ٹیلی پیتھی سے پیغام کیسے بھیجیں | غلام مصطفےٰ مہر

ٹیلی پیتھی سے پیغام کیسے بھیجیں | غلام مصطفےٰ مہر
5 1 vote
Article Rating

ٹیلی پیتھی سے پیغام کیسے بھیجیں | غلام مصطفےٰ مہر

 

ٹیلی پیتھی سے پیغام کیسے بھیجیں یہ سوال صدیوں سے انسان کے ذہن میں موجود ہے۔
 ٹیلی پیتھی ایک یسی قدرتی ذہنی صلاحیت ہے
جس کے ذریعے انسان بغیر زبان، آواز، موبائل یا کسی ظاہری ذریعے کے اپنے خیالات، احساسات اور پیغامات  ناصرف دوسروں کے  ذہن تک پہنچا سکتا ہے
بلکہ ان کو کنٹرول کر کے ہر جائز کام کروایا جا سکتا ہے

غلام مصطفےٰ مہر کی ٹیلی پیتھی تکنیکیں عملی مشقوں اور برسوں کے تجربات پر مبنی ہیں
جن کے ذریعے ہزاروں افراد نے ٹیلی پیتھی سے پیغام بھیجنے کے نتائج حاصل کیے۔
ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس کے پہلے ہی لیول میں وہ دو بنیادی اور آزمودہ طریقے سکھائے جاتے ہیں
جن پر برسوں کا تجربہ، مشاہدہ اور عملی کامیابیاں  ہیں۔
یہ طریقے اس انداز سے ترتیب دیے گئے ہیں
کہ سیکھنے والا بغیر الجھن، بغیر خوف اور بغیر کسی خطرے کے اپنے ذہن کی پوشیدہ طاقت کو محسوس 
اور استعمال بھی کر سکتا ہے
یہی وجہ ہے کہ یہ مشقیں نہ صرف آسان محسوس ہوتی ہیں بلکہ بہت کم وقت میں ذہن پر اپنا اثر بھی ظاہر کر دیتی ہیں۔

ٹیلی پیتھی کے ذریعے رابطہ کیسے قائم کریں
اگر آپ واقعی جاننا چاہتے ہیں کہ ٹیلی پیتھی سے رابطہ کیسے قائم کیا جاتا ہے
اور ذہن سے ذہن تک پیغام کیسے پہنچایا جاتا ہے
تو ابتدائی طور پر غلام مصطفےٰ مہر کے تجربات کے مطابق ٹیلی پیتھی کے دو بنیادی طریقے زیادہ مؤثر ہیں

جب آپ ایکسر سائز کے ذریعےان میں مہارت حاصل کر لیں گے تو انہی طریقوں میں اپنی ضرورت کے مطابق تھوڑی سی تبدیلی کر کے مکمل طریقہ کار سمجھا دیا جائے گا
اس سلسلے کی اس سے پہلے ایک خصوصی تحریر ٹیلی پیتھی پیغام بھیجنے کا طریقہ غلام مصطفے’ مہر جو 25 جنوری بروز اتوار کو ویب سائٹ پر شئیر کی گئی تھی اور اس کا لنک آپ کو شئیر کیا تھا آپ نے توجہ سے پڑھ لی ہے اور اس کے آخر میں دیے گئے تین سوالات کے جواباٹ دیے گئے تھے جنہوں نے ابھی تک اسے پڑھا نہیں اسے بھی توجہ سے پڑھیں۔
آج ٹیلی پیتھی سے پیغام بھیجنے کا جو طریقہ شئیر کیا جا رہا ہے وہ آزمودہ ہے مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ اسی ہفتے آپ کے ٹیم ممبرز جو مختلف لیولز پر ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائز کر رہے ہیں وہ ان دونوں طریقوں پر عمل کرتے ہوئے کامیاب تجرںات کر رہے ہیں۔
آج میں اس خصوصی تحریر میں ٹیلی پیتھی میسج بھیجنے کے دوسرے طریقہ کو عام فہم الفاظ اور اندازِ میں سمجھاؤں گا کہ ٹیلی پیتھی کے ذریعے پیغام کیسے بھیجا جاتا ہے۔

ٹیلی پیتھی سے پیغام کیسے بھیجیں | غلام مصطفےٰ مہر
مکمل رہنمائی: قدم بہ قدم

پرسکون جگہ پر بیٹھیں
کسی پرسکون جگہ بیٹھ جائیں جہاں کم از کم چند منٹ تک آپ کو کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔ سیدھی کمر کر کے ساتھ بیٹھیں تاکہ سانس اور توجہ متوازن رہے۔

سانس کی مشق
گہری سانس لینے اور چھوڑنے کے 3 راؤنڈ مکمل کریں۔ اس کا مقصد ذہن کو پرسکون کرنا اور دماغ کو فوکس کی حالت میں لانا ہے۔
سائنسی طور پر گہری سانسیں لینے سے دماغ میں آکسیجن کی مقدار بڑھتی ہے جس سے توجہ اور یکسوئی بہتر ہوتی ہے۔

تصورکریں
اب اپنی آنکھیں بند کرلیں جس شخص کو آپ پیغام دینا چاہتے ہیں، اس کا چہرہ اور خاص طور پر آنکھیں اپنے ذہن کی سکرین پر صاف اور واضح دیکھیں۔

ذہنی تعارف اور پیغام
اب اسے موبائل کال کی طرح ٹیلی پیتھی سے مخاطب کریں مثال کے طور پر میں فہد ہوں۔ تم میری آواز سن رہے ہو۔ تم فوراً میرے پاس آ جاؤ۔
آپ اسے حکم کے انداز میں کہیں

عمل ہوتا ہوا دیکھیں
پھر آپ تصور میں دیکھیں کہ وہ شخص آپ کا پیغام سنتے ہی سر ہلا رہا ہے کھڑا ہو گیا ہے اور آپ کی طرف آ رہا ہے۔
اس وقت ذہن میں تصویر جتنی واضح اور مکمل ہو گی اتنا ہی اثر فوری ہو گا کیونکہ انسانی دماغ واضح تصور کو حقیقت کے قریب سمجھتا ہے اور اسی کے مطابق ردِعمل دیتا ہے۔

تجربے کا دورانیہ
اس پورے عمل کا دورانیہ 20 سیکنڈ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی 20 سیکنڈ کے اندر پیغام دینا اور عمل ہوتا ہوا دیکھنا ہے۔
کیونکہ شروع میں بمشکل 20 سیکنڈ تک ہی آپ فوکس توجہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔
بیسسیکنڈ بعد اہنی آنکھیں کھولیں پورے اعتماد کے ساتھ یقین رکھیں کہ آپ کا پیغام پہنچ چکا ہے۔

ٹیلی پیتھی سے پیغام کیسے بھیجیں | غلام مصطفےٰ مہرذہنی فوکس اور یقین
بار بار شک کرنا ذہنی فوکس کو کمزور کر دیتا ہے
سائنسی طور پر اسے یوں سمجھیں کہ آپ کا دماغ مسلسل لہریں پیدا کرتا ہے۔ جب آپ گہری توجہ اور یکسوئی کی حالت ہوتے ہیں تو دماغ کی لہریں پرسکون حالت میں آ جاتی ہیں۔
اس حالت میں آپ جو سوچتے اور محسوس کرتے ہیں وہ بات دل و دماغ میں جلدی اور فوری بیٹھ جاتی ہے۔
ٹیلی پیتھی کی ایکسر سائز دراصل ذہنی فوکس تصور اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی تربیت ہے۔
اس لیے  آپ کی جتنی یقین کے ساتھ گرپ ہو گی  اتنے ہی  تجربات کامیاب ہوں گے۔

ٹیلی پیتھی تجربات ہمیشہ پرسکون ذہنی حالت میں کریں۔
اگر آپ کے ٹیلی پیتھی پیغام پر عمل نہ ہو تو پریشان نہیں ہونا  چند دن کی پریکٹس سے تجربات کامیاب ہونا  شروع ہو جائیں گے۔

اس خصوصی تحریر سے اہم سوالات

سوال نمبر 1 : ٹیلی پیتھی میں سانس کی مشق کا کیا فائدہ ہے؟

سوال نمبر 2 : ٹیلی پیتھی پیغام بھیجنے کا دورانیہ 20 سیکنڈ کیوں رکھا جاتا ہے؟

سوال نمبر 3 :  ٹیلی پیتھی کی مشقیں ذہن میں کون سی صلاحیتیں پیدا کرتی ہیں؟

 

5 1 vote
Article Rating

You may also like...

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
9 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
ذہن کی فریکوئنسی اور ٹیلی پیتھی
30/01/2026 8:31 pm

[…] ٹیلی پیتھی ایک سائنسی حقیقت […]

Guest
Hakeem asif Raza
29/01/2026 8:39 pm

سانس کی ایکسرسائز سے توجہ بڑھتی ہے ذہن تر و تازہ رہتا ہے
اس لیے کہ ذہن زیادہ دیر تک یکسوئی برقرار نہیں رکھ سکتا
ٹیلی پیتھی ایکسرسائز مائنڈ ٹو مائنڈ رابطے کے لیے بہت ضروری ہیں

Guest
Sidra naz
29/01/2026 8:13 pm

سانس کی مشق کا فائدہ یہ ہے کہ جسم میں آکسیجن کی مقدار بڑھتی ہے اور اس سے دماغ میں فوکس اور یکسوئی بڑھتی ہے
کیونکہ ابتدائی مرحلوں میں بیس سیكنڈ تک ہی تصور قائم رہتا ہے پھر تصور ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔
ٹیلی پیتھی کی مشقوں سے ذہن کی یکسوئی بڑھتی ہے فوکس اچھا ہوتا ہے پینل گلانڈ ایکٹو ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم کسی سے بھی مائنڈ ٹو مائنڈ لنک قائم لیتے ہیں۔۔

Guest
Tadin
29/01/2026 7:10 pm

1-iska maqsad zehan ko pursukun or focus krna h is SE oxygen levels increase huta h
2-kunke start m 20 second tk hi focus rhta h
3-y exercise darasal mind ko focus krti hn or yaqen ki taqat ko barhati hn

Guest
Abdul Maroof
29/01/2026 4:11 pm

ذہن میں اکسیجن کی مقدار بڑھاتی ہے اور فوکس کو بڑھاتی ہے
کیونکہ ابتدا میں 20 سیکنڈ سے زیادہ فوکس برقرار رکھنا مشکل ہے
ذہنی فوکس کو بڑھاتی ہے اور خود اعتمادی میں اضافہ کرتی ہے

Guest
Shahbaz Khan
29/01/2026 1:58 pm

1.
ذہن میں آکسیجن کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور آپ مؤثر فوکس کرسکتے ہیں
2.
کیونکہ ابتداء میں اس سے زیادہ فوکس برقرار رکھنا مشکل ہوتا جاتا ہے
3.
خود اعتمادی پیدا کرتی ہے

Guest
روبینہ پرویز
29/01/2026 12:33 pm

1: سانس کی مشق کا مقصد ذہن کو پر سکون کرنا اور فوکس کی حالت میں لانا ہے
گہری سانس لینے سے دماغ میں آکسیجن کی مقدار بڑھتی ہے اور توجہ اور یکسوئی بڑھتی ہے
2:ٹیلی پیتھی پیغام بھیجنے کا دورانیہ 20 سیکنڈ اس لیے رکھا ہے کہ شروع میں 20 سیکنڈ تک ہی فوکس قائم رہتا ہے
3:ٹیلی پیتھی کی مشقیں فوکس کو اور تصور کی طاقت کو بڑھاتی ہیں اور ہمارے اندر خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں

Guest
Zubair Ahmed
29/01/2026 11:14 am

سانس کی مشق دماغ کو آکسیجن فراہم کرتی ہے، جس سے فوکس تیز اور ذہن یکسو ہو جاتا ہے۔
دماغ عموماً 20 سیکنڈ تک مکمل توجہ رکھ سکتا ہے، اس کے بعد فوکس کمزور ہونے لگتا ہے۔
ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائز دراصل ذہنی فوکس، طاقتور تصور اور خود اعتمادی کو مضبوط بنانے کی تربیت ہے۔

Guest
Najam ul Hassan
29/01/2026 7:47 am

1- telepathy ma sans ki exercise focus KO baraqar or yaksooi K lye bhot lazmi ha..
2- starting ma 20 sec hi focus kaim Rakh skty ha .
3- telepathy ki exercise focus qaim karti ha confidant level maintain rakhti ha or taswwar KO bhot strong karny k lye ki jatai ha..

9
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x