چلنے سے ذہنی سکون اور ٹیلی پیتھی کی طاقت حاصل کریں

چلنے سے ذہنی سکون اور ٹیلی پیتھی کی طاقت حاصل کریں
ٹیلی پیتھی میں جسمانی حرکت کی اہمیت
میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے بہت سے لوگ اس وقت کسی نہ کسی ذہنی الجھن کا شکار ہیں۔
کوئی کہتا ہے دل بھاری رہتا ہے۔
کوئی کہتا ہے مشق میں دل نہیں لگتا۔
اور کوئی یہ کہتا ہے کہ خیالات قابو میں نہیں آتے۔
یقین کریں میں آپ کی اس کیفیت کو سمجھتا ہوں۔
ٹیلی پیتھی، ذہنی تربیت، فوکس اور تصوراتی طاقت کا سفر آسان نہیں۔
جسم اور ذہن کا باہمی تعلق
یہ صرف آنکھیں بند کرکے بیٹھ جانے کا نام نہیں۔ یہ جسم اور ذہن کے باہمی توازن کا نام ہے۔
اور آج میں آپ کو ایک ایسا راز بتانا چاہتا ہوں جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا۔
اگر جسم سساکن، تھکا ہوا یا دباؤ کا شکار ہو تو ذہن کبھی اپنی مکمل طاقت استعمال نہیں کر سکتا۔
وہ شکایت جو مجھے سب سے زیادہ سنائی دیتی ہے
ہر ہفتے مجھے درجنوں پیغامات ملتے ہیں۔
استادجی میرا دل اداس رہتا ہے۔
ذہن بوجھل ہے
مشق میں دل نہیں لگتا۔
خیالات قابو میں نہیں آتے۔
اور ہر بار میں دیکھتا ہوں کہ یہ محض جذباتی مسئلہ نہیں۔
یہ جسمانی اور کیمیائی مسئلہ ہے۔
آپ کو اچھی طرح اسے سمجھنا ہوگا۔
ہر ذہنی مسئلے کا آغاز جسم سے ہوتا ہے اور ہر ذہنی سکون کی پہلی سیڑھی بھی جسم ہی ہے۔لہذا آج سے چلنے سے ذہنی سکون اور ٹیلی پیتھی کی طاقت حاصل کریں۔
ذہنی دباؤ اور دماغ کی کیمسٹری
سائنس واضح طور پر بتاتی ہے کہ جب انسان زیادہ سوچتا ہے،خوف،تشویش یا مایوسی میں مبتلا ہوتا ہے تو دماغ میں تناؤ کے ہارمون خاص طور پر کورٹیسول بڑھ جاتے ہیں۔
یہ ہارمون دماغ کے اُس حصے کو کمزور کر دیتے ہیں جو توجہ،تصور،یقین اور گہری ذہنی لہروں کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔
یعنی سادہ الفاظ میں ذہنی دباؤ ٹیلی پیتھی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
جب کورٹیسول بڑھتا ہے تو ذہن بچاؤ کی حالت میں چلا جاتا ہے۔ اور اس حالت میں نہ تصور کام کرتا ہے،نہ یقین،نہ ذہنی رابطہ۔
جسم کو حرکت دینے کا سادہ مگر طاقتور حل
اور اب میں آپ کو وہ حل بتاتا ہوں جو میں نے خود برسوں کے تجربے سے سیکھا ہے۔
یہ حل کسی پیچیدہ روحانی عمل یا خاص منتر میں نہیں بلکہ ایک بہت سادہ قدم میں چھپا ہے۔
جسم کو حرکت دو۔
اگر آپ لیٹے ہوئے ہیں تو اٹھ کر بیٹھ جائیے۔
اگر بیٹھے ہیں تو کھڑے ہو جائیے۔
اگر کھڑے ہیں تو چلنا شروع کر دیجیے۔
اور اگر چل رہے ہیں تو رفتار تیز کر دیجیے۔
یہ کوئی موٹیویشنل نعرہ نہیں۔ یہ دماغی سائنس کا تسلیم شدہ اصول ہے۔
چہل قدمی اور خون کی روانی
جب آپ مسلسل بیس سے چالیس منٹ پیدل چلتے ہیں تو جسم میں یہ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
خون کی روانی تیز ہوتی ہے۔
دماغ کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے۔
خوشی کے ہارمون خارج ہوتے ہیں۔
تناؤ کا ہارمون کم ہوتا ہے۔
دماغ منفی سوچ کے چکر سے باہر آنے لگتا ہے۔
سائنسی تحقیق کہتی ہے کہ بیس سے چالیس منٹ کی مسلسل چہل قدمی دماغ کو ایسے تازہ کرتی ہے جیسے کمپیوٹر کو دوبارہ چالو کیا جائے۔
اور میں نے خود یہ بات اپنے سینکڑوں سٹوڈنٹس میں دیکھی ہے۔

چلنے سے ذہنی سکون اور ٹیلی پیتھی کی طاقت حاصل کریں
آپ نے بھی محسوس کیا ہوگا۔
کچھ فیصلے چلتے ہوئے آسان لگتے ہیں۔
کچھ سوالات خود ہی بے معنی ہو جاتے ہیں۔
اور کچھ خیالات آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتے ہیں۔
یہ کوئی اتفاق نہیں۔ یہ آپ کے دماغ کی کیمسٹری بدل رہی ہے۔
سوچ کے چکر کو توڑنے کا طریقہ
جب انسان ایک ہی جگہ بیٹھ کر سوچتا رہتا ہے تو ذہن ایک ہی دائرے میں پھنس جاتا ہے۔
وہی خیال۔ وہی سوال۔ وہی خوف۔ بار بار۔
لیکن جیسے ہی جسم حرکت میں آتا ہے۔
اعصابی نظام نئی معلومات وصول کرتا ہے۔
دماغ کو نیا نمونہ ملتا ہے۔
اور سوچ کی گاڑی پرانی پٹڑی چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
میں نے یہ بات اپنی زندگی میں سینکڑوں بار آزمائی ہے۔
اسی لیے بڑے فلسفی،سائنسدان اور ماہراساتذہ چلتے چلتے سوچتے تھے۔
اسی لیے چلتے ہوئے مراقبہ کو روحانی اور سائنسی دونوں حلقوں میں بے پناہ اہمیت حاصل ہے۔
جسمانی تھکن ذہن کی دوا
جسمانی تھکن کے فوائد
جسمانی تھکن،ایک نعمت جسے ہم سمجھ نہیں پائے
ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ تھکن بری چیز ہے۔ لیکن میں آپ کو ایک راز بتاتا ہوں۔
جسمانی تھکن اگر صحیح طریقے سے حاصل کی جائے تو یہ ذہن کے لیے دوا بن جاتی ہے۔
یہ تھکن غیر ضروری سوچ کو دبا دیتی ہے۔
انا کو خاموش کرتی ہے۔
ذہن کو قدرتی طور پر گہری حالت میں لے آتی ہے۔
تصور، یقین اور ٹیلی پیتھی کی لہریں
اور یہی وہ حالت ہے جہاں تصور طاقت پکڑتا ہے،یقین گہرا ہوتا ہے،اور ٹیلی پیتھی کی لہریں مضبوط ہوتی ہیں۔
اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں۔
وہ تھکن حاصل کرو جو ذہن کو خاموش کر دے،نہ کہ وہ جو دل توڑ دے۔
ٹیلی پیتھی سٹوڈنٹس کے لیے خاص پیغام
اگر آپ واقعی ٹیلی پیتھی میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ بات ذہن نشین کر لیں۔
مسلسل بیٹھے رہ کر ذہنی طاقت نہیں بنتی۔
صرف پڑھ لینے سے لہریں مضبوط نہیں ہوتیں۔
جسم کو نظر انداز کر کے ذہن کو قابو میں نہیں کیا جا سکتا۔
جسم اور ذہن کا اینٹینا اصول
سوچیے۔
آپ کا جسم ایک اینٹینا ہے۔
اور ذہن ایک وصول کنندہ۔
اگر اینٹینا زنگ آلود ہو تو اشارہ کبھی صاف نہیں آئے گا۔
میں نے یہ بات اپنے ہزاروں سٹوڈنٹس کو بتائی ہے۔ اور جنہوں نے اس پر عمل کیا،ان کی زندگیاں بدل گئیں۔
روزمرہ زندگی میں کیا کریں؟
روزمرہ زندگی میں جسمانی حرکت کے آسان طریقے
مشق سے پہلے دس سے پندرہ منٹ تیز چہل قدمی کریں۔
ذہنی دباؤ میں فوراً جگہ بدلیں اور چلنا شروع کریں۔
نیند نہ آئے تو موبائل کے بغیر ہلکی چہل قدمی کریں۔
کوئی سوال بے چین کرے تو خاموشی سے بیس منٹ چلیں۔ جواب خود آئے گا۔
یقین کریں۔ بہت سے سوالوں کے جواب چلتے چلتے خود مل جاتے ہیں۔
آخری بات میرا آپ سے وعدہ
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔
اگر آپ آج سے یہ عمل شروع کر دیں تو ایک ہفتے میں فرق محسوس ہوگا۔
جب جسم ہلکا ہوتا ہے تو ذہن گہرا ہو جاتا ہے۔
جسم حرکت میں… ذہن سکون میں
جب جسم حرکت میں ہوتا ہے تو ذہن سکون میں آتا ہے۔
اور یہی سکون ٹیلی پیتھی کی اصل بنیاد ہے۔
آج کا عمل
آج ہی پہلا قدم اٹھائیں۔
بیس منٹ چلنا شروع کریں۔
اور اپنے ذہن کو وہ سکون دیں جس کا وہ حقدار ہے۔
میں آپ کے ساتھ ہوں۔
آپ کی کامیابی میرا مقصد ہے۔
اب باری آپ کی ہے۔
پہلا قدم اٹھائیں۔
سوالات
دونوں سوالات کے جوابات کمنٹ میں دیں
سوال نمبر 1: اگر 20 منٹ کی چہل قدمی ذہن کو ری سیٹ کر سکتی ہے، تو آپ نے اسے آزمایا کیوں نہیں؟
سوال نمبر 2:کیا آپ واقعی ٹیلی پیتھی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں



1 G sir ma daily base par exercise karta hu or walking to Mari unlimited ha..
2. insha’Allah sir telepathy master mind ha apki rahnymai m or bhi aagay jay gay..
چہل قدمی آزمودہ ہے سر بہت زبردست طریقہ کار کی طرف توجہ مرکوز کرائی آپ نے
جی بالکل
1.
استاد جی روزانہ سائیکلنگ کرنا اور جم جانا میرے معمولات میں ہے
چہل قدمی بھی کرتے ہیں
2.
بالکل میں ٹیلی پیتھی میں فرہاد علی تیمور سے بھی آگے جانا چاہتا ہوں اللہ کے حکم سے