ٹیلی پیتھی پاور کا ایکٹیو نہ ہونا اتفاق نہیں یہ ایک سائنسی خفیہ اور منظم سازش ہے

ٹیلی پیتھی پاور کا ایکٹیو نہ ہونا اتفاق نہیں
یہ ایک سائنسی خفیہ اور منظم سازش ہے
خصوصی تحریر: غلام مصطفیٰ مہر
انسانی تاریخ میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جہاں لوگ میلوں دور بیٹھے اپنے پیاروں کی حالت محسوس کر لیتے یا بغیر الفاظ کے پیغام پہنچا دیتے تھے۔
آج ہم اسے محض ‘اتفاق’ کہتے ہیں مگر حقیقت میں یہ انسانی دماغ کی ایک بیدار حالت تھی
جس کا مرکز پائنیل گلینڈ ہے۔
بدقسمتی سے جدید دور میں یہ صلاحیت آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے
ٹیلی پیتھی پاور کا ایکٹیو نہ ہونا اتفاق نہیں یہ ایک سائنسی خفیہ اور منظم سازش ہےاور یہ صرف وقت کے گزرنے کا نتیجہ نہیں
بلکہ ہمارے طرزِ زندگی کے ذریعے ہونے والی ایک خاموش تباہی ہے۔
غلط خوراک اور پائنیل گلینڈ کی خاموش تباہی
پائنیل گلینڈ دماغ کے بالکل درمیان ایک چھوٹا سا نہایت حساس غدود ہے تقریباً ایک چاول کے دانے جتنا۔
یہ غدود دماغی سگنلز وجدان اور ٹیلی پیتھی جیسے ذہنی رابطوں کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
یہ میلاٹونن ہارمون پیدا کرتا ہے، جو نیند موڈ اور ذہنی توازن کو کنٹرول کرتا ہے۔
جب ہم روزانہ کی بنیاد پر غلط خوراک استعمال کرتے ہیں تو اس کا سیدھا اثر پائنیل گلینڈ پر پڑتا ہے۔
مثلاً زیادہ میٹھا اور پروسیسڈ شوگر، کیک، کینڈی، سوڈا ڈرنکس وغیرہ میں موجود چینی دماغ میں سوزش پیدا کرتی ہے۔
فاسٹ فوڈ
برگر، فرائز اور تلی ہوئی چیزیں، جو ٹرانس فیٹس اور کیمیکلز سے بھری ہوتی ہیں۔
ڈبہ بند غذائیں
کنزرویٹڈ فوڈز میں جیسے جو دماغی خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مصنوعی مشروبات
انرجی ڈرنکس یا ڈائیٹ سوڈا، جو مصنوعی میٹھاس سے بھرے ہوتے ہیں۔
سائنسی طور پر یہ غذائیں دماغ میں غیر ضروری مادوں (جیسے کیلشیم اور فلورائیڈ) کے جمع ہونے کا سبب بنتی ہیں۔
یہ مادے پائنیل گلینڈ کے ارد گرد ایک سخت تہہ بنا دیتے ہیں، جسے کیلسیفیکیشن کہا جاتا ہے۔
حقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تہہ غدود کی کارکردگی کو 30-50% تک کم کر سکتی ہے
مثال کے طور پر ہارورڈ میڈیکل سکول کی ایک سٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ فلورائیڈ کا زیادہ استعمال پائنیل گلینڈ کو کیلسیفائی کرتا ہے۔
تصور کریں کہ آپ کا موبائل فون کا اینٹینا ہے جو سگنل پکڑتا ہے۔
اگر اس پر موٹا پلاسٹک کا کور چڑھا دیا جائے تو سگنل کمزور ہو جائیں گے۔
بالکل ایسے ہی، پائنیل گلینڈ پر تہہ جمنے سے ٹیلی پیتھی کے ذہنی سگنلز بلاک ہو جاتے ہیں۔
عملی حل: تازہ سبزیاں، پھل، نٹس اور پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ دماغ ہو سکے۔
خوف اور ذہنی دباؤ ٹیلی پیتھی کی سب سے بڑی رکاوٹ
ٹیلی پیتھی کے لیے دماغ کا پرسکون اور آرام دہ ہونا ضروری ہے۔
یہ ایک ایسی حالت ہے جہاں دماغ “الفا ویوز میں کام کرتا ہے
جو گہری سوچ اور احساسات کو ممکن بناتی ہیں۔ لیکن آج کا انسان مسلسل خوف اور تناؤ میں گھرا ہے۔

خبریں اور سوشل میڈیا
ہر وقت بیماری، مہنگائی، جنگ، قدرتی آفات یا مستقبل کے خدشات کی باتیں۔
-کام کا دباؤ ڈیڈ لائنز، مقابلہ بازی اور عدم تحفظ کا احساس
رشتوں کی پیچیدگیاں یا مالی پریشانیاں۔
جب خوف غالب آتا ہے تو دماغ کا فائٹ یا فلائٹ سسٹم ایکٹیو ہو جاتا ہے جو صرف بچاؤ پر فوکس کرتا ہے۔
اس حالت میں پائنیل گلینڈ کمزور ہو جاتا ہےکیونکہ یہ غدود آرام کی حالت میں بہتر کام کرتا ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وجدان کمزور، دوسروں کے احساسات سمجھنے کی صلاحیت ختم اور ٹیلی پیتھی ناممکن۔
سٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کرونک سٹریس ہارمون کورٹیسول کی سطح بڑھاتا ہے، جو پائنیل گلینڈ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر آپ شدید گھبراہٹ میں ہوں تو سامنے والے کی بات بھی ٹھیک سے نہیں سمجھ پاتے۔
تو پھر ٹیلی پیتھی سے میسج کرنا کیسے ممکن ہو گا؟
ہمارے دماغ کی جادوئی طاقت اور مذاق کا ڈر
کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے دماغ کے اندر ایک ایسی طاقت چھپی ہوئی ہے
جس سے آپ دوسروں کے خیالات کو سمجھ سکتے ہیں؟
اسے “ٹیلی پیتھی” کہتے ہیں۔
لیکن یہ طاقت آہستہ آہستہ ختم کیوں ہو رہی ہے؟
اس کی وجہ کوئی مشین نہیں، بلکہ لوگوں کا مذاق اڑانا ہے۔

مذاق کیسے ہماری طاقت چھین لیتا ہے؟
سوچیےاگر آپ ایک نئی زبان سیکھ رہے ہوں اور کوئی آپ کا مذاق اڑائے، تو آپ ڈر کے مارے بولنا چھوڑ دیں گے۔
بالکل اسی طرح، جب لوگ ہماری ذہنی طاقتوں کو “وہم” یا “پاگل پن” کہتے ہیں، تو ہمارا دماغ ڈر جاتا ہے۔
ہمارا دماغ ایک بہت ہوشیار استاد کی طرح ہے۔ جس چیز کو آپ استعمال نہیں کرتے، دماغ اسے “بیکار” سمجھ کر بند کر دیتا ہے۔
جب ہم لوگوں کے ڈر سے اپنی ان طاقتوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیتے ہیں، تو دماغ اس کا راستہ ہی کاٹ دیتا ہے۔
یقین کا جادو: پلاسیبو اور نوسیبو
ہمارا دماغ ہمارے یقین پر چلتا ہے
اچھا یقین (پلاسیبو)
اگر آپ سوچیں کہ “میں یہ کر سکتا ہوں”، تو آپ کا جسم طاقتور ہو جاتا ہے۔
برا یقین (نوسیبو)
اگر آپ شک کریں کہ “میں تو بہت کمزور ہوں”، تو آپ کا دماغ سگنل بھیجنا بند کر دیتا ہے اور آپ واقعی کمزور ہو جاتے ہیں۔
ہمارے دماغ کے بیچ میں ایک چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے جسے پائنیل گلینڈ کہتے ہیں۔
یہ ایک اینٹینا کی طرح ہے جو سگنل پکڑتا ہے لیکن اسے چلانے کے لیے “خود اعتمادی” کے پٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں عام کیوں بنایا جا رہا ہے؟
کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ یہ سمجھیں کہ آپ “کمزور” اور “عام” ہیں۔
کیونکہ جب آپ کو اپنی طاقت کا پتہ نہیں ہوگا،
تو آپ دوسروں کے غلام بن کر رہیں گے۔
یہ ایک ایسی جنگ ہے جہاں ہتھیار گولی نہیں بلکہ آپ کے دل میں ڈالا گیا “شک” ہے۔
آپ پائنیل گلینڈکی طاقت دوبارہ کیسے ایکٹیو کر سکتے ہیں؟
آج کل ہمارے مصروف اور مصنوعی طرزِ زندگی کی وجہ سے یہ طاقت آہستہ آہستہ کم ہو گئی ہے۔
لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ آپ اسے دوبارہ فعال کر سکتے ہیں۔
- قدرتی سورج کی روشنی میں وقت گزاریں صبح یا شام کی ہلکی دھوپ پائنیل گلینڈ کو فعال رکھتی ہے کیونکہ یہ روشنی آنکھوں کے ذریعے دماغ کو سگنل بھیجتی ہے۔
روزانہ 15-30 منٹ باہر رہیں۔ یہ میلٹونن کے توازن کو بہتر بناتا ہے اور موڈ کو تروتازہ رکھتا ہے۔ - ڈیجیٹل اسکرینز اور مصنوعی روشنی سے وقفہ لیں موبائل، کمپیوٹر اور ٹی وی کی نیلی روشنی (بلیو لائٹ) پائنیل گلینڈ کی فعالیت کو کم کرتی ہے۔
شام کے وقت اسکرین استعمال کم کریں یا بلیو لائٹ فلٹر استعمال کریں۔
رات کو کمرے کو مکمل تاریک رکھیں تاکہ میلٹونن کی پیداوار بڑھے۔ - صحت مند اور قدرتی خوراک کھائیں سبز پتوں والی سبزیاں (پالک، بروکولی) بیریز، خشک میوے (بادام، اخروٹ)؎
سمندری غذائیں (مچھلی یا الجی) اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذائیں (تربوز، ٹماٹر، خام چاکلیٹ) مفید ہیں۔
پروسیسڈ فوڈ، زیادہ چینی اور فلورائیڈ والی چیزوں (بعض ٹوتھ پیسٹ یا پانی) سے پرہیز کریں
کیونکہ یہ کیلسیفیکیشن بڑھا سکتے ہیں۔
آرگینک اور تازہ خوراک مجموعی صحت کو بہتر بناتی ہے۔ - میڈیٹیشن اور گہری سانس کی مشقیں کریں
روزانہ 10-20 منٹ خاموش بیٹھ کر گہری سانسیں لیں
یہ تناؤ کم کرتی ہے، دماغ کو ریلیکس کرتی ہے اور پائنیل گلینڈ کی ساخت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے ۔
تھرڈ آئی پر فوکس کرنے والی مشقیں جیسے آنکھیں بند کر کے پیشانی کے درمیان توجہ مرکوز کرنا روحانی سکون دیتی ہیں۔ - رات کو باقاعدہ اور اچھی نیند لیں پائنیل گلینڈ رات کے اندھیرے میں سب سے زیادہ فعال ہوتا ہے
اور میلٹونن پیدا کرتا ہے۔ رات 10-11 بجے تک سونے کی عادت ڈالیں اور 7-9 گھنٹے کی نیند یقینی بنائیں۔
دیر تک جاگنا یا مصنوعی روشنی اس کی طاقت کم کرتی ہے۔ - قدرتی آوازیں سنیں اور یوگا/واک کریں پرندوں کی آوازیں، پانی کی لہریں، جنگل کی آوازیں یا نرم موسیقی دماغ کو ریلیکس کرتی ہے۔
یوگا (جیسے سورج کو سلام یا پراینایاما) اور فطرت میں وقت گزارنا پائنیل گلینڈ کی صحت کو سپورٹ کرتا ہے۔ - پانی زیادہ پیئیں اور ڈیٹاکس مشقیں کریں
فلٹرڈ پانی پیئیں اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھیں۔
کچھ لوگ سپلیمنٹس جیسے وٹامن K2یگنیشیم یا آئیوڈین تجویز کرتے ہیں۔
یاد رکھیں یہ مشقیں سائنسی طور پر نیند، موڈ اور صحت بہتر کرنے میں مددگار ہیں۔
خوشبوئیں جو پائنیل گلینڈ کو متحرک کرنے میں مدد دیتی ہیں
قدیم روایات اور جدید آرومتھراپی میں کچھ خاص خوشبوئیں اس غدود کو فعال کرنے، تناؤ کم کرنے اور اندرونی بصیرت بڑھانے میں مددگار سمجھی جاتی ہیں۔
یہ خوشبوئیں آپ کی روزمرہ زندگی میں سکون اور اندرونی طاقت بڑھا سکتی ہیں۔
سائنسی طور پر، کچھ مطالعات جیسے لیوینڈر آئل پر دکھاتی ہیں کہ یہ میلٹونن کی سطح بڑھا سکتا ہے اور دماغ کو ریلیکس کرتا ہے۔
تھرڈ آئی کا کھلنا زیادہ تر ذاتی تجربات اور روایتی علم پر مبنی ہیں۔
یہ خوشبوئیں استعمال کرنے سے دماغ پرسکون ہوتا ہے، جو بالواسطہ طور پر پائنیل گلینڈ کی صحت کو سپورٹ کرتی ہیں۔
لیوینڈر سب سے زیادہ تحقیق شدہ آئل۔
یہ تناؤ کم کرتا ہے، نیند بہتر بناتا ہے اور میلٹونن کی سطح بڑھاتا ہے۔
مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی خوشبو دماغ کو ریلیکس کر کے پائنیل گلینڈ کی فعالیت کو سپورٹ کرتی ہے۔ میڈیٹیشن کے دوران استعمال کریں۔
فرینکنسینس روحانی روایات میں “تھرڈ آئی” کو کھولنے کے لیے مشہور۔
یہ دماغ کو واضح کرتا ہے، میڈیٹیشن گہری کرتا ہے اور انٹوئیشن بڑھاتا ہے۔ پیشانی پر لگائیں یا ڈفیوز کریں۔
صندل یہ غدود کو آکسیجن فراہم کرتا ہے اور ذہنی وضاحت دیتا ہے۔
قدیم یوگا اور مراقبہ میں استعمال ہوتا ہے، جو پائنیل گلینڈ کو متحرک کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کلیری سیج ( ذہنی دھند کو دور کرتا ہے
تخلیقی صلاحیت بڑھاتا ہے اور ہارمونز کو بیلنس کرتا ہے۔
تھرڈ آئی ایکٹیویشن کے لیے بہترین۔
پائن یا سیڈر ووڈ قدرتی جنگل کی خوشبو دماغ کو ریلیکس کرتی ہے اور پائنیل گلینڈ کو سپورٹ کرتی ہے۔
کلیری سیج ذہنی دھند کو دور کرتا ہے
تخلیقی صلاحیت بڑھاتا ہے اور ہارمونز کو بیلنس کرتا ہے۔
تھرڈ آئی ایکٹیویشن کے لیے بہترین۔
پائن یا سیڈر ووڈ قدرتی جنگل کی خوشبو دماغ کو ریلیکس کرتی ہے اور پائنیل گلینڈ کو سپورٹ کرتی ہے۔
دیگر مفید: روزمیری، جونپر بیری، پیٹچولی یہ ذہنی فوکس اور گراؤنڈنگ دیتے ہیں۔
آج کی خصوصی تحریر کے سوالات
سوال نمبر1: ٹیلی پیتھی پاور کےایکٹیو نہ ہونے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
سوال نمبر2: ذہنی دباؤ اور خوف ٹیلی پیتھی پاور کو کیوں روکتے ہیں؟
سوال نمبر3: یقین اور شک ذہنی طاقت پر کیا اثر ڈالتے ہیں؟





Answer 1: telepathy power active na hone ki bht si reasons hai. Aik reason toh ghalat ghaza hai kyu ki hum wo cheeze khaate hai jisse pineal gland k ird gird minerals jama ho jate hai. Uske ilawa aim reason ye bhi hai humari routine ya system aisa ban gaya hai jsse hum technology ka ziada istemal krte hai. Jisse humara pineal gland thora deactive ho jata hai.
Ans 2: zehni dabao aur khauf ki wajah se humara dimagh fight or flight mode mai chala jata hai. Pineal gland hamesha sakoon k waqat hi sahi se kaam krta hai.
Ans 3: placebo aur nocebo affect humare dimagh pe bht ziada asar andaaz hota hai. Agr hum positive sochnge toh positive outcome hi ayega.
سوال نمبر1: ٹیلی پیتھی پاور کےایکٹیو نہ ہونے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟
وجوہات تو لاتعداد ہو سکتی ہیں مگر اصل وجوہات یا بنیادی وجوہات میں سب سے پہلے یقین کی کمی، پھر غیر متوازن روزمرہ کے معمولات، پھر مشقوں میں کمی یا غلط مشقیں کرنا یا مشقوں کو مطلوبہ معیار کے مطابق نا کرنا، پھر رات دیر تک جاگنا، ٹی وی اور موبائل کا زیادہ استعمال اور غیر معیاری کھانے اور غذا ، یہ سب بنیادی وجوہات ہیں۔
سوال نمبر2: ذہنی دباؤ اور خوف ٹیلی پیتھی پاور کو کیوں روکتے ہیں؟
کیو
ں کہ جب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ یہ کام۔نہیں کر سکتا تو پھر وہ کام ہوتا بھی نہیں۔ خوف ایک ایسی رکاوٹ ہے جو اعصاب کو سکون کی حالت میں نہیں رہنے دیتا اور اسی وجہ سے یکسوئی اور اعتماد کی کمی کی وجہ سے ٹیلی پیتھی پاورز ایکٹیویٹ نہیں ہوتیں یا بہت وقت لیتی ہیں۔
سوال نمبر3: یقین اور شک ذہنی طاقت پر کیا اثر ڈالتے ہیں؟
شک ایک ایسا کینسر ہے کہ اسکے بعد مہنگی سے مہنگی انسان بھی ناکام ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر پورے یقین سے کوئی کام کیا جائے تو ناصرف انسان کی اپنی طاقت بلکہ قدرت کی دوسری طاقتیں بھی انسان کی مرضی کے مطابق رزلٹ دینے لگتی ہیں کیوں کہ انسان کا یقین ایک ایسا پاور جنریٹر بن جاتا ہے جو کہ ہر مشکل اور مسئلہ کے قدرتی حل کی جانب بھرپور کوشش شروع کر دیتا ہے اور اس طرح کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔
جواب ۔1۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔۔ ٹیلی پیتھی پاورز کے ایکٹیو نہ ہونا یہ سب جان بوجھ کر لوگوں سے چھپایا گیا ۔۔۔مثلا لوگوں کی غیر روائیتی ۔غیر متوازن ۔رہن سہن سے وہ لوگ اس کو ایکٹو نہیں کر پاتے
دیر تک جاگنا۔موبائیل اور دوسرے الیکٹرانک آلات کا بلا وجہ استعمال۔
پروسیسڈ شوگر والی غذائیں ۔کیک بسکٹ۔پیسٹری ۔تلی ہوئ غذا کا استعمال ۔برگر ۔پیزا وغیرہ جن میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو ہمارے دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں ۔اس کے علاوہ ڈبہ بند لانگ لائف والی غذائیں دماغی صحت پر برا اثر ڈالتی ہیں اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں ۔جیسے مہنگائ کا ہر ذکر۔جنگ کا ڈر۔لوگوں کے مذاق کا ڈر۔ہا ر کا ڈر۔وہم شکوک شبہات ۔قدرتی آفات کا ڈر۔وغیرہ وغیرہ یہ سب چیزیں اور لوگوں کی بے قاعدگیاں پائنیل گلینڈ کے ایکٹو نہ ہونے کا سبب بنتی ہے ۔
2۔۔۔ٹیلی پیتھی پر سکون ذہن کے ساتھ ہی ممکن ہے ۔یہ ۔۔۔الفاویوز۔۔۔پر سکون ذہنی حالت میں ہوتی ہے یہ گہری سوچ۔احساسات ۔اوروجدان کو ممکن بناتی ہے ۔پریشانی اور افراتفری میں یہ ممکن نہیں ہوتی۔
3۔۔۔۔یقین سب سے اہم ہے ۔۔۔میں یہ کر سکتا ہوں ۔۔۔۔اس سے دماغ کو طاقت اور قوت ملتی ہے ۔
وہیں ۔۔۔۔شک۔۔۔ اندر سے کمزور کتا ہے اور منفی اثرات چھوڑتا ہے
فلورائیڈ، زیادہ چینی، موبائل کا زیادہ استعمال اور دیر سے سونا دماغ کو تھکا اور بکھرا ہوا کر دیتا ہے، جس سے توجہ کمزور پڑ جاتی ہے اور ذہنی صلاحیت ٹھیک سے کام نہیں کرتی۔
2)
ڈپریشن اور خوف دماغ کو منفی حالت میں لے جاتے ہیں، اس وجہ سے گہرا دھیان لگانا مشکل ہو جاتا ہے اور ذہنی طاقت دب جاتی ہے۔
3)
یقین دماغ کو مضبوط اور یکسو کرتا ہے، جبکہ شک اسے کمزور اور منتشر کر دیتا ہے۔
مختصر یہ کہ یقین طاقت بڑھاتا ہے اور شک اسے کم کر دیتا ہے۔
1) telepathy Power ke active na hone ki bunyadi wajoohat,hamare roz marra ke istemal kiye jane wale fast food,drinks,cakes, candy aur hamare dimagh par kisi chiz ka asar awar hona ye sab hai.
2) telepathy ke liye zaroori hai k pineal gland active ho,aur us ke liye zaroori hai k hamara dimagh shant mahol me pursukoon rahe,lekin aaj ke is be Inteha masruf daur me insan pursukoon rehne ki bohat koshish karta hai lekin nahi reh pata..
3)agar ham ne apne dimag me ye soch paida ki k falan kam mai kar Sakta Hu to hamara dimagh us ke bare me plan’s banane shuru kar deta hai,
Lekin hamara Shak hamare confidence ko low karta,kya mai ye kam kar sakta hun?
Ye hai shaq aur yaqeen ye hai k mai ye kar lunga
ہمارے ارد گرد کا ماحول ہماری خراب روٹین اور ایسی غذائیں جن کے استمعال سے پینل گلانڈ ڈی ایکٹو ہوجاتا ہے۔۔
ذہنی دباو کی کیفیت میں یکسوئی اچھے سے نہیں ہوتی ذہن پریشان رہتا ہے مشقوں پر اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے نتائج نہیں ملتے۔۔
یقین ایک بہت بڑی طاقت ہے جس کے زریعے پہاڑوں میں بھی رستے بن سکتے ہیں اور شک ایسی بیماری جس کے باعث انسان جیتی ہوئی بازياں ہار جاتا ہے کوئی بھی علم سیکھنے کے لیئے یقین کی طاقت ہونا ضروری ہے ۔۔
1•
فلورائیڈ، چینی، موبائل اسکرین کا زیادہ استعمال اور لیٹ نائٹ سلیپ ذہن کو منتشر کر دیتے ہیں، جس سے فوکس کمزور ہو جاتا ہے اور ذہنی صلاحیتیں ایکٹیو نہیں ہو پاتیں۔
2•
ذہنی دباؤ اور خوف ذہن کو دفاعی اور منفی حالت میں لے جاتے ہیں، جس سے گہرا ارتکاز ممکن نہیں رہتا اور ذہنی طاقت دب جاتی ہے۔
3•
یقین ذہن کو مضبوط اور یکسو بناتا ہے، جبکہ شک ذہن کو کمزور اور منتشر کر دیتا ہے۔
مختصر یہ کہ یقین ذہنی طاقت بڑھاتا ہے اور شک اسے ختم کر
دیتا ہے۔
ٹیلی پیتھی کی طاقت بیدار نہ ہونے کی بنیادی وجہ فطرت سے دور زندگی ہے غیر فطری غذائیں اور ماحول ٹیلی پیتھی طاقت کو کم کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں
ذہنی دباؤ اور خوف میں دماغ اپنی کارکردگی بہتر طریقے سے نہیں کر سکتا جس وجہ سے ٹیلی پیتھی کے طالب علموں کے لیے رکاوٹ کا باعث بنتا ہے
یقین سے ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائز یکسوئی پیدا ہونے کا ذریعہ بنتی ہیں اور شک میں مبتلا ہو کر کامیابی کم حاصل ہوتی ہے
1-ہمارے سونے جاگنے کی غلط ٹائمنگ باہر کے اور ناقص کھانے اور موبائل کا زیادہ استعمال یہ ایک سائنسی خفیہ سازش ہے کہ ہمارا لائف اسٹائل چینج ہو گیا ہے ہمیں پرانے طرز زندگی پر آنا ہوگا
2-جس کام کو ہم کسی کے خوف کی وجہ سے نہیں کرتے دماغ بھی اسکو پروسس کرنا بند کر دیتا ہے اور اسکی فائنل کلوز کر دیتا ہے
ٹیلی پیتھی سکون کی حالت میں ورک کرتی ہے اسلیے ذہنی دباؤ اسکے لیے خطرناک ہے
3-یقین تو ایسی طاقت ہے جس سے سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں یہی گمان ہمارا یقین ہوا ہے اور شک اسکے بلکل برخلاف سوچ ہے جس سے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے
,1-telephaty power ko kamzur y nuqsan zyada sugar ka use krna ‘prosted khurak ka khana floride ka zyada use nend ki kami mobile ka etc use shamil hn
2- zhni dabau y khuf pinal gland ki efficiency p effect krta or mind Kam krna churh deta h
3-yaqen ki taqat pinal gland ko power deti h or shak mind ko kamzur krta h insan Apne apko week khyal krta h
1 stress level had sy zyda hojay to pinal gland active Nahi hota wo comfort zone ma Chala jata ha ..
2 mental stress or pressure of work insani dimag ki khof ki tarf lay jaty ha jis sy dimag ma negative singles paida hoty ha. Or dimag Kisi b Kam Ka Sahi karny Ka yaqeen khatm hojata ha jis Bina pr telepathy power active Nahi hoti..
3
Yakeen pinal gland KO active karny or confident barhata ha JB k shak mayosi KO janam data ha jis sy insan ki rohanai taqat bhot kamzor hojatai ha..
1- یہ ایک سائنسی خفیہ اور منظم سازش ہے
2-خوف کی صورت میں فائیٹ اور فلائیٹ سسٹم ایکٹو ہو جاتا ہے اور پائینل گلینڈ کمزور ہو جاتا ہے اور دماغ پروگریسیو سسٹم سے بچاؤ والی کنڈیشن میں آ جاتا ہے
4- یقین ہمارے پائینل گلینڈ کو طاقت دیتا ہے اور ہمیں پر عزم ہو کر اپنی اس طاقت سے فائیدہ اٹھاتے ہیں جبکہ شک اسے کمزور کرتا ہے اور پائینل گلینڈ کو سگنل نہیں ملتے اور ایسے وہ ایکٹو نہیں ہوتا