ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے اپنے اندر کےخوف کو کیسے ختم کریں؟

ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے اپنے اندر کےخوف کو کیسے ختم کریں؟
0 0 votes
Article Rating

ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے

اپنے اندر کےخوف کو کیسے ختم کریں؟

ہر رات جب دنیا سو رہی ہوتی ہے
ایک ہلکی سی، دھیمی سی سرگوشی آپ کے دل کے کونے کونے میں اٹھتی ہے
“کیا میں واقعی یہ کر سکتا ہوں؟ کیا میں ٹیلی پیتھی ماسٹر بن سکتا ہوں؟

یاد رکھی۔۔۔۔۔۔ یہ سوال کمزور لوگ نہیں کرتے۔
بلکہ وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں اللہ نے ایک خاص راستے کے لیے چُنا ہوتا ہے۔

ٹیلی پیتھی کوئی عام راستہ نہیں
یہ وہ سرحد ہے جہاں دل اور دماغ ایک ہو جاتے ہیں جہاں آپ خود سے پہلی بار سچی ملاقات کرتے ہیں اور اپنی چھپی ہوئی سپر پاورز کو پہچان کر ایکٹیو کر سکتے ہیں۔

اس راستے کا پہلا قدم ہے یقین
ایسا یقین
جو پتھروں پر چلتے قدموں کو بھی لرزنے نہ دے
جو زخموں سے بہتے دل کو بھی ہار ماننے نہ دے
جو مشکل حالات، ٹوٹتے رشتے، اور ناامیدی کے سامنے بھی
آدمی کے سینے میں ایک شعلہ جلائے رکھے۔
یہ وہ یقین ہے جو انسان کو وہاں کھڑا کر دیتا ہے جہاں پوری دنیا ہار مان کر بیٹھ جاتی ہے۔

ایسا یقین کیسے پیدا کریں

 نمبر1۔ اپنے خوف کو کاغذ پر اتار دو

یہ سب سے طاقتور اور فوری علاج ہے
یہ وہ پہلا قدم ہے جو 90% سٹوڈنٹس کی سب سے بڑی رکاوٹ ہٹا دیتا ہے
اگر آپ ٹیلی پیتھی سیکھتے ہوئے دل میں یہ خیال آئے کہ
“کوئی ہنسے گا… ناکام ہو گیا تو؟…
شاید میرے اندر صلاحیت ہی نہ ہو…
تو یاد رکھیں
یہ خوف آپ کے دماغ کا خود ساختہ بنایا ہوا ہے حقیقت نہیں۔

خوف ختم کرنے کا آسان طریقہ

خوف ختم کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس خوف کو کاغذ پر لا کر کھڑا کر دو۔
رات کو لائٹ ہلکی کر لیں
ایک کاغذ اور پین لے کر بیٹھ جائیں۔
پہلے سوچیں کہ آپ کو ٹیلی پیتھی سیکھنے میں کس کس بات کا ڈر اور خوف ہے؟
پھر آپ سوچے سمجھے بغیر اس پر لکھنا شروع کر دیں جیسے آپ اپنے سب سے قریبی دوست کو بتا رہے ہیں
مثال طور پر
لوگ کیا کہیں گے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے

اگر کچھ نہ ہوا تو پیسے اور وقت ضائع ہو جائیں گے

شاید میرا دماغ ہی اتنا تیز نہیں کہ میں ٹیلی پیتھی ماسٹر بن سکوں

گھر والے سمجھیں کیا سمجھیں گے میں کیا سیکھ رہا ہوں
اگر میں نے دوست کو ٹیلی پیتھی سے بلایا اور وہ نہ آیا تو مجھے شرمندگی ہو گی کہ میں ناکام ہو گیا ہوں

اگر موجودہ لیول مکمل کرنے کے بعد بھی کچھ نہ ہوا تو کیا ہو گا؟

یہ چند جملے آپ کو سمجھانے کے لیے لکھیں ہیں آپ جو جو بھی دل میں ہے لکھتے جائیں

 پانچ سے سات منٹ تک لکھتے رہیں جب تک دل ہلکا نہ ہو جائے

لکھتے وقت ذہن میں رہے کہ یہ بس میرے دماغ کے پرانے خیالات ہیں یہ سچ نہیں ہیں
اب میں انہیں ذہن سے نکال رہا ہوں۔
جب لکھ لیں تو انہیں اونچی آواز میں پڑھیں اور جب انہیں پھاڑ کر پھیکنے لگیں تو کہیں
اللہ کے فضل وکرم سے یہ خوف اب ختم ہو گیا ہے میرے اندر صرف یقین باقی ہے۔
بس۔
کاغذ پھاڑنے کے بعد جو سکون ملے گا وہ آپ کو خود بتا دے گا کہ یہ طریقہ کتنا زبردست اور طاقتور ہے۔
کاغذ کو پھاڑ دو یا جلا دو (محفوظ طریقے سے)
اور زور سے کہیں
یہ بس ایک خیال تھااب یہ ختم ہو گیا۔
اب میری کامیابی کی باری ہے
یہ عمل کریں تو رات کو سوتے وقت پہلی بار آپ کو سکون محسوس ہو گا۔

اس سے پہلے جن جن کو ایسا کرنے کا کہا گیا ان سب سٹوڈنٹس نے مجھے بتایا کہ اسی رات ان کا پہلا خواب میں  ٹیلی پیتھک تجربہ ہوا۔

نمبر 2۔  اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیاں جمع کریں یہی آپ کی اصلی پاور اور کامیابی ہے

آج اگر آپ نے10 سیکنڈ کے لیے ذہن بالکل خاموش کر لیا

ہاتھوں میں ہلکی سی گرمی محسوس کی

والدہ  کے موڈ  کا  گھر داخل پتا چل گیا
کسی دوست کا پیغام آنے سے پہلے اس کا خیال آ گیا
تو یہ کوئی “اتفاق” نہیں
یہ آپ کی ٹیلی پیتھی پاور کا کمال ہے۔
ہر رات سونے سے پہلے فون میں یا ڈائری میں لکھو
آج میری جیت
ایک مہینے بعد جب تم پرانی اندراج پڑھو گے تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔
آپ خود حیران ہوں گے کہ “ارے! میں تو بہت آگے نکل آیا/آئی

نمبر3. خود سے محبت بھری گفتگو کریں  

انسان دوسروں سے نہیں
زیادہ تر اپنے آپ کے الفاظ سے شکست کھاتا ہے۔
اس لیے ہمیشہ پازیٹیو ہی سوچیں
 میں سیکھ رہا ہوں… اور میں آگے بڑھ رہا ہوں
یہ الفاظ نہیں بلکہ پر ہیں۔ جو آپ کو بلندی پر پہنچا دیں گے۔

ایک ٹیلی پیتھ کے لیے اندرونی گفتگو ساری دنیا سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

اپنا لہجہ اپنے لیے نرم کر لیں۔
یقین خود بخود مضبوط ہونے لگے گا۔

نمبر 4.پرفیکٹ ہونے کا انتظار نہ کریں راستہ چلتے ہوئے ہی بنتا ہے

کامل انسان دنیا میں کوئی نہیں۔
لیکن کامیاب انسان وہ ہے جو ادھورے ہونے کے باوجود چل پڑتا ہے۔

یاد رکھیں
جو شخص قدم اٹھاتا ہے وہ منزل کا پہلا حق دار بن جاتا ہے۔

آج اگر آپ نے تھوڑج پریکٹس اور ساتھ تجربات بھی کیے ہیں
تو آپ بہت آگے ہیں اُن سے
جو ابھی تک سوچ ہی رہے ہیں۔
اگر آج اپنی ایکسر سائز کر لیں گے اور روزانہ تجربات جاری رکھیں گے تو یقین رکھیں کل آپ کی ماسٹر بنیں گے۔
جو انتظار کرتا ہے کہ حالات موافق ہوں گے تو شروع کروں گا اور اس جب موڈ بنے گا جب وقت ملے گا … تو وہ ہمیشہ انتظار ہی کرتا رہتا ہے۔

نمبر5۔  اپنے اردگرد ایسی انرجی رکھیں جو آپ کو بلند کرے

انسان وہاں تک جاتا ہے جہاں تک اس کا ماحول اسے جانے دیتا ہے۔

منفی لوگ شک والے لوگ ہر چیز میں مسئلہ ڈھونڈنے والے لوگ
آپ کی ٹی پیتھک فریکوئنسی کو کمزورکر دیتے ہیں۔
ہذا اپنے گرد ایسے لوگ رکھیں جو آپ پر یقین کریں
جو آپ کو آگے بڑھتا دیکھ کر خوش ہوں
جو آپ کے لیے بنیں اور روشنی بڑھائیں۔

ایسے لوگ آپ کی بیٹری چارج کرتے ہیں۔
باقی سب کو پیار سے “اللہ حافظ” کہہ دیں ۔

نمبر6۔  اپنی پرانی کامیابیاں یاد کریں یہ آپ کی اصل طاقت ہیں

جب یقین کمزور ہونے لگے تو فوراً ماضی کی طرف دیکھیں۔

وہ لمحہ یاد کریں جب آپ نے
پہلی دفعہ نقظہ کو بلیک ہونے کے باوجود اپنی ذہنی پاور سے سفید دیکھا۔۔۔

جب پہلی بار کسی شخص کے دل کی حالت محسوس کی

کسی کے بارے میں سوچا اور فون آ گیا۔
ہاتھوں کے بیچ میں گیند جیسی توانائی بنی
یہ آپ کی اصلی طاقت کے سرٹیفکیٹ ہیں۔
جب دل میں وسوسے آئیں تو اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابی کو دہرائیں… آپ کا یقین لوہے جیسا ہو جائے گا۔
یہی لمحے آپ کو آگے لے جائیں گے۔
یہ ثبوت ہیں کہ آپ ٹیلی پیتھی کے لیے چُنے ہوئے ہیں۔

نمبر7۔  جسم کو طاقتور بنائیں روح خود بخود طاقتور ہو جائے گی

سپر مائنڈ پوزیشن میں 
سیدھا کھڑے ہوں
گہری سانسیں لیں
پراعتماد چلیں
یہ چھوٹے عمل نہیں
یہ انرجی کمانڈز ہیں۔

نمبر8۔  ناکامی نام کی کوئی چیز نہیں… صرف “اگلی کوشش کا اشارہ” ہے

اگر آج ٹیلی پیتھی پیغام ٹرانسفر نہیں ہوا تو ہنس دو اور کہیں
شکریہ کائنات ۔۔۔ تُو نے مجھے بتا دیا کہ میرا طریقہ درست نہیں تھا…
اب میں درست طریقہ سے دوبارہ ٹیلی پیتھی پیغام بھیجتا ہوں اور اس بار تو ضرور پیغام چلا جائے گا اور اسی پر عمل ہو گا
ہر بڑا ٹیلی پیتھ یہیں سے گزرا ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ وہ ہار نہیں مانتا تھا آپ بھی صرف کامیاب ہونا سیکھیں۔

نمبر9۔  روزانہ ایک چھوٹا ٹیلی پیتھک قدم انقلاب لے آتا ہے

آپ کو آج پہاڑ نہیں ہلانا۔
آپ کو بس ایک پتھر حرکت دینا ہے۔
1۔ ٹیلی پیتھی تجربہ سے پہلے ایک منٹ اپنے مطلوبہ شخص کے چہرے پر مکمل فوکس کریں
2۔ چند سیکنڈ انرجی بال بنائیں
3۔ اپنے ذہن سے اپنے پیغام کو ایک روشنی کی لہروں کی طرح نکلتے ہوئے اور اس شخص کے ذہن تک جاتے اور ایک کنیکشن سا بنتے دیکھیں
4۔اب جو ٹیلی پیتھی کے ذریعے پیغام دینا ہے وہ بتائے گئے طریقے کے مطابق 3 سے 4 مرتبہ دیں
اور روزانہ اپنے تجربات لکھتے جائیں اور مجھ سے شئیر بھی روزانہ شئیر کریں۔

شروع میں کامیابی کا تناسب ممکن ہے کم ہو لیکن مسلسل پریکٹس سے بالآخر ایک دن آپ خود کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔۔۔۔ اب سارے تجربات کامیاب ہو رہے ہیں

 آخری اور سب سے سچی بات یہ ہے کہ
آپ پہلے سے ٹیلی پیتھی پاور کے مالک ہیں
بس آپ نے اپنی اس قوت کو بیدار کرنا ہے اور اس سے کام لینا ہے۔

اگر آپ نے یہ آرٹیکل مکمل پڑھ لیا ہے
تو خوشی سے ہو جائیں
آج آپ کے ٹیلی پیتھک سفر کی پہلی جیت مکمل ہو چکی ہے۔

اس تحریر سےسوالات
انتہائی توجہ سے جوابات دیں۔

سوال نمبر 1. ٹیلی پیتھی سیکھتے ہوئے آپ کو سب سے پہلا خوف کس بات کا محسوس ہوتا ہے  اور جب آپ اسے کاغذ پر لکھیں گے تو کیا تبدیلی آئے گی؟

سوال نمبر 2. گزشتہ 24 گھنٹوں میں آپ نے کوئی ایک ٹیلی پیتھک کامیابی حاصل کی ہو تو وہ کیا تھی؟ اور اس نے آپ کے یقین کو کیسے مضبوط کیا؟

سوال نمبر 3. آپ اپنی ذات سے جو اندرونی گفتگو کرتے ہیں، وہ زیادہ تر مثبت ہوتی ہے یا منفی؟

اور آپ اسے بہتر بنانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

سوال نمبر 4. ٹیلی پیتھی کی پریکٹس میں آپ کی کون سی پرانی کامیابی ایسی ہے جو یاد آتے ہی آپ کا یقین دوبارہ مضبوط کر دیتی ہے؟

سوال نمبر 5. روزانہ ٹیلی پیتھی کا ایک چھوٹا قدم (جیسے انرجی بال بنانا، فوکس کرنا، یا کسی شخص کا موڈ محسوس کرنا) آپ کے طویل سفر میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے؟

 

0 0 votes
Article Rating

You may also like...

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
11 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
Guest
مدثر شبیر
21/11/2025 4:28 pm

1۔الحمداللہ مجھے آپ سے ملنے کے بعد یہ خوف نہیں آیا۔کہ ٹیلی پیتھی ماسٹر نہ بنپاؤنگا ۔بلکہ اب مجھے اپنی کامیابی کا پورا یقین ہے ۔انشاءاللہ بہت جلد میرے قدم منزلوں کو روند رہے ہونگے۔میرے پاس خوف کا نام و نشان کاغذ پر لکھنے کے لیے۔
2۔الحمداللہ روز نت نئے تجربات چھوٹے چھوٹے ہوتے رہتے ہیں ۔
3۔ٹیلی پیتھی خود سے گفتگو کرنے سے ہی شروع ہوتی ہے ۔اور میں ہمیشہ مثبت گفتگو کرتا ہوں۔
4۔میرے اللہ نے ہمیشہ مجھے مشکلات اور رکاوٹوں سے گزار کر مجھے کامیاب کیا ہے۔بس یہی یقین مجھے گرنے نہیں دیتا۔
5۔ٹیلی پیتھی کے سفر میں آپ کے بتاۓ ۔تجربات آنے والے وقت بڑے تجربات کرنے میں آسانی اور مہارت پیدا ہو گی۔

Guest
عدیل ظفر
22/11/2025 1:52 pm

1*
خوف تو کبھی نہیں کسی بات کا ہوا ہاں ذہن کبھی کبھی ڈگمگا ضرور جاتا ہے وہ بھی اس لیے کہ ہم نے عملی نمونہ نہیں دیکھا کہ یہ کیسے ہوتا ہے کیا ہوگا۔
2*
خود کو ایک پیغام دیا کہ صبح اس پر ہر صورت عمل کرنا ہے۔اور وہ عمل 100 فیصد ہو گیا اس سے یقین مضبوط ہوا۔
3*
پازیٹو۔
4*
چار پانچ تجربات جن میں فوری کامیابی ملی تھی۔
5*
جیسے جیسے چھوٹی کامیابیاں ملتی ہیں ویسے ویسے طویل سفر کا اثر کم ہو جاتا ہے جس سے زیادہ ٹائم کا احساس نہیں ہوتا بلکہ اپنے مقصد میں کامیابی کی طرف ذہن ہو جاتا ہے۔

Guest
Hakeem asif Raza
22/11/2025 12:08 pm

ناکامی کا خوف اور اسکا حل لکھ کر اس کو جلانے کے بعد خیال کرنا ہے کہ وہ خوف ختم ہو گیا اور صرف یقین باقی ہے
ایک پیغام دیا جو فوری موصول ہوا اور میرے یقین میں مزید قوت پیدا ہوئی اس سے
مثبت ہوتی ہے
میری ہر کامیابی مجھے کامیابی سے قریب تر کر رہی ہ
ہر قدم مُجھے کامیابی کی طرف گامزن کر رہا ہے
ے

Guest
Mohammad Kaif
22/11/2025 11:55 am

1) isiliye Shayad main ne ab tak kisi ko nahi bataya…aur inshallah,hum is me zaroor kamyab honge..ye khof nahi hai yaqeen hai..
2)samne wale ke baat karne se ye mehsoos hua ke wo aage kya kehne wala hai..
3)halat ke uper rehta hai…zyada tar musbit hi hoti hai kyunki soch bhi aksar musbit hoti..
4)shuru me jo kamiyabi mili thi,jo mere cusion se baat band thi aur use message diya tha k mujh se kisi bhi mozu per baat kare .aur us waqt mere pass kitab thi haath me to us ne mujh se kitab mang li thi.
5)hamare yaqeen me hamare tazurbe me aur hamare andruni energy me is ka bahut ahem kirdar hai jo hamare andar rozana kamyabi ka jazba paida karta hai…

Guest
Tadin
22/11/2025 11:03 am

1:sb SE bara khud to y hi h k kamyabi huni chahye isko end krne k le paper p likh k zaya krne SE wo khud khatm huga
2:mje Jana tha kisi k Sath m n call ki jb m bell krun ap gate p ajaen but jb m wahan gai to dekh k shocked hua k gate k bjae wo usi stop p then jb m gai is SE mje yaqen hua k bina converd kye masg Chala gya
3:wo to positive hi huti h
4:ab yad to ni but kamyabi ka yaqen
5:G kyun ni chuti kamyabi hi bari kamyabi lati h

Guest
ZA.
21/11/2025 9:15 pm

1.
آپ کی رہنمائی سے پہلے لیول میں اس پر عمل کیا تھا، الحمدللّٰہ اُس کی برکت سے میں آج تک ہر کمزور خیال سے مکمل محفوظ ہوں۔
2.
کسی بھی شخص سے ملتے ہی میں اس کی اینرجی اور دل کی کیفیت محسوس کر لیتا ہوں۔
3.
میں خود سے مثبت گفتگو کرتا ہوں، تنہائی اور خاموشی پسند کرتا ہوں، اسی لیے ایسے لوگوں سے دور ہی رہتا ہوں جن سے منفی اینرجی محسوس ہو۔
4.
الحمدللّٰہ سر، آپ کی رہنمائی سے بہت سے تجربات کامیابی سے مکمل ہوئے ہیں۔
5.
روزانہ کا ایک چھوٹا قدم میری ذہنی فریکوئنسی کو بلند کرتا رہتا ہے، اور یہی تسلسل بڑے ٹیلی پیتھک اثرات کی بنیاد بن جاتا ہے

Guest
Rabia
21/11/2025 7:43 pm

1- mujhy koi khoof mehsos nhi hota, sirf mujhy lagta hai k waqat bhut ziada hai
Shayed main himat na haar don
2- koi lhass nhi
3- positive
4-nukty PRR focus ko 40 minutes tkk maintain Kia tha
5- I blew Qatar qatra dirya bnta hai
Tu hrr rooz choti si tabdeli barri kamyabi Ki taraf isharah hai

Guest
Sidra naz
21/11/2025 6:56 pm

ویسے تو کوئی خوف نہیں ہے بس کبھی کبھی ناکامی کا خوف ہوتا ہے انشاءﷲ یہ طریقہ کار اختیار کرنے کےبعد وه خوف بھی ختم ہوجائے گا۔۔
موم بتی کے تجربے میں موم بتی ٹیلی کائنسس کے زریعے ہلتی اور ڈگمگاتی رہی ابھی کے لیئے یہی بہت کامیابی ہے۔۔
میں اپنی ذات سے ہمیشہ مثبت گفتگو کرتی ہوں کبھی خود سے منفی گفتگو نہیں کرتی۔۔
ابھی تو پہلا لیول ہے دو تین تجربے کیئے ہیں وه الحمدلله کامیاب رہے تو ان سے ہمّت بڑھتی ہے۔۔
ہر قدم کامیابی کی طرف بڑھاتا ہے ۔۔روز کی پریکٹس سے نا صرف ٹیلی پیتھی کی طرف کامیابی سے بڑھتے ہیں بلکہ یہ مشقیں صحت پر بھی مثبت اثرات ڈالتی ہیں۔ ۔

Guest
روبینہ پرویز
21/11/2025 6:49 pm

1: سر مجھے اس راستے پر چلنے سے پہلے بھی کوئ خوف نہیں تھا بلکہ یقین تھا
2: سر اپنے فیملی ممبر میں کسی ایک کو کوئ پیغام دیتی ہوں تو وہ ان تک پہنچتا ہے اور میرا یقین اور مضبوط ہو جاتا ہے
3:میں اپنے آپ سے جو گفتگو کرتی ہوں وہ پازیٹو ہوتی ہے اور اسکو بہتر بنانے کے لیے مزید پازیٹو جملے تیار کرتی ہوں
4:جب بھی میرے کسی اپنے کو کوئ تکلیف ہوتی ہے تو مجھے بے چینی اور گھبراہٹ ہوتی ہے دل بے چین ہو جاتا ہے یہی ٹیلی پیتھی پاورز ہیں بس انکو نکھارنا ہے آپکی رہنمائ میں
5:سر یہ چھوٹی چھوٹی پریکٹس ہمارے طویل سفر کو آسان اور خوشگواری کردیں گی اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ ہم کب منزل پر پہنچ گئے

Guest
Abdul Maroof
21/11/2025 5:17 pm

سوال 1
میرا اصل خوف صرف ناکامی کا ہوتا ہے،
اور جب اسے کاغذ پر لکھ کر پھاڑ دیتا ہوں تو وہ وہم ختم ہو جاتا ہے
سوال 2
آج کوئی واضح کامیابی نہیں ملی،
لیکن کوشش جاری رہنا خود ایک کامیابی ہے
سوال 3
میری گفتگو کبھی مثبت، کبھی منفی ہوتی ہے،
مگر دل میں یقین ہے کہ آخر کار کامیابی مل ہی جائے گی
سوال 4
میری چند کامیابیاں—جیسے نقطے کا رنگ بدلنا—مجھے یاد دلاتی ہیں کہ میں صحیح راستے پر ہوں۔
سوال 5
ہر چھوٹا عمل احساس دلاتا ہے کہ رفتار چاہے کم ہو،
ترقی مسلسل جاری ہے۔

Guest
Abdul Quddoos
21/11/2025 4:46 pm

1خوف تو بس یہ ہی ہوتا ہے کہ کہیں ناکامی نا ہو جائے۔ مگر لکھ کر پھاڑ دینے سے سکون مل جاتا ہے۔

2- فلحال۔کامیابی نہیں ملی۔ مگر کوشش جاری ہے۔

3- منفی اور مثبت دونوں ہوتی ہیں لیکن منفی زیادہ ہوتی ہیں۔ ۔ اس بات کا بھی ادراک ہوتا ہے کہ کامیابی آخر مل ہی جائے گی چاہے کتنا ہی وقت لگ جائے۔

4- زیادہ نہیں ہیں۔ دائرے کا رنگ بدلنا، کسی کے دماغ میں درست چیر بھجی کر کنفرم کرنا وغیرہ۔

5- اس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ بہت آہستہ ہی سہی، کامیابی مل رہی ہے۔

error: Content is protected !!
11
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x