اس سے پہلے کہ وقت ختم ہو جائے ٹیلی پیتھی ماسٹر بن جائیں

اس سے پہلے کہ وقت ختم ہو جائے
ٹیلی پیتھی ماسٹر بن جائیں
آپ خاص سپر پاورکے ساتھ پیدا ہوئے ہیں
ہر انسان اپنے وجود کے ساتھ ایک غیر معمولی طاقت لے کر اس دنیا میں آیا ہے۔
یہ طاقت دکھائی نہیں دیتی مگر اس کے اثرات پوری زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔
یہ وہ سپر پاور ہے جو فوکس اور یقین کی قوت سے کام کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے مقصد پیدا نہیں کیا ۔۔۔۔ بلکہ آپ کو شعور عقل اور ارادے جیسی ایسی صلاحیتیوں سے نواز کر بھیجا ہے
ایسی سپر پاورز جو پہاڑ جیسے مسائل کو بھی چٹکیوں میں حل کر کر سکتی ہیں۔
جب پاینیل گلینڈ کی پاور جاگ جاتی ہےتو خوف ختم ہو کر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
کمزوری طاقت میں بدل جاتی ہے اور عام انسان بھی غیر معمولی کارنامے انجام دینے لگتا ہے۔
افسوس یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اس طاقت کے ہوتے ہوئے بھی اس سے ناواقف رہتے ہیں۔
وجہ طاقت کی کمی نہیں بلکہ لاعلمی ہے۔
جس دن انسان اپنے اندر موجود اس قوت کو پہچان لیتا ہے
اسی دن اس کی سوچ فیصلے اور پوری زندگی بدل جاتی ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی دولت کوئی بینک نہیں بلکہ آپ کا دماغ ہے
جسے آپ نے پوری زندگی فل پاور کے ساتھ استعمال کی نہیں کیا۔
بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ذہن کی ان سپر پاورز کو حاصل کر سکتے تھے ۔۔۔ مگر وہ ہمیشہ ٹالتے رہے آج نہیں کل سے شروع کریں گے۔
جب زندگی کا قیمتی وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو پھر سوائے افسوس اور ناکامی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ بلکہ یہ بات اور تکلیف دیتی ہے کہ
کاش میں نے اپنے دماغ کی سپر پاورز سے کام لیا ہوتا ۔۔۔ یہ سب سے بڑا پچھتاوا ہے وہ جو کوشش نہ کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔
اس لیے
مستقبل کے ٹیلی پیتھی ماسٹرز
ابھی وقت ہے اس سے پہلے کہ زندگی آخری دستک دے …اپنے ذہن کی طاقتوں کو پہچانیں اور انہیں استعمال کریں۔اس سے پہلے کہ وقت ختم ہو جائے ٹیلی پیتھی ماسٹر بن جائیں
آپ ایک ایسی عظیم شاہکار سپر پاور کو حاصل کرنے کے لیے میدان عمل میں ہیں
جس میں کامیابی کے بعد آپ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ خواب ہے یا پہلے والا خواب تھا…… جو اب حقیقت بن چکاہے۔
آپ میں سے ہی کچھ سٹوڈنٹس غلط فہمی میں ہیں کہ ابھی وقت ہے ۔۔۔۔۔ میں کچھ ضروری کام ختم کر لوں پھر جیسے ہی کاموں سے فری ہوں گا سب
سے پہلے ایکسر سائز پر ہی توجہ دوں گا۔۔۔۔ یہی سوچ ذہنی طاقت کو زنگ لگا دیتی ہے جب آپ آج کی ایکسر سائز کل پر چھوڑ دیتے ہیں تو صرف فوکس ہی نہیں ٹوٹتا بلکہ سٹیمنا کم ہونے کے ساتھ ساتھ جوش وجذبہ بھی کم ہو جاتا ہے۔
ٹیلی پیتھی ایکسرسائز آخری لمحے کی طرح
اپنے ذہن کی پوشیدہ وپراسرار قوتوں کو ایکٹیو کرنے کے لیے کسی دن یا نام کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی بلکہ جب آپ کو اس بات کا اچھی طرح علم ہو جائے کہ ہم اسپیشل پاورز کے ساتھ اس دنیا میں بھیجے گئے ہیں تو اسی وقت اس عظیم سفر کا آغاز کر دینا چاہیے
ابھی آپ کے پاس وقت ہے۔۔۔۔ جاگ جائیں۔اس سے پہلے کہ وقت ختم ہو جائے ٹیلی پیتھی ماسٹر بن جائیں۔
اگر آپ نے آج کل کا دن سستی کاتاہی میں گزار دیا تو پھر کل بھی ضروری کام آ سکتا ہے کیونکہ یہ دنیا کا سسٹم ہی ایسے ہے سکون صرف جنت میں ہی ملے گا۔
دنیا میں نہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دراصل اسں دنیا کی مخلوق نہیں ہیں۔
ہم جنت سے آئیں ہیں اور یہ عارضی ٹھکانہ ہے
اس عارضی دنیا میں ہر دن ایسے پرفیکٹ گزاریں جیسے آج آپ کا آخری دن ہے
مشال کے طور پر نماز پڑھیں تو آخری نماز سمجھ کر ٹھہر ٹھہر کر تسلی اور سکون سے پڑھیں۔
جیسے اس کے بعد اللہ کے حضور جانا ہے تو اللہ تعالیٰ آخری عمل دیکھ کر خوش ہو جائے
جب وہ خوش ہو گیا تو پھر ہمیشہ سکون والی زندگی ملے گی
بالکل اسی طرح ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائز کریں تو انہیں عام نہ سمجھیں۔
انہیں اسی طرح کریں جیسے یہ آپ کی زندگی کی آخری ایکسرسائز ہوں۔
نہ بے دلی اور نہ ادھورا فوکس بلکہ پورے احساس اور یکسوئی کے ساتھ ۔
اس لمحے یہ سوچیں کہ اگر آج میں نے پورے فوکس ذہن کے ساتھ ایکسرسائز نہ کیں تو شاید دوبارہ یہ موقع نہ ملے۔
جب آپ اس خاص کیفیت کے دائرے میں ذہن کو رکھیں گے تو ذہن کی لہریں صاف ہو جاتی ہیں فو کس گہرا ہو جائے گا۔
جس طرح اللہ تعالیٰ آخری نماز کے خلوص کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے
اسی طرح کائنات آپ کے آخری لمحے کے فوکس کو قبول کرتی ہے۔
یہ ایکسرسائز محض ایکسرسائز نہیں رہتیں بلکہ کامیابی کی علامت بن جاتی ہیں
اور جیسے عبادت کرنے والے کو سکون اور طاقت نصیب ہوتی ہے
اسی طرح آپ کے ذہنی رابطے اور ٹیلی پیتھی کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ اور زہنی سکون ملتا ہے ۔
یاد رکھیں ایکسرسائز کو آخری سمجھ کر کرنے سے آپ کی اصل پاور ٹیلی پیتھی جلد ایکٹیو ہو جاتی ہے۔
پھر اس سے بھی دلچسپ اور مزے کی بات یہ ہے کہ
قدرتی ٹیلی پیتھی
وہاں آپ کی قدرتی ٹیلی پیتھی کام کرے گی سیکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا اشارہ دیا ہے سورۃ الانسان آیت نمبر 14 میں اللہ فرماتے ہیں کہ جنت کے درختوں کے سائے ان پر بالکل قریب ہوں گے اور پھلوں کے خوشے (گچھے) ایسے جھکے ہوئے اور آسان ہوں گے کہ جیسے خاص طور پر ان کے لیے نیچے کیے گئے ہوں۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ جب جنتی کسی پھل کی طرف دیکھے گا یا اسے کھانے کا دل کرے گا وہ خوشہ خود جھک کر اس کے منہ کے قریب آ جائے گا
کہ جنتی جس پھل کو کھانے کا سوچیں گے وہ جھک کر قریب آ جائے گا۔ یعنی جو سوچیں گے اللہ کے حکم سے آپ کی سوچ سے وہ کام ہو جائے گا وہ تو اعلیٰ ارفع درجہ ہے جہاں اس دنیا میں بھی آپ اپنی سوچ سے اب کام کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ بس صبر وتحمل اور پورے یقین سے لگے رہیں ۔جہاں عام انسان آنکھوں سے دیکھتا ہے آپ ٹیلی پیتھی پاور کی بدولت ذہن کی آنکھ سے دیکھ کر ہر بات ناصرف معلوم کر سکتے ہیں بلکہ اس عظیم پاور سے ہر کام کر سکتے ہیں۔
اگر آپ روزانہ سانس کی ایکسر سائز اور فوکس قائم رکھنے کےلیے اپنے اپنے لیول کی ایکسر سائز کر رہے ہیں تو یقین رکھیے کہ آپ اس عظیم کامیابی کے بہت قریب ہیں۔
آج کے سوالات
سوال نمبر1: جب آپ نے ٹیلی پیتھی ایکسرسائز آخری لمحے کی طرح کرنے کی مشق کی تو آپ نے اپنے فوکس اور ذہنی سکون میں کیا کچھ فرق محسوس کیا؟
سوال نمبر 2: آپ کے خیال میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے جو آپ کو اپنی دماغی سپر پاورز کو ایکٹیو کرنے سے روک رہی ہے وقت کی کمی، سستی یا لاعلمی؟
سوال نمبر3: اگر آپ اپنے دماغ کی پوشیدہ طاقت کو آج ایکٹیو نہ کریں تو کل آپ کو خدا نخواستہ سب سے زیادہ کیا پچھتاوا ہو سکتا ہے؟


1 Bhot sukoon milta ha JB exercise KO akhir smjha k karta Hu. Focus Bhar jata ha or himat ma mazeed ezafa hojay ha..
2.mary nazdeez Mari Zindagi ma Betartib routine job ki or susti k sath laelmi Ka soch k comfort zone ma bhatay rahana..
3. insha’Allah es elm KO hasil Kary gay or apni Zindagi k andahry KO roshni ma tabdil Kar K jeiye gay..pashtawa to pahly tha ub maqsad-e-hayat naseb howa ha ba fazal-e-khuda…..
1-akhri lamhe ko such k zyada focus huta h ab to time jaraha h
2-susti or waqt ki kami
3- ni InshaAllah zarur kamyabi hugi
جواب 1:اج تک میں نے اتنی اعلیٰ سطح کی توجہ نہیں دی تھی جتنی آپ نے بتائی تھی، اگلی بار ایسا ہی ہوگا انشاءاللہ
جواب 2: لا علمی اور کاہلی
جواب 3:سب سے بڑا پچھتاوا تو یہی رہے گا کہ میں اگر نہ سیکھ سکا، اچھے استاد بھی تھے وقت بھی تھا، لیکن انشاءاللہ اب آپ کی ہدایت پر عمل ہو گا اور ہم ٹیلی پیتھی
ماسٹر بنیں گے انشاءاللہ
جواب 1:جب بھی کبھی مشق میں دلچسپی محسوس ہوتی ہے خواہ وہ آخری لمحہ نہ بھی محسوس ہو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا لیکن کچھ مسائل اور زمہ داریوں کی وجہ سے دلچسپی تقریباً ختم ہی ہو کر رہ گئی ہے
جواب 2: ان دنوں تو وقت کی کمی ہی محسوس ہو رہی ہے آجکل جو میں اپنے اندر محسوس کر رہا ہوں وہ فوکس نہیں بن پا رہا فوراً دھیان ہٹ جاتا ہے پھر مینٹین کرنے میں سستی ہی ہوتی ہے ۔
جواب 3: پچھتاوے کی بات تو ہے کہ دماغی صلاحیت ایکٹیو نہ کر سکے ایک قابل اُستاد سے علم کی لو سے لو نہ جلا سکے لیکن یہ سوچ پختہ ہے کہ ابھی جو وقت مسائل کا ہے گزر ہی جائے گا لیکن نیت یہ ہے کہ بہرحال سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنا ہے۔
1- صلاحیت میں اصافہ ، ذہنی سکون ہوتا ہے ، ذہین کی لہریں صاف ہوتی ہیں، فوکس گہرا ہوتا ہے
2-سستی اور طبیعت کی خرابی، ایموشنل ڈیمیج
3-یہ جانتی ہوں کہ اس موقع سے فائیدہ نہ اٹھا سکی تو کل صرف پچھتاوا ہو گا
Telepathy na seekhne ka sab ziyada pachtawa yea hoga ke agar main ker le ti to jo cheesien muje aj takleef deti hain wo na hoti. Mari life ke itne saal zaya na hote. Mera Allah se connection mazboot ho jata aur main apne ap ko explore ker leti. Duniya ke fitan se bach jati
1*
جب میں نے اسے اخری لمحہ سمجھ کر کوشش کی تو لگا کے ابھی اسی وقت ذہنی پاور ٹیو ہو جائے گی یعنی تھرڈ ائی اوپن ہو جائے گی اور تھرڈ ڈائی والی جگہ پہ بہت زیادہ وائبریشن بھی محسوس ہوئی ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی پاور ایکٹیو ہو جائے گی۔
2*
اس کی دو بڑی وجہ ہیں سب سے بڑی وجہ ان دیکھی پاور پر یقین کرنا ہے اور اسی کی دوسری شاخ سستی ہے لیکن سستی کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اس پاور کو استعمال
ہوتے ہوئے نہیں دیکھا جس کی وجہ سے یقین میں کسی قدر کمی ہو سکتی ہے۔
3*
اس پاور کے ایکٹو ہونے کے بعد کے جو مقاصد طے کیے ہوئے ہیں وہ مقاصد حاصل نہ ہونے کا پچھتاوا ضرور ہوگا۔
لیکن یہ صرف اس سوال کا جواب تک کا حصہ ہے باقی انشاءاللہ یہ پاور بھی ایکٹو ہوگی اور وہ تمام مقاصد بھی حاصل ہوں گے۔
ماشا اللہ ہر تحریر کی طرح یہ تحریر بھی بہت شاندار ہے .سر!اللہ آپکو صحت والی زندگی عطا فرماے آپ ہمارے لیے بہت محنت سے تحریریں لکھتے ہیں جزاک اللہ
1:جب مینے ٹیلی پیتھی ایکسرسائز آخری لمحے کیطرح کی تو فوکس اور زیادہ ہوگیا اور اسکے بعد ذہن کو جو سکون ملتا ہے وہ پہلے سے دو گنا ہو گیا
2:سر میرے پاس جو رکاوٹ ہے وہ میرےگھر کا ماحول ہے لیکن میں اسکے باوجود
اپنے مقصد پر فوکس کرکے اپنی ایکسرسائز کے لیے ٹائم نکالتی ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اسی سے میں ان حالات کو کنٹرول کر سکتی ہوں جو میرے لیے رکاوٹ بن رہے ہیں اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوتی جارہی ہوں اللہ کی مہربانی سے اور استاد محترم کی مسلسل توجہ میری کامیابی کی وجہ ہے جزاک اللہ استاد محترم
3:ایسا تو ممکن ہی نہیں کہ ہم ایسا سوچیں کہ ہم اپنی پوشیدہ طاقت کو ایکٹو نہیں کریں۔ہم سب اشرف المخلوقات ہیں اور اللہ نے ہر چیز کو ہمارے لیے مسخر کیا ہے صرف ہمیں اپنے آپ کو پہچاننا ہے اور خود کو کائنات کی سپر پاور بنانے کے لیے محنت کرنی ہے اور کامیاب ہوکر اللہ کی بنائ ہوئ اس دنیا میں اسکا نائب ہونے کا فرض ادا کرنا ہے اسکی مخلوق کے لیے اور دین اسلام کے لیے کام کرنا ہے
1- main ny abhi tkk kisi exercise ko akhri samjh krr nhi kia
Tu kuch bhi comment krna iss baat prr munasib nhi ho ga
2- main yhh samjhti hon k yhh hamari susti hai
3- waqat tha
Guide krny k liye teacher bhi thy
Prr hum ny waqat ki qadar nhi ki
سر یہ تحریر کمال کی ہے واقعی اسے پڑنے سے ایک نیا جوش پیدا ہوا ہے سب سے
پہلے بہت شکریہ ہمارے لیے اتنی محنت کرنے کا اور ہمارا اتنا سوچنے کا
پہلے سوال کو جواب ہے کہ
جب جب ہم نے اپنی مشق کو آخری سمجھ کر پورے فوکس سے کیا ہے ہم نے بہت پر سکون محسوس کیا ہے جیسے ہم کسی اور نئی دنیا میں آ گئے ہوں
ہم نے یہ تجربہ کیا ہے کے ٹیلی پیتھی ایکسرسائز جب ہم کرتے ہیں تو ایسے جیسے ہم اپنے اصل سے مل رے ہیں یعنی جو جیسا ہم چاہتے ہیں ویسا ہی بن رے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے ۔یہ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے ہمیں اس لائق سمجھا اور آپ جیسا مخلص استاد دیا
دوسرےسوال کا جواب
ہمیں ایسا لگتا ہے کچھ چیزیں ایسی ہیں جو نہیں ہونی چاہیے ان کی وجہ سے اس راستے میں روکاوٹ بن رہی ہے
اس زبردست تحریر کے پڑھنے کے بعد ہم یہ عہد کرتے چاہے جوہوجائے ہم اپنی منزل تک پہنچ کر ہی رہیں گے اور کسی روکاوٹ کو خاطر میں نہیں لائے گے
تیسرا اور آخری جواب
ہم اپنی ٹیلی پیتھی پاورز کو ہر حال میں ایکٹو کر کے ہی رہیں گے نا کا تو سوال ہی نہیں ہے
اور انی پاورز کے حصول کے بعد ہی ہماری اصلی زندگی کی شروعات ہو گی انشاللہ ۔
جواب نمبر1-
ایسا ہر بار نہیں ہو پاتا۔ لیکن جب جب سوچ اُتنی پُختہ ہوتی ہے، اندر سے یہ احساس ہوتا ہے کہ جو بھی ارادہ کیا جائے گا وہ ٹیلی پیتھی کی طاقت سے پورا ہو جائے گا۔ ایک شدید مختلف قسم کی کامیابی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
جواب نمبر 2-
زندگی کے روزمرہ کے فرائض کی انجام دہی کی وجہ سے مشقوں کے لیئے وقت نکالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور خاص طور پر دماغی طور پر اتنی تھکن ہوتی ہے کہ مشق کے لیئے ارتکاز کرنا کافی مشکل لگتا ہے۔
لیکن ان سب وجوہات کے باوجود جب جب ارتکاز اور توجہ حاصل ہوتی ہے، مشق کرنے کے دوران اور بعد میں دیر تک اسکا لطف حاصل ہوتا رہتا ہے۔
جواب نمبر 3-
یہی پچھتاوا ہوگا کہ جب وقت کے دانے موجود تھے، صیحت تھی اور جسم میں جان تھی تو تب اپنے ارادے کو مظبوط کر کے یہ علم حاصل کر لیا ہوتا تو اللّٰه تعالیٰ کی مخلوق کو بہت زیادہ فائیدہ پہنچایا جا سکتا تھا اور اپنے اشرف المخلوقات ہونے کی زمہ داری بہت اچھی طرح نباہی جاسکتی تھی۔
مگر اب کیا ہووت، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔۔۔
1.سکون اور گہرا فوکس
2.وقت کی کم اور زیادہ علم نہیں ہے
3 .ہر عام سے بھی کام کے لیے محنت درکار ہوتی اب ٹیلی پیتھی ماسڑ بنے کا سفر اب عام نہیں ہے
اس کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے ایکسرسیزکو آکسیجن کے مانند ہے جو ٹیلی پیتھی ماسڑ کو زیادہ رکھتی ہے
1. Maine exercises akhri samhj kr nahi ki. Laikin general mujhe exercises specially saans wali exercise krte time bht sakoon milta hai. Jb se course start kia hai. Uske baad se zehni sakoon hi mila hai.
2. Mere khayal se waqt ki kami is iski wajah hai. Laikin ye bhi haqeeaqt hai k raato raato zehni powers activate nahi ho sakti kyunki humne chalna bhi gir kr seekha hai aur bolna bhi aik do lafzo se hi seekha hai.
3. Mera maanna ye hai k agar aj maine apni powers activate nahi ki toh mai future mai bht sari opportunities miss kr skta hn.
1 جب ا کسیرسائزآ خری لمحہ کی طرح کی تو ذہن اور قلب میں بہت سکون ملا
2 میرے خیال میں وقت کی کمی اور بے ترتیب کام پر آ نے جانے کی روٹین ہے
3 شکراللہ کا وقت سے پہلے خود کو سمجھنے اور اپنی زندگی کو تبدیل کرنے کا موقع ملا ۔
1-last time ka such k focus ni bna sara din ghabrahat rahi phir zehan ko concentrate kia or sari excercise ken
2-Waqt ki kami or kabi susti
3-Y hi k zindagi barbad hugai
1. ایکسرسائز میں اب آخری لمحات تک فوکس اور احساس خوب بڑھ گیا ہے، ماشاءاللہ بہت اچھا کنٹرول مل رہا ہے۔
2. ابھی تک کوئی رکاوٹ نہیں آئی، انشاءاللہ آگے بھی ہر چیز کو اپنی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دوں گا۔
3. آپ سے ملنے سے پہلے میں نے بہت پچھتاوے اور افسوس کی زندگی گزاری ہے، انشاءاللہ یہ وقت دوبارہ کبھی نہیں آئے گا، اب سب کچھ بہتر ہو گا۔
سر اب سے مشق کے آخری لمحے پر بھی مکمل فوکس رکھونگی پھر بتاونگی ورنہ ایسا ہوتا ہے کہ آخری لمحات میں توجہ تھوڑی بھٹک جاتی ہے کہ مشق ختم ہونے والی ہے۔۔
ابھی تو مجھے کوئی ركاوٹ نہیں لگ رہی اور اللہ کرے کہ آیندہ بھی کوئی ركاوٹ نا ہو اور میں مستقل مزاجی سے مشقیں کرتے ہوئے ٹیلی پیتھی ماسٹر بن جاؤں۔۔
یہی کہ میرے اندر ایک خزانہ دفن تھا اور میں اسے حاصل نا كرسكی میں رائیگاں چلی گئی یہ بہت بڑا پچھتاوا ہوگا۔۔
1)mashq karne ki baat alag hai,aap ne akhri mashq ke uper tehrir hi itni zabardast likhi hui hai k padh kar hi nayi umang paida ho gayi….
2)halat aur bimari, yahi wajuhat hai,
3)yahi k hamare pass bohat achche ustaad bhi the aur waqt bhi tha lekin hamari susti ke zer e nazr ho gaya….
ابھی تحریر پڑھی ہے ایکسرسائز کرنے کے بعد محسوسات بتا سکتا ہوں
سست روی زیادہ رکاوٹ کا باعث ہے
کہ شاہد اگر دماغی پاور کا استعمال کیا گیا ہوتا تو بہت اچھا ہوتا
سوال نمبر 1
ابھی میں نے ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائز انجام نہیں دی ہے، ان شاء اللہ شام کے وقت پوری توجہ اور یکسوئی کے ساتھ کروں گا۔ پچھلے تجربات سے یہ بات محسوس ہوئی ہے کہ جب ایکسرسائز آخری لمحے کی طرح، مکمل فوکس کے ساتھ کی جاتی ہے تو ذہن میں غیر معمولی ٹھہراؤ، سکون اور توجہ کی گہرائی پیدا ہوتی ہے، اور خیالات منتشر ہونے کے بجائے ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتے ہیں۔
سوال نمبر2 :
میرے خیال میں سب سے بڑی رکاوٹ لا علمی نہیں بلکہ وقت کو ٹالتے رہنا ہے۔ کبھی یہ سوچ لیتا ہوں کہ آج وقت نہیں ملا، اور کبھی یہ کہ کل ضرور پورے فوکس کے ساتھ کروں گا۔ یہی ٹال مٹول آہستہ آہستہ مشق کے تسلسل کو کمزور کر دیتی ہے، حالانکہ نیت موجود ہوتی ہے مگر عمل میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
3سوال نمبر
اگر میں نے آج اپنے دماغ کی پوشیدہ طاقت کو ایکٹیو کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو کل سب سے بڑا پچھتاوا یہی ہو سکتا ہے کہ کاش میں نے ابتدا ہی میں مستقل مزاجی اختیار کی ہوتی، اپنے استاد محترم کی باتوں پر پورا عمل کیا ہوتا۔ شاید آج میں اس مقام پر ہوتا جہاں پہنچنے کا خواب دل میں لیے بیٹھا ہوں، اور وقت ہاتھ سے نکل جانے کا افسوس باقی نہ رہتا۔