میرا خواب… فرہاد علی تیمور سے بڑا ٹیلی پیتھی ماسٹر بننا
میرا خواب… فرہاد علی تیمور
سے بڑا ٹیلی پیتھی ماسٹر بننا
خواب وہ نہیں جسے آپ سوتے میں دیکھتے ہیں بلکہ خواب وہ ہے جو آپ کو جگاتا ہے۔ جو آپ کی نیندیں اُڑا دیتا ہے۔ جو آپ سے آرام سکون، چین سب چھین لیتا ہے۔
آج میں آپ کو آپ کا ہی خواب آپ کا گول یاد دلا رہا ہوں آپ کا سب سے بڑا خواب فرہاد علی تیمور سے بڑا ٹیلی پیتھی ماسٹر بننا ہے۔
خواب تو وہ ہوتا ہے جو آپ کو سونے نہ دے…. آپ کو کھڑا رکھے….. جو آپ کو ہر لمحے اپنی طرف کھینچے……… اس کے علاؤہ پر ہر وہ چیز جو آپ کی توجہ اپنی طرف کھنچتی ہے اس سے توجہ ہٹا دے …. اور خواب وہ ہوتا ہے جو آپ پہ اپنا جادو کر دیتا ہے۔ جس کا جادو سر چڑ کر بولے جب تک آپ اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے آپ کو سکون نہ ملے۔
یعنی آپ کا خواب ٹیلی پیتھی ماسٹر بننا ہے اپنے حالات بدلنے ہیں تو اپنے خواب بدلیں یہ تو ٹھیک ہے کہ حالات بدلنا آپ کے اختیار میں نہیں ہیں لیکن خواب دیکھنا تو آپ کے اختیار میں ہے ناں
ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کا خواب پورا کرنے کے لیے مستقل مزاجی سے اپنے استاد کی نگرانی میں ایکسرسائز جاری رکھیں۔
اپنے مقصد میں کامیابی کا یقین رکھیں ….. اپنے اللہ پر کامل یقین رکھیں… کبھی کبھی انسان کی زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جو اس کے سوچنے کا زاویہ بدل دیتا ہے۔
ایک لمحہ، ایک خیال ایک کردار — جو آپ کے اندر سوئی ہوئی طاقت کو جگا دیتا ہے۔
محی الدین نواب کے عظیم ناول دیوتانے بھی ہزاروں ذہنوں کو اسی طرح جگایا۔
اس ناول کا مرکزی کردار فرہاد علی تیمور ایک عام انسان ہوتا ہے
لیکن اپنے ذہن کی طاقت سے وہ ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔
اس کی کہانی نے ہر پڑھنے والے کے دل میں ایک چنگاری بھڑکا دیتی ہے کہ کیا واقعی انسان اپنے دماغ سے وہ سب کچھ کر سکتا ہے
جو بظاہر ناممکن لگتا ہے؟
اور اس سوال کا جواب ہے
جی بالکل
ٹیلی پیتھی علم نہیں ایک انقلاب ہے
ٹیلی پیتھی کوئی جادو یا کہانی نہیں انسانی ذہن کی اس پوشیدہ قوت کا نام ہے جو صدیوں سے انسان کے اندر موجود ہے
لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگ اسے پہچان ہی نہیں پاتے۔
جب آپ ٹیلی پیتھی سیکھتے ہیں تو دراصل آپ اپنے اندر کے خاموش دیوتا کو جگاتے ہیں۔
آپ کا دماغ ایک ایسا سینڈر اور ریسیور بن جاتا ہے
جو دنیا بھر میں کہیں بھی کسی کے بھی ذہن سے لنک کر کے اپنا پیغام نا صرف اس کے ذہن میں پہنچا سکتا ہے
بلکہ اس کی سوچ سمجھ سکتا ہے اور اپنی مرضی سے اسے کنٹرول کر سکتا ہے۔
یہ وہ علم ہے جو بتاتا ہے کہ انسان صرف جسم نہیں ایک پاورفل انرجی کا مجموعہ ہے۔
جس دن آپ اپنے ذہن کی پاورفل انرجی کو ایکٹیو کر کے اسے کنٹرول کرنا سیکھ لیں گے
اسی دن آپ کے لیے ناممکن لفظ ختم ہو جائے گا۔
فرہاد علی تیمورفرضی کردار مگر ٹیلی پیتھی حقیقی مثال
دیوتا کہانی میں فرہاد علی تیمور نے اپنے ذہن کی اتنی تربیت کی کہ وہ سوچ کے ذریعے حقیقت کو بدل دے۔
فرہاد کو کسی جن یا طلسماتی طاقت نے مدد نہیں دی۔اس نے صرف ایک کام کیا
اپنے دماغ پر مکمل کنٹرول کیا
اپنے جذبات پر قابو رکھا
اپنے خیالات کو ترتیب دیا ور اپنی سوچ کو ہتھیار کی طرح استعمال کیا
اور یہی وہ چیز ہے جو آپ بھی سیکھ سکتے ہیں۔
ٹیلی پیتھی ماسٹر بننا … خود کو پہچاننے کا سفر

جب آپ علم ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کے راستے پر چلتے ہیں
تو وہ دراصل آپ ایک ایسےسفر پر نکلتے ہیں
جو راستہ کتابوں سے نہیں …. دماغ کی سپر پاورز کو ایکٹیو کرنے سے کھلتاہے۔
شروع میں شاید مشکل لگے
لیکن یاد رکھیں ہر بڑا کام
پہلے دن ناممکن ہی محسوس ہوتا ہے۔
ہر مشق کو اپنے اندر کے رازوں سے روشناس کرواتی ہے۔
آپ سمجھنے لگتے ہیں کہ
خیال بھی ایک حقیقت ہے اور جذبہ ایک پاور فل انرجی ہے۔
جب آپ کا شعور اور تحت الشعور ہم آواز ہوتے ہیں تو پھر دنیا بدل جاتی ہے۔
طاقت اندر ہے … باہر نہیں
ہم میں سے زیادہ تر لوگ
اپنی کامیابی کا انحصار باہر کی دنیا پر کرتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ حالات یا دوسرے لوگ ہماری زندگی بدلنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
لیکن ٹیلی پیتھی آپ کو سکھاتی ہے
کہ طاقت ہمیشہ آپ کے اندر ہے۔
جب آپ ٹیلی پیتھی ایکسر سائز کرتے ہیں
جب آپ اپنے خیالات کو ترتیب دیتے ہیں
جب آپ اپنے دماغ کو سکون دیتے ہیں
تو آپ کے اندر سے وہ خاموش روشنی ابھرنے لگتی ہے
جو ہر چیز کو بدل دیتی ہے۔
آپ کا چہرہ پُر سکون ہو جاتا ہے
سوچ صاف ہو جاتی ہے
اور دل میں ایک عجیب سا یقین پیدا ہوتا ہے۔
کہ میں کر سکتا ہوں
میں کامیاب ہوں
ذہن کی لہریں … کائنات کی زبان
ٹیلی پیتھی سکھاتی ہے کہ کائنات میں ہر چیز انرجی ہے۔
آپ کا خیال آپ کا جذبہ
یہ سب ایک وائبریشن اور ایک لہرہے۔
جب آپ کے خیالات مثبت اور واضح ہوتے ہیں
تو یہ لہریں کائنات تک جاتی ہیں
اور آپ کی سوچوں اور خواہشات کو حقیقت میں بدل دیتی ہیں
اور یہ لہریں ایک خاص فریکوئنسی کے ذریعے ماحول سے اثر لیتی ہیں۔
جب آپ ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کی تربیت شروع کرتے ہیں
تو گویا آپ اپنے اندر کی بند کائنات کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔
آپ کے سامنے ایک ایسا روحانی آئینہ آتا ہے
جس میں آپ پہلی بار اپنے اصل وجود کی جھلک دیکھتے ہیں۔
وہ آپ جو خوف، کمزوری اور شک سے آزاد ہے۔
ٹیلی پیتھی آپ کو یہ راز سکھاتی ہے کہ دنیا بدلنے کا آغاز خود سے ہوتا ہے۔
جب انسان اپنے اندر کی دھند صاف کر لیتا ہے
تو پوری کائنات اس کے ارادے کے تابع ہونے لگتی ہے۔
آپ سمجھنے لگتے ہیں کہ
منفی خیالات زہر کی طرح ہیں ان سے نجات پانا ہی آزادی ہے۔
خوف صرف وہ دیوار ہے جو یقین کی روشنی سے گر جاتی ہے۔
اور شک وہ پردہ ہے جو علم کے لمس سے ہٹ جاتا ہے۔
یہ سب تب ممکن ہوتا ہے
جب آپ اپنے اندر سوئے ہوئے فرہاد علی تیمور کو جگا دیتے ہیں
وہ فرہاد جو تقدیر کا انتظار نہیں کرتا
بلکہ اپنی تقدیر خود لکھتا ہے۔
خواب کو حقیقت بنانے کی منزل
فرہاد علی تیمور کی طرح
آپ کا بھی ایک خواب ہے
اپنے ذہن کی سپر پاور کو جگانا۔
ہر خواب پہلے ناممکن لگتا ہے
پھر مشکل لگتا ہے
اور آخرکار حقیقت بن جاتا ہے۔
بس شرط یہ ہے کہ
آپ کا یقین آپ کے خوف سے بڑا ہو۔
جب آپ ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس مکمل کر لیں گے
تو آپ کے لیے یہ دنیا ایک نیا میدان بن جائے گی۔
اب آپ اپنے خیالات سے نہ صرف خود کو بلکہ دوسروں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
آپ بھی ٹیلی پیتھی دیوتا بن سکتے ہیں
محی الدین نواب کا دیوتا ایک کہانی تھی
لیکن اس کہانی نے یہ ثابت کیا
کہ انسان اپنے ذہن سے کائنات کو بدل سکتا ہے۔
اگر فرہاد علی تیمور ایک فرضی کردار تھا
تو آپ حقیقی دنیا کے ہیرو بن سکتے ہیں۔
کیونکہ فرق صرف ایک چیز میں ہے …..عمل
عمل کرنے والا ہی سچا ماسٹر بنتا ہے۔
صرف خواب دیکھنے والا نہیں۔
تو آج سے سستی کاہلی کو چھوڑ دیں اور جو ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس شروع کیا ہے اس کے ذریعے
اپنے ذہن کو جگائیں
اپنی سوچ کو چمکائیں
اور اپنے اندر کےٹیلی پیتھی ماسٹر کو پہچانیں۔
یہ سفر مشکل ضرور ہے
لیکن ناممکن نہیں۔
آپ کے ذہن کی پوشیدہ و پراسرار قوتیں ایک دن ضرور ایکٹیو ہوں گی
بس آپ نیت صاف اور یقین کامل رکھتے ہوئے اپنی اپنی ایکسرسائز جاری رکھیں۔
جب تک دنیا پر ٹیلی پیتھی کی حقیقت صحیح اور پوری طرح ظاہرہو گی
تب تک آپ ٹیلی پیتھی ماسٹر بن کر دنیا والوں کے لیے ایک مثال بن چکے ہوں گے
کہ یہ حقیقت ہے
زندہ جاگتی اور طاقتور حقیقت۔
🔮 سوال نمبر1:🔮
پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ طاقت اندر ہے باہر نہیں
کسی ایسے لمحے یا تجربے کا ذکر کریں
جب آپ نے محسوس کیا کہ اصل طاقت آپ کے اندر تھی۔
🌠 سوال نمبر 2:🔮
فرہاد علی تیمور کا کردار محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک تحریک ہے
کیا آپ کو لگتا ہے کہ آج کے دور میں بھی ایسا ذہنی انقلاب ممکن ہے؟
مختصر مگر جامع لکھیں




۔ الحمدللہ کافی بار ایسا ہوا کہ میں نے کسی کو کچھ کہنے کا سوچا اور پیغام دینے کی کوشش کی اور اللّٰہ نے سرخرو کیا ، اس سے میں سمجھ گئی کہ اللّٰہ مجھے ایسی صلاحیت دی ہے ، بس نکھارنے کی ضرورت ہے
۔ جی بلکل آج کے افراتفری والے دور میں تو اپنے اورا کو مظبوط کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور پُرسکون زندگی کے لیے یہ علم بہت ضروری ہے ۔
1: جی سر میں روحانیت میں ہوں جب میں ذکر کرتی ہوں تو جو بات سوچتی ہوںاسی وقت پوری ہو جاتی ہے اصل طاقت ہمارے اندر ہی ہے
2: امیرا یقین ٹیلی پیتھی پر پختہ ہے یہ سب ممکن ہے کیونکہ روحانی ٹیلی پیتھی کےتجربات ہوتے رہتے ہیں بس خود سے تجربات کرنا سیکھنا ہے
جواب نمبر ١) ۔۔۔مائنڈ سائنس کی ایک ورک شاپ کے دوران فائر واک میں آگ پر چلنا تھا اور ہم نے اپنے استاد کی معاونت میں دماغ کی طاقت سے اعصاب کو مظبوط کر کے آگ پر چلنا شروع تو جب یقین آگیا کہ واقعی طاقت باہر نہیں اندر ہے۔۔
جواب نمبر ٢) بے شک فرہاد علی تیمور کا کردار فرضی ہے مگر کہانیاں حقیقت کی عکاسی ہوتی ہیں،،یہ ناول جوش و جذبہ بڑھا دیتا ہے اور جلد سے جلد ٹیلی پیتھی سیکھنے کی امنگ بڑھتی ہے،،یہ ناول پڑھتے ہوئے مجھے ٹیلی پیتھی سیکھنے کا مزید شوق ہوا اور بڑھتا جا رہا ہے۔۔انشاءﷲ ایک دن ٹیلی پیتھی ماسٹر ضرور بنونگی
1) is sawal ke liye yahi jawab kafi hai k, itne halat ke bawajood bhi nachiz apne sathiyo ke saath is Elm ko hasil karne me laga hua hai…
2) mumkin hai, lekin us ke liye jo khwab bhi dekhen aur aur use pura karne ki mehnat bhi karen…..
Allah se dua hai k mere sab sathiyon ko ye Elm ata karen..
Power insan k Apne Ander huti h kunke normal halat m kamzuri log bi bari power ka muzahira krte hn iske elawa mind pori body control krta h or telepathy ka relation mind ka h
Second question y h Farhad ek character ni balke haqiqat h aj science n bi y proof kia h mind links insan k elawa animal m bi hn
ایک دن عشاء کے بعد ایکسرسائز کر کے ایک کمرے میں اکیلا لیٹا ہوا تھا میں کیا سوچ رہا تھا مجھے پتہ نہیں لیکن اچانک سے میں نے اپنی چاچی کی اواز سنی جو کہ میرے بارے میں بات کر رہی تھی لہذا ایسا تھا جیسے میرے چاچا کو میرے بارے میں کچھ بتا رہی ہو بس میں اپنا نام ہی سن پا یا اسی دن احساس ہوا کہ میرے استاد سے محترم غلام مصطفی مہر نے جو بتایا ہے کہ (خدا کی دی ہوئی طاقت ٹیلی پیتھی پہلے سے ہی ہمارے اندر موجود ہے) اس بات پر یقین پختہ ہو گیا جو میرے اندر طاقت ہے اسے میں نکھار سکتا ہوں اپنے استاد محترم کی نگرانی میں
فرہاد علی تیمور کی کہانی نواب محب الدین نے لکھی جو کہ ہمارے دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے اور ان کا ہر لفظ بولتا ہے یہ انقلاب ہر دور میں ممکن ہے بس فرہاد علی جیسا ٹیلی پہ ماسٹر چاہیے
Telepathy ka safar shroo krna mera khial sy mera sab sy bara yaqeen hai k takat mety ander hai bahir nhi
2- Ajj kal k zamany main zehni inqlab ziad mumkin hai
Q k knowledge tkk rasaie asan hai
Hrr cheez prr billions of data para hai
Bss yaqeen k sath amal zarori hai
سوتے وقت خواب دیکھنے کو حقیقت کی زندگی میں بدلنے کا راستہ صرف ایک ہی ہے ٹیلی پیتھی ماسٹر بننا جو ٹیلی.
پیتھی ماسٹر بن گیا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں وہ انے والی مشکلاتوں کا حال خود نکال سکتا ہے
1️⃣2024 کے آخر میں میرے لیے ایک انقلاب کا دن تھا۔ اُس دن میں ڈاکوؤں کے بیچ بری طرح پھنس گیا تھا۔ میں نے اللّٰہ سے دعا کی، اور ان کے لیڈر کی آواز اور آنکھیں ذہن میں لا کر پیغام بھیجنا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد، اُنہوں نے بالکل میری سوچ کے مطابق — الحمدللّٰہ — عزت کے ساتھ مجھے آزاد کردیا۔
اُس لمحے میں نے جان لیا کہ یہ طاقت پہلے سے میرے اندر موجود تھی۔
2. بالکل سر، جب انسان ناممکن کو ممکن سمجھ لے… تب ہی وہ اپنے اندر کی اصل قوت کو پہچانتا ہے۔