایہ کاری کریں ورنہ کل حالات کی قیمت ادا کریں گے
یہ تحریر ہر اس فردکے لیے ہے جوعام زندگی نہیں
بلکہ کامیاب زندگی گزارانا چاہتا ہے۔
بیٹا
زندگی کے کچھ اصول ایسے ہوتے ہیں جو کتابوں میں نہیں لکھے ہوتے

وہ ہمیں وقت، تجربہ اور حالات سکھاتے ہیں۔

ان میں سے ایک اصول اگر انسان بروقت سمجھ لے

تو اس کی پوری زندگی کا رخ بدل جاتا ہے

کچھ پانے کے لیے کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔
ان میں سے ایک اصول یہ ہے
کچھ پانے کے لیے کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں
یہ کائنات کا قانون ہے۔
یہ اصول تعلیم، کاروبار، روحانیت
اور خاص طور پر ذہنی طاقت اور ٹیلی پیتھی پر مکمل لاگو ہوتا ہے۔
جو طاقت
بغیر قربانی کے مل جائے
وہ طاقت نہیں
صرف دھوکہ ہوتی ہے۔

ٹیلی پیتھی سیکھیں خود پر سب سے بڑی سرمایہ کاری کریں

آسان راستےاورمحدود نتائج
ہم سب چاہتے ہیں
کامیابی جلد مل جائے
بغیر زیادہ محنت کے
بغیر قربانی کے۔
لیکن حقیقت یہ ہے
جو طاقت، علم یا کامیابی بغیر قیمت ادا کیے مل جائے

وہ یا تو وقتی ہوتی ہےیا پھر اس میں وہ دم نہیں ہوتا
جو انسان کو اندر سے بدل سکے۔
اسی لیے دنیا میں خواہش رکھنے والے بہت ہیں
لیکن طاقت حاصل کرنے والے کم۔
اولاد پر سرمایہ کاری پر ہم پیچھے کیوں نہیں ہٹتے؟
ٹیلی پیتھی ان لوگوں کا راستہ نہیں جو صرف دیکھنا چاہتے ہیں
یہ ان لوگوں کا راستہ ہےجوکچھ  بننا چاہتے ہیں۔
ذرا پنی اولاد  پر کی گئی سرمایہ کاری  پر غور کریں۔جب بات اپنی اولاد کی تعلیم اور مستقبل کی آتی ہے
تو ہم کیا کرتے ہیں؟ہم انہیں مہنگے سکولوں میں داخل کرواتے ہیں
ہزاروں روپے ماہانہ فیس دیتے ہیں
آنے جانے کے اخراجات الگ
کتابیں، یونیفارم، سب کچھ۔
اکثر والدین یہ بھی نہیں سوچتےکہ یہ مہنگا ہے یا سستا۔
کیوں؟
کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہےکہ یہ خرچ نہیں سرمایہ کاری ہے۔

اب ذرا رک کر سوچیں اور  خود سے پوچھیں
جو علم آپ کی سوچ بدل دیتا ہےاور آپ کو ذہنی طور پر طاقتور بنادیتا ہے
آپ کے فیصلے بدل دیتا ہےآپ کا ردِعمل بدلتا ہے۔
اور جب انسان بدل جائےتو اس کی اولاد اور آنے والی نسلیں خود بخود بدل جاتی ہیں۔
یہ ایسا علم ہےجو نسلوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔
ٹیلی پیتھی سیکھیں خود پر سب سے بڑی سرمایہ کاری کریں

تو پھر سوال یہ ہے
کیا یہ علم واقعی مہنگا ہے؟
یا پھر ہم اس کی قدر کا اندازہ ہی نہیں لگا پا رہے؟
اصل مسئلہ پیسہ نہیں ترجیح ہے

اکثر سٹوڈینٹس کہتے ہیں
ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس کی فیس زیادہ ہے
لیکن ذرا ایمانداری سے خود سے پوچھیں
روزانہ موبائل پر کتنا وقت اور پیسہ خرچ ہو رہا ہے؟
انٹرنیٹ پیکجز؟
وقتی تفریح
وقتی مزہ؟
وہاں دل نہیں کہتا کہ یہ مہنگا ہے۔
لیکن جب بات آتی ہے


اپنے ذہن کی طاقت کو بیدار کرنے کی
تو فوراً دل کہتا ہے
یہ بہت زیادہ پیسے ہیں
اصل مسئلہ پیسہ نہیں
اصل مسئلہ سوچ ہے اورسمجھ کی کمی ہے۔
ٹیلی پیتھی ایسا زبردست علم کہ  اس کے استعمال سے آپ ہر ناممکن کام آسانی سے کر سکیں کیا یہ آپ کی  اولاد کے سکول سے کم اہم ہے؟

 اگر 10٪ وقت خود کو دے دیں؟
آپ میں سے اکثر لوگ جاب یا کاروبار کرتے ہیں
روزانہ 8 سے 12گھنٹے  اپنا وقت دیتے ہیں۔
کیونکہ اگر وقت نہیں دیں گے تو آمدن نہیں ہوگی۔ آمدن ضروری ہے
اب ایک بار پھر سوچیں
اگر آپ اپنے دن کا صرف 10٪ وقت یعنی آدھا یا ایک گھنٹہ
اپنے ذہن کی طاقت اور اپنی صلاحیتوں کو ایکٹیو کرنے میں لگا دیں
تو کیا آپ کی زندگی ویسی ہی رہے گی؟یا آپ کے حالات ایسے ہی رہیں گے؟ 
نہیں …..ہرگزنہیں۔
لیکن ہم یہ وقت کیوں نہیں دیتے؟
کیونکہ
ذہنی طاقت کا فائدہ
فوراً نظر نہیں آتا
اور کمزور ذہن صبر نہیں کرتا۔

 ٹیلی پیتھی کیا ہے؟

ٹیلی پیتھی کوئی تماشا نہیں
کوئی کھیل نہیں


اور کوئی وقتی تجربہ نہیں۔
یہ
ایک ذمہ دار اور حقیقی علم ہے جو ناصرف اپنا ذہن کنٹرول کرناسکھاتا ہے
توجہ کو فولاد بناتا ہے
فیصلوں میں طاقت دیتا ہے
انسان کو حالات کا غلام بننے سے بچاتا ہے
بلک اس کی پاور سے  دوسروں کے ذہن پڑھ سکتے ہین ان سے حسب مرضی کام لے سکتے ہیں 

لیکن یہ علم ہر کسی کے لیے نہیں ہوتا۔

 

یہ طاقت اسی کو ملتی ہےجو اس کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہو۔
ا
سے سیکھانے کے لیے جو ماہانہ فیس رکھی گئی ہےیہ کوئی فیس نہیں  بلکہ احساس فیس ہے
… یہ تو آپ سب کے لیے یک نایاب موقع ہے
آپ
اس پوائنٹ  کو بہت غور سے سمجھیں
آپ جو ماہانہ فیس ادا کر رہے ہیں
یہ اتنی کم رقم ہے
کہ دنیا میں کوئی بھی استاد  ٹیلی پیتھی اتنے کم پیسوں سے یہ علم کبھی نہیں سیکھا سکتا۔
وہ اس کو اپنی اور اس
 علم کی توہین سمجھے گا ۔
اصل حقیقت یہ ہے
آپ کو ابھی اندازہ ہی نہیں
کہ آپ کس درجے کی ذہنی طاقت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

یہ وہ علم ہے
جو عام لوگوں کو نہیں ملتا
یہ وہ طاقت ہے
جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں 
آپ اسے
انتہائی کم قیمت پر
سیکھ رہے ہیں
لیکن اس کا فائدہ
آپ پوری زندگی اٹھائیں گے۔
ہمیشہ یاد رکھیں
علم مہنگا نہیں ہوتا
مہنگی ہماری ترجیحات ہوتی ہیں۔

ہم غلط جگہ آسانی سے وقت اور پیسہ لگا دیتے ہیں

لیکن صحیح جگہ لگانے سے گھبرا جاتے ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ صحیح علم
ہمیں بدل دیتا ہے
اور تبدیلی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
ا
ور یہ کورس ہمت والوں کے لیے ہے۔
آج کا فیصلہ کل کی آزادی
آج آپ کے پاس دو راستے ہیں
آج خود پر سرمایہ کاری کریں
اپنے ذہن کی سپر پاور کو بیدار کریں اور ور اسے اس کی اہمیت سمجھتے ہوئے سیکھیں ۔
یا پھرکل حالات کے ہاتھوں اس سے کہیں زیادہ قیمت ادا کریں۔
جو آج خود کو مضبوط نہیں بنائے گا
کل اسے دوسروں کے فیصلوں پر جینا پڑے گا۔
اور جو آج اپنے ذہن کی پاورز کو ایکٹیو کر لے گا
وہ غلام نہیں بلکہ شان سے زندگی گزارے گا۔

0 0 votes
Article Rating

You may also like...

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
15 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
ٹیلی پیتھی اور ٹیلی کینیسس ایک ساتھ کیوں نہیں چلتے؟
22/01/2026 7:00 pm

[…] ٹیلی پیتھی اور ٹیلی کینیسس ایک ساتھ کیوں نہیں چلتے؟ […]

Guest
مدثر ڈوگر
27/12/2025 7:30 pm

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بے شک اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ٹیلی پیتھی علم واقعی بہت ہی اعلی زبردست اور سب سے نایاب علم ہے۔بالکل ویسے ہی ہم لوگ بھی کم نہیں ہیں میں ہمیشہ خود کو بہت ہی خوش قسمت سمجھتا ہوں کیونکہ ہر دور میں مجھے اپنے زمانے کے اور اپنے میدان کے بہترین اساتذہ سے علم حاصل کرنے کا موقع ملا مجھے تقریبا چھ سات سال سے اس علم کے بارے میں کھوج تھی۔پھر ایک دن مجھے استاد جی کے بارے میں معلوم ہوا تو میں نے فورا رابطہ کیا اور داخلہ لے لیا لیکن معاشی تنگی کی وجہ سے میں اپنا کورس نہ کر سکا 2025 کے اخر میں میں نے دوبارہ داخلہ لیا مجھے شوق تھا کہ میں اپنے استاد جی سے ملاقات کروں اور اس علم کے بارے میں گہرائی سے جان سکوں میں نے استاد جی سے ملاقات کی یقین کریں واللہ ہمارے استاد جی بہت ہی شفیق مہربان اور دوستانہ طبیعت کے مالک ہیں۔پہلے میں ریگولر کلاسز میں تھا لیکن چند دنوں کے بعد جب استاد جی نے اسپیشل کورس شروع کیا تو میں نے فورا اس کورس میں داخلہ لے لیا اپ سب بہن بھائی جانتے ہیں اسپیشل کورس کی فیس زیادہ ہے بنسبت ریگولر کورس کے۔
میرے بھائیو بات یہ ہے ہم سب ایک فیملی ہے انشاءاللہ ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کے بعد ہم ضرور اسی طرح اپس میں کوارڈینیشن سے اپنے اس تعلق کو اور مضبوط بنائیں گے استاد محترم نے ٹھیک فرمایا ہے۔کہ جس طرح ہم لوگ اپنے لیے برانڈڈ چیزیں پسند کرتے ہیں موبائل سے لے کر جوتے تک اور جیکٹس اور کپڑوں سے لے کر چشموں تک ویسے ہی یہ علم بھی ایک برانڈ ہے ٹیلی پیتھی ماسٹر ایک برانڈ ہے اس سے بڑا برینڈ کوئی نہیں اس سے بہترین سرمایہ کاری کوئی نہیں ہمارے استاد محترم درویش طبیعت کے انسان ہے میں نے جب ان سے ملاقات کی تو ان کو بہت ہی پیار کرنے والا خیال رکھنے والا اور ہمارے لیے پریشان ہونے والا پایا تو میں نے اپنے استاد کو بولا 
انمول ہو کر مفت ہو جانا درویشی ہے 
یقین کریں ہر ایک نے اپنی قبر میں جانا ہے میرا تجربہ کہتا ہے کہ ہمیں اتنے اچھے استاد اتنی اسانی سے اور اتنے نزدیک اگر ہمیں مل گئے ہیں تو یہ اللہ کی ہمارے اوپر مہربانی ہے 
اپ سب بہن بھائی یقین کریں صرف اس موضوع پر کہ ٹیلی پیتھی کی فیس یا ٹیلی پیتھی کے اوپر سرمایہ کاری اس کے اوپر میں کتاب لکھ سکتا ہوں اللہ کے حکم سے ہمارے استاد محترم نے تو کچھ خیال رکھ کے کچھ پاکستان کے حالات کو سمجھتے ہوئے اور ہم جیسے عام لوگوں کو بھی یہ علم پہنچانے کے لیے بیماری کی حالت میں بھی ہمارے لیے اتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں جتنی ہم خود بھی اپنے لیے نہیں کرتے میں استاد محترم سے مل چکا ہوں اس لیے اپ لوگوں سے یہ بات کہہ رہا ہوں ہمارے استاد ایک عظیم انسان ہے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں صحیح استاد عطا فرمایا ہے ۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے استاد کی امیدوں پر پورا اترے اور یہ سوچتے ہوئے کہ ہم جو فیس ادا کر رہے ہیں یہ اس کا ہدیہ نہیں بنتا یہ اس علم کے معیار کے مطابق کچھ بھی نہیں ہے وما علینا الا البلاغ

Guest
عدیل ظفر
27/12/2025 1:06 pm

ماشاءاللہ بہت خوبصورت بات کہی اپ نے نہیں۔
اس تحریر میں اصل میں دو باتوں کا ذکر واضح ہے۔
ایک تو یہ کہ ہم پراپر اس علم کے لیے ٹھوس ٹائم نہیں نکال رہے اس کو جس طرح سیریس لینا چاہیے اس طرح سیریس نہیں لیا جا رہا۔اس حوالے سے میری شروع سے یہی رائے رہی ہے کہ ہم نے اس کا عملی نمونہ نہیں دیکھا میرے نزدیک یہ وجہ سب سے بڑی ہو سکتی ہے۔
دوسرا ذکر یہ ہے کہ اس علم کی ہم اصل قدر و قیمت نہیں جان پائے نہ ہی پیسوں کی صورت میں اور نہ ہی اہمیت کی صورت میں۔
اللہ تعالی ہمیں اس میں کامیاب کرے اور ہمارے استاد محترم اور تمام بھائی بہنوں کی محنت کا پھل عطا فرمائے۔

Guest
Abdul Quddoos
26/12/2025 10:54 pm

بہت شاندار تحریر ہے۔ اگر احساس کیا جائے تو آج کے زمانے میں ایسا علمی مواد ہی ناپید ہو چکا ہے اور اس طرح کے کسی علم۔کو سکھانے والے بدلے میں لاکھوں کروڑوں کی مانگ کرتے ہیں لیکن اُستادِ محترم کا اپنے تمام اسٹوڈنٹس پر یہ احسانِ عظیم کے کہ وہ بے لوث ہو کر صرف انسانیت کی عظمت کو مقدّم رکھتے ہوئے یہ علم اور سب سے بڑھ کر اپنا قیمتی وقت دے رہے ہیں۔ اللّٰه تعالیٰ آپ کو آباد رکھے۔ آمین۔
واقعی یہ علم ہر ایک کے لیئے نہیں ہے اور نا ہی ہر ایک کے بس کی بات ہے۔ اس علم کو اللّٰه تعالیٰ نے اسی لیئے اتنا مشکل بنایا ہے کیوں کہ یہ صرف اُن کی انسانوں کو حاصل ہوتا ہے جو اللّٰه تعالیٰ نے مقرر کیئے ہوتے ہیں اور جن سے اللّٰه تعالیٰ نے کوئی بڑا کام لینا ہوتا ہے۔
ہم اللّٰه تعالیٰ کے اس کرم اور اُستادِ محترم کی عنایت پر اللّٰه تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔ اللّٰه تعالیٰ ہم سب کو کامیابی اور اُستادِ محترم کی اُمیدوں پر پورا اترنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
آمین۔

Guest
Rabia
26/12/2025 9:24 pm

Billul sahi baat hai
Prr hum sab rat race ka shikar hain
Hum sab ko wohi haqeeqat lagta hai jo sarri duniya krr tahi ho

Guest
Tadin
26/12/2025 8:37 pm

Zaberdust tehrer h hm rozana itne pesa kharch krte hn or Apne ap p hi invest ni krte y to ESA ilm h joke samne pesa bekar h

Guest
Abdul Maroof
26/12/2025 6:33 pm

ماشاءاللہ سر بہت ہی شاندار ہے اور بہت ہی قیمتی تحریر ہے اپ کا بہت شکریہ ہمیں سمجھانے کے لیے اور ہمیں احساس دلانے کے لیے

Guest
Najam ul hassan
26/12/2025 11:17 am

ماشاءاللہ سر بہت ہی عمدہ تحریر ہے ۔اس علم سے زندگی بسر کرنے کی سمت کا پتہ چل جاتا
ہے۔اور یہ علم سیکھ کر تمام انسانوں کی اور اپنی زندگی سوار سکتے ہیں ۔اور آ پ استاد محترم سے ہمیں شعور کی آنکھ کھولنے میں ہمارے رہنما ہیں ۔
شکر الحمدللہ اس علم سے آپ ہماری رہنمائی کر رہے ہیں ۔۔اللہ کریم ہم سب کو کامل طور عمل پیرا ہونے کی توفیق دے آمین ۔

Guest
روبینہ پرویز
26/12/2025 10:25 am

ماشا اللہ سر آپ کی ہر تحریر شاندار ہوتی ہے
اور سر جس نے بھی زندگی میں بہت زیادہ ٹھوکریں کھائ ہونگی میری طرح وہ یقینا، اس علم کی قدر بھی کرے گا اور اسکی اھمیت کو بھی جانے گا
اور سر یہ بات تو سچ ہے کی کچھ بڑا کرنے کے لیے زندگی میں کچھ نہ کچھ قربانی تو دینی پڑتی ہے
اور ہم جو کچھ سیکھ رہے ہیں وہ ہماری زندگی میں ہمیں ہر فیلڈ میں کامیاب کرنے والا علم ہے اور ہم اسکی فیس بھی اتنی زیادہ نہیں دے رہے ہیں اتنا تو لوگ فضول خرچ کر دیتے ہیں
ہم سب کو اس لازوال علم کی اھمیت کو سمجھنا چاہیے جزاک اللہ

Guest
Sidra naz
26/12/2025 12:56 am

ماشاءﷲ سر آپ کی ایسی تحریریں پڑھ کر بہت ہمّت ملتی ہے حوصلہ جواں ہوتا ہے اور اس بات کا فخر ہوتا ہے کہ ہم کتنا عظیم علم حاصل کر رہے ہیں عنقریب ہم ٹیلی پیتھی ماسٹر بن جائیں گے اور اپنے خواب و مقاصد کو پورا کر سکیں گے اپنی پوشیدہ طاقت کو بر سر پیكار لا سکیں گے آپ کی معیت میں انشاءﷲ یہ سوچ کر ہی دل خوش ہوجاتا ہے۔۔۔

Guest
Sohail
25/12/2025 11:03 pm

Zabardast sir. beshak ye ilm aisa nayaab ilm hai k iski jitni kadr ki jaye kam hai. Allah apko iska ajar de Ameen. maine khud bhi apki classes join hone se pehle bohat jagao pe telepathy courses etc search kye. laikin kahi pe recorded videos thi toh kahi pe internet blogs se uthai hui posts.

Beshak mai poori koshish krnga k is ilm mai aagay jane ki. In sha Allah taala agar zindagi rahi toh is ilm mai apki zer e nigrani phd bhi krnga ustaad ji

Guest
Asia Nafees
25/12/2025 7:38 pm

بنیادی طور پر یہ تحریر اس کرشماتی علم کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے ، اس کو سیکھنے کے لئے دل میں تڑپ اور عزم مصمم ہونا ضروری ہے اور سب سے ضروری بات یہ کہ یہ علم کمزور ذہین کو آراستہ نہیں کر سکتا، اس کو سیکھنے کے لئے صبر اور تسلسل کی ضرورت ہے

Guest
Mohammad Kaif
25/12/2025 6:44 pm

Assalamualaikum, ustaad e mohtram hum is elm se na ashna hai isi liye hum is ki qadar w manzlat se pare hai..
Hum sirf mehnat kar rahe hai lekin us ki ehmiyat nahi jante…
Tehrir sirf hamare andar shauq hi nahi, bulke us ki ehmiyat, zaroorat aur us ko hasil karne ka junoon paida Karti hai…
Bohat la jawaab tehrir hai..

Guest
ZA.
25/12/2025 6:21 pm

ماشاءاللہ، بہت زبردست تحریر ہے!
ٹیلی پیتھی واقعی دنیا کا سب سے طاقتور اور پراسرار ترین علم ہے۔ اس کی حقیقت بہت ہی کم خوش نصیب لوگوں پر آشکار ہوتی ہے۔

Guest
Hakeem asif Raza
25/12/2025 6:12 pm

ماشاءاللہ سر بہت زبردست تحریر ہے واقعا عام لوگوں کو اس علم کی اھمیت کا اندازہ نہیں ہوتا ہے اسی لیے وہ اس کی طرف توجہ کم دیتے ہیں اور جو دیتے ہیں وہ اس علم کے مطابق نہیں دیتے اسی لیے کامیابی حاصل کرنے میں مسائل آتے ہیں

15
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x