آپ کا ذہن سب سے طاقتور کمپیوٹر

آپ کا ذہن سب سے طاقتور کمپیوٹر
آپ کا دماغ دنیا کا سب سے پیچیدہ اور طاقتور کمپیوٹر ہے۔
اس میں تقریباً 86 ارب نیورونز ہیں جو ہر لمحے لاکھوں سگنلز بھیجتے ہیں۔
یہ نیورونز آپ کی سوچ، احساسات، یادیں اور عادات بناتے ہیں۔
جدید سائنس کے مطابق جو چیزیں آپ بار بار سوچتے ہیں وہ دماغ میں مضبوط راستے بنا دیتی ہیں
جیسے جنگل میں بار بار چلنے سے پگڈنڈی بن جاتی ہے ویسے ہی دماغ میں سوچ کے راستے بنتے ہیں۔
شعوری اور لاشعوری ذہن
شعوری ذہن
آپ کا جاگتا ذہن
فیصلے اور منطق کے لیے کام کرتا ہے
دماغ کی صلاحیت کا صرف 5-10٪ استعمال کرتا ہے
لاشعوری ذہن
آپ کا خودکار ذہن
عادات، یادیں، احساسات اور خودکار ردعمل کنٹرول کرتا ہے
دماغ کی 90-95٪ صلاحیت استعمال کرتا ہے
دن بھر سوتے جاگتے کام کرتا رہتا ہے
اہم بات: لاشعوری ذہن حقیقت اور تصور میں فرق نہیں کر سکتا۔ جو آپ بار بار سوچیں، وہ اسے سچ مان لیتا ہے اور آپ کے اعمال پر اثر ڈالتا ہے۔
دماغ کیسے کام کرتا ہے؟
آپ کا ذہن سب سے طاقتور کمپیوٹرہے آپ کو اس سے کام لینے کا طریقہ سیکھنا ہو گا۔
دماغی لچک
دماغ ہر عمر میں بدل سکتا ہے۔
نئے اعصابی راستے بنتے ہیں
پرانے کمزور راستے ختم ہوتے ہیں
دماغ دوبارہ تشکیل پاتا ہے
مثال: “میں کامیاب ہوں” روزانہ کہنے سے 21سے40 دن میں دماغ اس بات کو قبول کر لیتا ہے اور کامیابی کے مواقع تلاش کرنے لگتا ہے۔
دماٖ غ آر اے ایس فلٹر جو اہم چیزیں دکھائے
دماغ کا فلٹر آر اے ایس (ریٹیکیولر ایکٹیویٹنگ سسٹم
ہر سیکنڈ ہمیں 20 لاکھ معلومات ملتی ہیں
آر اے ایس صرف وہ معلومات منتخب کرتا ہے جو اہم ہیں
جو آپ بار بار سوچیں آر اے ایس سسٹم اسی سے متعلق چیزیں تلاش کرتا ہے
مثلا نئی گاڑی خریدنے کا سوچنے پر اچانک سڑک پر وہی ماڈل نظر آنے لگتا ہے۔
دماغی تصویر کشی
تصور میں کرنے سے دماغ کے وہی حصے روشن ہوتے ہیں جو حقیقی کام میں روشن ہوتے ہیں
ٹاپ کھلاڑی اپنی کامیابی ذہن میں دیکھ کر حقیقی طور پر بہتر بنتے ہیں
خود پوری ہونے والی پیشن گوئی
آپ کی توقع آپ کے اعمال کو سچ کر دیتی ہے۔
مثلا میں سیلز میں ماہر ہوں سوچیں … اعتماد سے بات کریں … لوگ سنیں … فروخت بڑھ جائے … آپ ماہر بن جائیں۔
ذہن کی پروگرامنگ کریں
مرحلہ 1: واضح مقصد طے کریں
غلط: “میں امیر بننا چاہتا ہوں”
صحیح: “میں مسلسل ترقی کر رہا ہوں اور 31 دسمبر 2026 تک ہر ماہ 2 لاکھ روپے مستقل آمدنی حاصل کر رہا ہوں۔””
مرحلہ 2: تصوراتی مشق
روزانہ 10سے15 منٹ
آنکھیں بند کریں
اپنے مقصد کو حاصل شدہ دیکھیں
رنگ، آوازیں اور احساسات شامل کریں
خوشی محسوس کریں جیسے یہ ابھی ہو رہا ہے
مرحلہ 3: مثبت جملے
دن میں 3 بار دہرائیں
“اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے میں ہر روز بہترسے بہتر ہو رہا ہوں”
“میرے پاس کامیابی کی تمام صلاحیتیں ہیں”
“میں اپنے مقاصد حاصل کر رہا ہوں”
مرحلہ 4: یقین اور عمل
تصور + یقین = قابل عمل خیالات
نیا خیال آئے گا
ملاقات یا موقع ملے گا
ان پر فوری عمل کریں
حقیقی زندگی کی مثالیں
جم کیری غریبی میں رہتے ہوئے انہوں نے خود کو 10 ملین ڈالر کا چیک لکھا۔ 5 سال بعد حقیقت میں وہ رقم حاصل ہوئی۔
آرنلڈ شوارزنیگر نے پہلے اپنے آپ کو کائنات کا سب سے طاقتور انسان تصور کیا، پھر حقیقت میں وہی مقام حاصل کر لیا۔
محمد علی: “میں چیمپیئن بننے سے پہلے چیمپیئن تھا” – ذہنی طاقت کی مثال۔
احتیاط اور توازن
صرف سوچنا کافی نہیں+ عمل = کامیابی
منفی خیالات سے بچیں: “میں ناکام نہیں ہوں” نہیں، بلکہ “میں کامیاب ہوں” سوچیں
صبر رکھیں: نیچر پاتھ وے بنانے میں 21سے66 دن لگتے ہیں
مستقل مزاجی کامیابی کی کنجی ہے
اکیس 21دن کا چیلنج
ایک سے سات دن
صبح 5 منٹ تصور
دن میں کسی بھی وقت 55 بارمثبت جملے لکھیں
رات کو بھی 5 منٹ دہرائیں
آٹھ سے چودہ دن
تصور کا وقت 10 منٹ کریں
چھوٹا عملی قدم اٹھائیں
نتائج نوٹ کریں
پندرہ سے اکیس دن
تصورات میں مزید تفصیل شامل کریں
کامیابی کے چھوٹے لمحات جشن منائیں
اعتماد بڑھائیں

