ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کا اصل امتحان

ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کا اصل امتحان
ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کا اصل امتحان صرف تکنیکیں سیکھنا یا مشقیں کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا سفر ہے جہاں انسان خود سے سچ بولنا سیکھتا ہے اپنی حدود کو پہچانتا ہے اور اندرونی طاقتوں کو جگاتا ہے۔
میں آپ سے آج استاد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے مخاطب ہوں جو اسی راستے سے گزر چکا ہے
بالکل اسی مقام سے جہاں آپ اس وقت کھڑے ہیں۔
اگر میں سچ کہوں تو یہ تحریر ہر اُس شخص کے لیے نہیں جو محض کچھ نیا سیکھنے آیا ہے۔
یہ اُن لوگوں کے لیے ہے جن کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ سوال زندہ ہے
کیا میں واقعی وہ بن سکتا ہوں جو میں بننا چاہتا ہوں
اگر یہ سوال آپ کے اندر ہلچل پیدا کرتا ہے
تو یقین کریں
آپ کا ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس میں داخلہ لینا بالکل درست فیصلہ ہے۔
مشاہدے اور تجربے کی بات
میں نے برسوں کے مشاہدے اور عملی تجربے سے ایک بات سیکھی ہے
کہ جب بھی کوئی سٹوڈینٹ ٹیلی پیتھی کیایکسرسائز کرتے ہوئے کسی مقام کو پہنچنے والا ہوتا ہے اور جیسے ہی اس کا فوکس گہرا ہونا شروع ہوتا ہے
جیسے ہی خیالات کا شور آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے
بالکل اسی لمحے اس کے سامنے کوئی نہ کوئی امتحان آجاتاہے۔
کبھی یہ امتحان کسی ذاتی مسئلے کی شکل میں آتا ہے
کبھی بے نام سی بے چینی دل پر بوجھ بن جاتی ہے
کبھی بغیر کسی واضح وجہ کے حوصلہ اچانک ٹوٹنے لگتا ہے
اور کبھی ایک نہایت خطرناک مگر بہت مانوس خیال خاموشی سے ذہن میں سرگوشی کرتا ہے
مژال کے طور پر ….شاید ابھی رک جانا بہتر ہے
ابھی یہ ضروری کام مکمل کر لوں پھر فریش ہو کر دوبارہ شروع کر لوں گا

یاد رکھیں یہی وہ لمحہ ہوتا ہےجب ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے
جہاں 90 فیصد لوگ ایکسر سائز چھوڑ دیتے ہیں۔
ان کا ارادہ چھوڑنے کا بلکل نہیں ہوتا
بس پہلے آہستہ آہستہ ایکسر سائز میں ناغہ ہوتا ہے
اور پھرجب وقفہ زیادہ ہو جاتا ہے تودوبارہ شروع کرنے سے وہ سٹیمنا نہیں رہتا جس کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر چھوڑ دیتے ہیں
اصل رکاوٹ اندر ہوتی ہے
یا درکھیں ٹیلی پیتھی میں اصل رکاوٹ باہر سے کم ہوتی ہے۔
اصل رکاوٹ ہمیشہ اندر ہوتی ہے۔
جب وقفے کے بعد ایکسرسائز دوبارہ کرتے ہیں تو رزلٹ نہ ملنے کی وجہ سے اندر سے ہی کشمکش شروع ہوتی ہے
“کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟”
“کیا مجھ میں واقعی یہ صلاحیت موجود ہے؟”
“اتنی محنت کا کوئی نتیجہ نکلے گا بھی یا نہیں؟”
ذہن میں ایسے سوال پیدا ہونا بری بات نہیں
بلکہ یہ دراصل اس بات کی علامت ہیں
کہ آپ اگلے درجے کے کنارے پر کھڑے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہےجب وقفے کے بعد ایکسر سائز شروع کی جاتی ہیں تو پھر کچھ وقت صبر سے گزارانا ضروری ہوتا ہے
یہاں صبر کا مطلب انتظار کرنا نہیں بلکہ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کچھ نہ کریں اور وقت گزرنے دیں۔
ٹیلی پیتھی میں صبر کا اصل مطلب
ٹیلی پیتھی میں صبر کا مطلب انتظار کرنا نہیں ہے اور صبر کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ کچھ نہ کریں اور وقت گزرنے دیں۔
بلکہ ٹیلی پیتھی میں صبر کا مطلب ہےرزلٹ نہ ملنے کے باوجود اپنے لیول کی مشقیں جاری رکھنا ۔
دل اُکتا جائے تب بھی فوکس قائم رکھتے ہوئے ایکسرسائز جاری رکھی جائیں
اور خود پر یقین کم نہ ہونےدیں
بیشک یہ آسان نہیں، مگر یہی وہ صفت ہے جو صرف حقیقی ٹیلی پیتھی ماسٹرز کو باقی سب سے ممتاز کرتی ہے
ایک لمحہ—جو ہر انسان کبھی نہ کبھی محسوس کرتا ہے
کیا ایسا نہیں ہوا کہ آپ خاموش بیٹھے ہوں
اور اچانک کسی اپنے کا خیال دل میں اُبھر آئے
اور کچھ ہی دیر بعد
وہی شخص آپ سے رابطہ کر لے؟
اکثر لوگ مسکرا کر کہہ دیتے ہیں
“اتفاق تھا”
لیکن میں جانتا ہوں
اور اب آپ بھی جانتے ہیں
کہ یہ اتفاق نہیں ہوتا۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے
جہاں آپ کی ذہنی فریکوئنسی کسی اور ذہن سے ہلکی سی ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔
ٹیلی پیتھی کا سفرانہی لمحوں کو اتفاق سے نکال کرشعوری طاقت میں بدلنے کا نام ہے
یہی لمحہ ٹیلی پیتھی کے اصل سفر کا پہلا اشارہ ہے۔
یہ وہ نشانی ہے جو کہتی ہےآپ کا دماغ آپ کا شعور اور آپ کی مشق درست راستے پر ہیں۔
رکنا مت ، تجسس کو زندہ رکھیں
میں آپ کو رکنے نہیں دیتا
کیونکہ میں جانتا ہوں
کہ اگر آپ اس موڑ سے آگے نکل گئے
تو آپ کبھی وہی انسان نہیں رہیں گے۔
آپ کا دیکھنے کا زاویہ بدل جائے گا
آپ کی موجودگی میں خاموش طاقت آ جائے گی
اور آپ کی خاموشی خود بولنے لگے گی۔
اسی لیے میں بار بار کہتا ہوں
رکنا مت۔
وقفہ مت لو۔
بس رفتار آہستہ کر لو
مگر رُکو نہیں۔
اپنے اندر کے تجسس کو زندہ رکھیں۔
اگر آج نتیجہ سامنے نہیں آیا
تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ناکام ہو گئے۔
اس کا مطلب صرف یہ ہے
کہ ذہن کے اندر کہیں
کچھ نیا ترتیب پا رہا ہے۔
ٹیلی پیتھی میں
سب سے خطرناک چیز شک نہیں
بلکہ بے دلی ہے۔
جس دن تجسس مر جاتا ہے
اسی دن دروازہ بند ہونے لگتا ہے۔
آپ کا انتخاب آپ کی طاقت
آخر میں دل سے ایک بات
آپ یہاں کسی اتفاق سے نہیں پہنچے۔
یہ راستہ خود انسان کو نہیں ملتا
انسان اس راستے کے لیے منتخب ہوتا ہے۔
اگر آپ نے اس آواز کو سنا ہے
جو آپ کو اندر سے آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے
تو اس کی بے قدری مت کریں۔
میں وعدہ نہیں کرتا کہ یہ سفر آسان ہوگا
لیکن میں پورے یقین سے کہتا ہوں
اگر آپ نے خود کو نہیں چھوڑا
تو یہ علم بھی آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔
آپ بہت قریب ہیں
جتنا آپ سمجھ رہے ہیں
اس سے کہیں زیادہ۔
بس
ایک قدم اور۔



بہت بہترین تحریر ہے اس میں سبق ملتا ہے کہ ہر صورت میں اپنا سبق دہراتے رہیں راستے میں جو بھی رکاوٹ آئے مستقبل مزاجی سے کام جاری رکھیں تو ایک آپ کامیاب ٹیلی پتھی ماسٹر ضرور بنیں گے ان شاءاللہ تعالیٰ
ماشاءاللہ بہت زبردست تحریر ہے جس سے ہمیں بہت بوسٹ ملی
اللہ سلامت رکھے
امتحانات اور مشکلات سے گھبرا کر بالکل ناغہ نہیں کرنا چاہیے
یہ تحریر صرف الفاظ نہیں بلکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کی اصل ذہنی آزمائش ہے۔
فوکس، صبر اور اندرونی طاقت کو آپ نے نہایت گہرے اور بااثر انداز میں پیش کیا ہے۔
میں نے یہ سمجھا ہے کہ ٹیلی پیتھی میں صبر کا مطلب نتیجہ نہ ملنے پر بھی مشق جاری رکھنا اور خود پر یقین قائم رکھنا ہے۔
اس سفر میں رکنا نہیں، چاہے رفتار آہستہ ہو ہے اور تجسس کو زندہ رکھنا ہے۔
MashAllah sir. bht hi umdaa tehrir likhi hai. Allah hum sbko isko regularly practise krne ki hidayat aur himmat de. Ameen
G zaberdust ESA hi h jesa k Sir n btaya h Lekin agar hm mustaqil mizagi SE practice karen to zarur kamyabi hugi InshaAllah
G sir tamam tehriro me bahut hi nayab tehrir hai…
Is me aap indirectly hum se mukhatib ho kar apne dil ki baat keh rahe hai k hamare andar ye tajassus paida hoga jaise k “are yaar itne saalo se mai mashq kar raha hun aur abhi tak waisi koi kamiyabi nahi mil pa rahi jaisi milni chahiye” is tarah ke khayalat dil me ubhrenge aap ki is tehrir ke mutabiq.. lekin
Insha Allah,
Hum jame rahenge aur aap ki rehbri me is elm ko mukammal taur par hasil karenge…
بے شک سر بلکل ایسا ہی . ہے اور ایسی حوصلہ افزا تحاریر پڑھ کر اپنا تجزيا کرنے کا موقع ملتا ہے کہ ہم کس موڑ پر ہیں کہیں ہم بھی بے دلی اور اکتاہٹ کا شکار تو نہیں اور بہت زیادہ موٹیویشن بھی ملتی ہے اللّه آپ کا سایہ ہم پر سلامت رکھے اور ہم سب کو آپ کی معیت میں کامیاب کرے آمین ۔۔
اسلام علیکم ماشا اللہ استاد محترم آپ ہم سب کی ہمت کو بڑھانے کے لیے بہت شاندار تحریر لکھتے ہیں اللہ آپکو اجر عظیم عطا فرماے آمین
اسشاندار تحریر میں اپنے جو بھی ہدایات دی ہیں کہ ناکامی کے باوجود اپنی ایکسر سائز کو جاری رکھنے کا نام ہی کامیابی ہے اور منزل کو حاصل کرنا ہے میں اس پر اسی طرح عمل کر رہی ہوں تو اللہ نے مجھے کامیابی نصیب فرمائے
باقی ساتھیوں کے لیے بھی میں یہی کہوں گی کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی ایکسرسائز نہ چھوڑیں
کیونکہ پانی کا ایک قطرہ جب مسلسل گرتا ہے تو پتھر میں سوراخ کر دیتا ہے
اور مسلسل ایکسر سائز بھی پانی کے اس قطرے کی طرح ہیں جو ہم سب کو ضرور ٹیلی پیتھی ماسٹر بنائیں گی انشا۔ اللہ
ہمارے استاد محترم کے لیے ڈھیر ساری دعائیں جزاک اللہ
بہت ہی عمدہ تحریر ہے ۔ایک ایک بات بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں ۔۔انشاءاللہ آپ کی رہنمائی میں ٹیلی پیتھی ماسٹر مائنڈ بنے گے ۔اور آپ کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں پُرعزم ہیں ۔۔
شاندار تحریر ۔ ایک ایک لفظ اپنے دل و دماغ کے اندر تک محسوس ہوا۔ ایک ایک لفظ سچ اور صرف سچ۔
ان شاء اللّٰه ہم اُستادِ محترم کی رہنمائی میں اپنے مقصد کو ضرور حاصل کریں گے ۔ آمین۔