ٹیلی پیتھی  کے لیے دماغ کی فریکوئنسی کو سمجھیں

ٹیلی پیتھی  کے لیے دماغ کی فریکوئنسی کو سمجھیں
0 0 votes
Article Rating

ٹیلی پیتھی  کے لیے دماغ کی فریکوئنسی کو سمجھیں

ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کا آغاز دماغ سے ہوتا ہے

آن لائن ٹیلی پیتھی سیکھنے والے عزیز سٹوڈینٹس آج آپ جس راستے پر قدم رکھ رہے ہیں
یہ محض ایک آن لائن کورس یا چند مشقوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اپنی شعوری طاقتوں کی دریافت کا ایک عظیم، سائنسی اور با مقصد سفر ہے۔

جی ہاں میں براہِ راست آپ ہی سے مخاطب ہوں
آپ جو اس وقت یہ سطور پڑھ رہے ہیں
اور اپنے اندر چھپی اس طاقت کو بیدار کرنا چاہتے ہیں
جسے دنیا مائنڈ ٹو مائنڈ لنک ٹیلی پیتھی  کے نام سے جانتی ہے۔
یہ سفر باہر کی دنیا سے نہیں، اندر سے شروع ہوتا ہے۔
اور اس کا آغاز آپ کے دماغ سے ہوتا ہے۔

@telepathypower

میرے دماغ کی روشنی راتوں کو دن کر دے اندھیروں کو اجالوں کی کرن کر دے خیالات کے چراغ ہر سمت جلا دو #telepathy #mindpower #ghulammustafa#mehar

♬ original sound – Ghulam Mustafa Mehar

انسانی دماغ کائنات کا سب سے طاقتور آلہ
کیا آپ جانتے ہیں کہ انسانی دماغ تقریباً 86 ارب نیورونز پر مشتمل ہے؟
ہر نیورون ہزاروں دوسرے نیورونز سے جڑا ہوتا ہے، اور یہ تمام نیورونز مل کر ہر سیکنڈ میں لاکھوں برقی سگنلز منتقل کرتے ہیں۔

یہ سگنلز صرف آپ کے جسم کے اندر محدود نہیں رہتے بلکہ آپ کے گرد ایک الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ  پیدا کرتے ہیں۔یعنی  ہمارا دماغ کام کرتا ہے تو اس سے توانائی نکلتی ہے یہی توانائی ہمارے اردگرد ایک غیر نظر آنے والا دائرہ بنا دیتی ہے جسے سائنس میں برقی مقناطیسی میدان کہا جاتا ہے
جدید نیورو سائنس کے مطابق ہر انسان اپنے خیالات کے ذریعے ایک انرجی فیلڈ پیدا کرتا ہے۔
اور یہی انرجی فیلڈ ٹیلی پیتھی کی بنیاد بنتی ہے۔

دماغی لہریں آپ کی ٹیلی پیتھک طاقت کی کنجی
آپ کا دماغ ہر وقت ایک خاص فریکوئنسی پر کام کر رہا ہوتا ہے۔
یہ فریکوئنسی دراصل دماغی لہریں کہلاتی ہیں۔

ٹیلی پیتھی  کے لیے دماغ کی فریکوئنسی کو سمجھیں

 آسان ترین الفاط میں اس طرح سمجھیں کہ  

 بیٹا ویوز (13–30 Hz)

یہ وہ حالت ہے جس میں آپ روزمرہ زندگی گزارتے ہیں 
سوچنا، بولنا، کام کرنا، پریشانی اور دباؤ۔

 الفا ویوز (8–13 Hz)

یہ پرسکون لیکن ہوشیار حالت ہے
جب آپ ریلیکس ہوتے ہیں، توجہ بہتر ہوتی ہے، اور ذہن ہلکا ہو جاتا ہے۔

 تھیٹا ویوز (4–8 Hz)
یہ وہ جادوئی فریکوئنسی ہے جہاں
ٹیلی پیتھی کا اصل دروازہ کھلتا ہے۔
آپ سب سے پہلے اس ہرٹز فریکوئنسی کو بالکل آسان اور عام فہم میں سمجھیں کہ یہ کیا ہے پھر آپ الفا بیٹا اور ٹھیٹا لہروں کو سمجھ سکیں گے
آج تک میں نے بھی جتنے آرٹکل پڑھے ہیں
کسی نے اس کی وضاحت نہیں کی
جس کی وجہ سے عام پڑھنے والا اس کو سمجھ ہی نہیں پاتا۔۔۔۔
ہرٹز وہ پیمانہ ہے جو بتاتا ہے کہ کوئی چیز ایک سیکنڈ میں کتنی بار حرکت کرتی ہے۔

مثال کے طور پر
اگر دماغ کی لہریں 10 ہرٹز پر ہیں تو یہ مطلب ہے کہ دماغ ہر سیکنڈ میں 10 بار مخصوص سگنل بھیج رہا ہے۔

اگر 20 ہرٹز ہیں تو دماغ ہر سیکنڈ میں 20 بار سگنل بھیج رہا ہے۔

یہاں آپ  ایک سوال اورکر سکتے ہیں کہ

جب تھیٹا ویوز میں دماغ کی فریکوئنسی 4سے 8ہرٹز ہے
یہ تو الفا8سے13 ہرٹز
یا بیٹا 13سے30 ہرٹز سے کم ہے
تو پھر ٹیلی پیتھی کے لیے یہ سب سے زیادہ طاقتور کیوں ہے؟
اسے آسان اور سائنسی انداز میں سمجھیں
زیادہ ہرٹز = زیادہ سگنل نہیں بلکہ زیادہ سرگرمی
بیٹا ویوز (13سے30 ہرٹز) دماغ بہت تیزی سے سوچ رہا ہوتا ہے بہت زیادہ سگنل بھیج رہا ہوتا ہے۔

    • لیکن اتنی تیز رفتاری میں دماغ کم پرسکون اور زیادہ منطقی/تحلیل کرنے والا ہوتا ہے۔

    • یہی وجہ ہے کہ روزمرہ کام اور سوچ کے لیے بیٹا بہتر ہے مگر تخلیقی یا روحانی رابطے کے لیے نہیں۔
      تھیٹا ویوز = کم سگنل ٹیلی پیتھی کے لیے پرسکون حالت

      اس طرح 4 سے 8ہرٹز کی تھیٹا حالت میں دماغ آہستہ پرسکون اور گہری کیفیت میں ہوتا ہے۔
      یہاں سگنلز کم ہیں لیکن دماغ زیادہ کھلا زیادہ تخلیقی اور زیادہ حساس ہوتا ہے۔
      یہ وہ حالت ہے جہاں شعور اور لاشعور آپس میں جڑتے ہیں اور دوسروں کی توانائی یا خیالات کو محسوس کرنا آسان ہوتا ہے۔

      جیسے ریڈیو جب آہستہ اور صاف سگنل پر ہوتا ہے تو دور کے اسٹیشن بھی پکڑ سکتا ہے اسی طرح تھیٹا  حالت دماغ کو ٹیلی پیتھی کے لیے کھول دیتی ہے۔پھر آسانی سے دوسروں سے مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کیا جا سکتا ہے۔

    • ٹیلی پیتھی  کے لیے دماغ کی فریکوئنسی کو سمجھیں

تھیٹاحالت آپ کی ٹیلی پیتھک طاقت کا مرکز

یہ بات انتہائی توجہ سے سمجھیں
جب آپ کا دماغ 4 سے 8 ہرٹز پر کام کرتا ہے توشعور اور لاشعور آپس میں جُڑ جاتے ہیں
یہی قوت اپنی انتہا پر ہوتی ہے
آپ دوسروں کی توانائی محسوس کرنے لگتے ہیں
خیالات غیر معمولی طاقت حاصل کر لیتے ہیں
ٹیلی پیتھک پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے

اسی لیے بچے زیادہ تیزی سے سیکھتے ہیں کیونکہ وہ فطری طور پر تھیٹا اسٹیٹ میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔

ایک تاریخی سائنسی حقیقت

  مشہور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ہینس برگر نے 1937پہلی بار انسانی دماغ کی برقی لہروں کو ریکارڈ کیا۔
لیکن حیرت اس وقت ہوئی جب انہوں نے دیکھا کہ

دو افراد جو ایک دوسرے کے بارے میں شدت سے سوچ رہے تھے
الگ الگ کمروں میں ہونے کے باوجود
ان کے دماغی پیٹرنز ایک جیسے ہو گئے۔

آج کی نیورو سائنس اسے
Neural Synchronization

 کہتی ہے۔

یہ معجزہ نہیں سائنس ہے۔

کوانٹم فزکس اور ٹیلی پیتھی کا تعلق
کوانٹم فزکس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات میں ہر چیز توانائی ہے۔
آپ کے خیالات بھی توانائی کی ایک شکل ہیں۔
جب آپ کسی خیال پر شدت سے توجہ مرکوز کرتے ہیں، تو وہ خیال توانائی کی لہر بن جاتا ہے۔

کوانٹم سائنس کے مطابق
دو ذرات اگر ایک بار جُڑ جائیں تو
وہ لاکھوں میل دور ہونے کے باوجود
ایک دوسرے کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔
اسے
Quantum Entanglement
کہتے ہیں۔

 یہی اصول انسانی دماغوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

آپ نےٹیلی پیتھی کورس میں داخلہ کیوں لیا؟

آپ نے یہ کورس شروع کرنے کا فیصلہ کیا
یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ عام نہیں۔
زیادہ تر لوگ اپنے دماغ کی 10فیصد صلاحیت بھی استعمال نہیں کرتےشک، خوف اور سستی میں زندگی گزار دیتے ہیں

اور آپ؟
آپ اس دائرے سے باہر نکلنے کی ہمت کر رہے ہیں۔

تھیٹا حالت میں داخل ہونے کی تکنیک 

جب آپ گہری سانس کے 3 راؤنڈ مکمل کرتے ہیں
آنکھیں بند کر کے تصوراتی مشق شروع کرتے ہیں

تو دماغ قدرتی طور پرٹھیٹا کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔

اور یہی وقت ہے جب آپ کی ٹیلی پیتھی پاور ایکٹیو ہونے کے لیے تیار ہو جاتی ہے

روزانہ کی مشق کامیابی کی ضمانت
صبح اٹھتے ہی 10 منٹ ذہن کو پرسکون کریں
سانس کی مشق کورس مکمل ہونے تک جاری رکھیں
چھوٹے تجربات سے آغاز کریں
مستقل مزاجی کو اپنا ہتھیار بنائیں
یہ مشق اعصاب مضبوط کرتی ہے
خون کے سرخ ذرات بڑھاتی ہے
توجہ اور فوکس میں اضافہ کرتی ہے
دماغ کو تھیٹا فریکوئنسی کی طرف لے جاتی ہے

تاریخ کے عظیم ذہن اور دماغی طاقت

نکولا ٹیسلا
البرٹ آئن سٹائن
کارل یونگ
یہ سب لوگ اپنے دماغ کی اس پوشیدہ طاقت کو جانتے تھے۔
انہوں نے وہ دیکھا جو عام آنکھ نہیں دیکھ پاتی۔

آپ کا دماغ آج ایک بیج کی مانند ہے۔
آپ
توجہ
یقین
اور  مخصوص ایکسرسائز کے ذریعے اس کی پرورش کر رہے ہیں
جلد ہی یہ بیج ایک ایسا درخت بنے گا
کہ آپ ٹیلی پیتھی ماسٹر بن کر پوری دنیا میں کہیں بھی مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کر سکیں گے۔

تو کیا آپ تیار ہیں؟
یقین رکھیں 
یہ آپ کی زندگی کا وہ سفر ہے جس میں آپ اپنی منزل تک پہنچ کراپنے دماغ کی حیرت انگیز طاقت کے ذریعے دوسروں سے ناصرف ٹیلی پیتھی کے ذریعے رابطہ کر سکیں گے بلکہ انہیں اپنی مرضی سے کنٹرول بھی کر سکیں گے۔

آپ کا ساتھی اور رہنما
غلام مصطفےٰ مہر

0 0 votes
Article Rating

You may also like...

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
3 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
Guest
Najam ul Hassan
14/02/2026 2:39 am

بہت ہی انفارمیشن والی تحریر ہے ۔ آپکی ہر تحریر بہت ہی عمدہ ہوتی ہیں ۔سر آپ نے جس باریکی سے وضاحت کے ساتھ ہمیں سمجھایا ہے انشاء اللہ ہم بھی ٹیلی پیتھی کے ان اصولوں پر عمل کرے بہت جلد کامیاب ہوں گے ۔اور سر آپکی ہر تحریر ہمارے ذہن کو مزید تقویت فراہم کرنے کیلئے ایندھن کی مانند ہے ۔۔سر دعاگو ہوں کہ آپ کو کامل صحت عطا فرمائے اور آپ کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے آپکی رہنمائی قدم قدم پر ہماری زندگی سنوارنے میں ہمارے ساتھ ہمیشہ رہے ۔۔ آمین

Guest
Shahbaz Khan
14/02/2026 1:38 am

بہت زبردست تحریر ہے
آپ نے بڑی خوبصورتی سے اس دماغی فریکوئینسی کے بارے میں سمجھایا ہے
آپ کے ہر تحریر میں نہ صرف نصیحت ہوتی ہے بلکہ ایک
Motivation
اور امید بھی
اللہ آپ کو سلامت رکھے

Guest
Hakeem asif Raza
13/02/2026 6:17 pm

زبردست تحریر ہے کل ظہر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر سانس کی ایکسرسائز کی اور ٹھیٹا ہرٹز تک جانے کی کوشش کی تو الحمدللہ دس منٹ تک اسی حالت میں رہا اس کا اثر یہ ہوا کہ ابھی تک سرور کی کیفیت میں ہوں اتنی خوشی اور سکون ملا کہ بیان ممکن نہیں ہے

3
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x