پائینیل گلینڈ جاگ گیا تو قسمت بدل جائے گی

پائینیل گلینڈ جاگ گیا تو قسمت بدل جائے گی
5 1 vote
Article Rating

پائینیل گلینڈ جاگ گیا تو قسمت بدل جائے گی

کیا واقعی خزانہ آپ کے پاس ہے؟

تصور کریں کہ آپ کو ایک خوبصورت اور مہنگے گھر کا مالک بنا دیا جائے اور اس گھر کے ایک کمرے میں کسی خزانے کا نقشہ دیا جائے تو کیا آپ اس خزانے کو پانے کی کوشش نہیں کریں گے؟
یقیناً آپ سب چاہیں گے کہ اس خزانے تک پہنچاجائے اور اس کا مالک بنا جائے۔
کیونکہ خزانہ آپ کے اپنے گھر میں ہے بس اسے تلاش کرنے کا طریقہ اور صبر درکار ہے۔

بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دماغ کے اندر ایک حیران کن خزانہ رکھا ہے۔
یہ خزانہ نہ سونے چاندی کا ہے اور نہ جائیداد کا  بلکہ بالکل اللہ تعالیٰ نے آپ کے دماغ میں ایک خزانہ ہاورفل پینیل گلینڈ کی صورت میں رکھا ہے
جو جسم کو بہت سارے فوائد دینے کے ساتھ ساتھ مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پائینیل گلینڈ کیا ہے؟

اس خزانے کا مرکز ہے پینیل گلینڈ ایک چھوٹا سا غدود جو ہمارے دماغ کے بالکل سنٹر میں واقع ہے۔
آج میں آپ انتہائی آسان الفاظ اور انداز میں اس خزانے کے بارے میں سمجھاؤں گا
کہ اس کی سائنسی کیا ہے
اور اسے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے یعنی کیسے اسے ایکٹیو کیا جا سکتا ہے 

سائنسی ریسرچ وتحقیقات کے مطابق پاینیل گلینڈ دماغ کا ایک چھوٹا صنوبری شکل کا غدود ہے جو تقریباً چاول کے دانے جتنا ہوتا ہے۔
جدید میڈیکل سائنس کے مطابق یہ غدود بنیادی طور پر تین کام کرتا ہے
میلاٹونن ہارمون بناتا ہے جو نیند اور جاگنے کے چکر کو کنٹرول کرتا ہے
جسم کے قدرتی بائیولوجیکل کلاک کو منظم رکھتا ہے
روشنی اور اندھیرے کے اشاروں کو محسوس کر کے جسم کو بتاتا ہے کہ دن ہے اس کے ساتھ ساتھ جدید تحقیق کے مطابق یہ غدود جسم کو بہت سارے فوائد دینے کے ساتھ ساتھ مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Telepathypower.comپینیل گلینڈ کو کن ناموں سے جانا جاتا ہے؟
پائنیل گلینڈ کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے
تھرڈ آئی  
ذہنی آنکھ
شعور کا مرکز
دماغ کا قدرتی اینٹینا
یہ تمام نام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ غدود عام سوچ سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پینیل گلینڈ میں کرسٹل سائنسی انکشافات
سائنسدانوں نے پایا کہ پینیل گلینڈ کے یہ کیلسائٹ کرسٹل بھی اسی طرح کی ساخت رکھتے ہیں اور ان میں پیزو الیکٹرک خصوصیات ہوتی ہیں۔
پہلی جسمانی اور کیمیائی تحقیق سے اہم باتیں جو تحقیق سے سامنے آئیں وہ یہ کہ یہ کرسٹلز بہت چھوٹے ہوتے ہیں
ان کی لمبائی 20 مائیکرو میٹر سطح یعنی بال کے ایک بال سے بھی کئی گنا چھوٹے سے کم ہوتی ہے۔
یہ کرسٹلز کیل سائٹ کے بنے ہوتے ہیں۔

کیلسائٹ ایک قدرتی معدنیات ہے
جس میں صرف کیلشیم، کاربن اور آکسیجن کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
سائنسدانوں نے ان کرسٹلز کو الیکٹران مائیکروسکوپ انرجی ڈسپرسیو سپیکٹروسکوپی الیکٹران ڈفریکشن اور رامن سپیکٹروسکوپی جیسے جدید آلات سے چیک کیا اور یہ ثابت کیا کہ یہ واقعی کیلسائٹ کرسٹلز ہیں۔
یہ کرسٹلز پینیل گلینڈ میں پہلے سے معلوم “برین سینڈ” جو بڑے کیلشیم کے ڈھیر ہوتے ہیں سے بالکل مختلف ہیں۔
یہ ایک نئی قسم کی حیاتیاتی معدنیاتی تشکیل ہیں۔
سب سے دلچسپ بات یہ ان سب سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر یہ رائے دی ان سائنسدانوں کے نام یہ ہیں
سائمن بیکنیئر
سڈنی بی لینگ
ماریا پولومسکا
بوزینا ہلچر
گیری برکووک
گیولیا میشولم
ان سب نے 2002 میں یہ تحقیق کی تھی کہ کیل سائٹ کرسٹلز میں پیزو الیکٹرک خصوصیات ہوتی ہیں۔ یعنی جب ان پر دباؤ، وائبریشن یا کوئی فریکوئنسی پڑتی ہے تو وہ بجلی کا چھوٹا سا سگنل پیدا کرتے ہیں جیسے موبائل فون اور گھڑیوں میں استعمال ہونے والے کوارٹز کرسٹل کرتے ہیں۔
اس لیے ان سائنسدانوں کے مطابق ہے یہ کرسٹلز دماغ میں الیکٹرو میکینیکل یا توانائی کے سگنلز کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔
ہر خیال ایک قسم کی توانائی ہے
ہر سوچ کی اپنی فریکوئنسی ہوتی ہے
دماغ الیکٹرک اور مقناطیسی لہروں پر کام کرتا ہے
اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ
آپ کسی کو یاد کرتے ہیں اور اچانک اس کا فون آ جاتا ہے
ماں دور بیٹھے بھی اپنے بچے کی تکلیف محسوس کر لیتی ہے
دو دوست ایک ہی وقت میں ایک جیسی بات سوچ لیتے ہیں
یہ “اتفاق” نہیں، بلکہ ذہنی ہم آہنگی کی مثالیں ہیں۔

پائینیل گلینڈ جاگ گیا تو قسمت بدل جائے گی
مائنڈ ٹو مائنڈ لنک ٹیلی پیتھی کی حقیقت
جب دو لوگوں کے ذہن ایک جیسی فریکوئنسی پر آ جائیں یعنی وہ مکمل توجہ اور فوکس میں ہوں
تو ان کے درمیان براہ راست ذہنی رابطہ ممکن ہو جاتا ہے۔ اسے ٹیلی پیتھی یا مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کہتے ہیں
یعنی ایسا شخص بغیر کسی واسطے کے پوری دنیا میں کسی بھی انسان سے ذہنی رابطہ کر کے نا صرف اس کے خیالات پڑھ سکتا ہے بلکہ اسے اپنی مرضی سے کنٹرول بھی کر سکتا ہے۔
یہ کوئی جادو نہیں بلکہ فوکس ارتکاز اور ذہنی تربیت کا نتیجہ ہے۔

 خزانے تک پہنچنے کا راستہ

سانس کی مشق کو پہلے لیول سے بتائی گئی ہے
ذہنی فوکس ٹریننگ پہلے لیول سمیت سب لیولز کی منفرد اور متفرق ایکسرسائز
رات کو لائٹس کم کر کے
فلورائیڈ سے بچنا تاکہ پینیل گلینڈ بہتر کام کر سکے
ٹیلی پیتھی کا یہ سفر عام نہیں اور نہ ہی فوری نہیں رزلٹ دیتا ہے بس مستقل مزاجی سے استاد کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایکسرسائز کرے رہیں کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ضرور ملے گی۔

استاد اور درست رہنمائی کی اہمیت
بہت سے لوگ یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر یا ادھوری معلومات سے تجربات شروع کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟
مایوسی یا بعض اوقات ذہنی الجھن۔
اپنے ذہن کی سپر پاور کو ایکٹیو کرنا یعنی ذہنی تربیت ایک حساس معاملہ ہے۔
لہذا ٹیلی پیتھی ایکسرسائز ہمیشہ تجربہ کار استاد کی رہنمائی میں ہی کریں۔

یقین اور مستقل مزاجی کامیابی کی کنجی
دنیا کی ہر بڑی کامیابی کے پیچھے دو چیزیں ہوتی ہیں
دل سے یقین کہ خزانہ موجود ہے
آپ یہ سمجھیں کہ خزانہ آپ کے پاس ہے۔
آپ کو یہ خزانہ اسی صورت میں ملے گا جب آپ اسے حاصل کرنے کے لیے مخصوص رستہ و نقشہ کے مطابق چلیں گے۔
یاد رکھیں اس خزانے کا وہ رستہ و نقشہ ٹیلی پیتھی ایکسرسائز ہیں۔
آپ جیسے جیسے ایکسر سائز میں آگے بڑھتے جائیں گے خزانے کے قریب جاتے جائیں گے۔
اس لیے آپ یقین کامل اور مستقل مزاجی سے اس خزانے کو حاصل کرنے کے لیے ٹیلی پیتھی ایکسرسائز میری نگرانی میں جاری رکھیں
آ
پ یقینا اس خزانے تک پہنچیں گے بھی اور اس کے مالک بھی بنیں گے
اس عظیم سفر میں کامیابی آپ کی منتظر ہے۔
عظیم خزانہ آپ کی راہ تک رہا ہے۔
آج کے سوالات

1️⃣ آخر وہ کون سا راز ہے جو پینیل گلینڈ کو انسانی دماغ کا سب سے طاقتور مرکز بناتا ہے؟

2️⃣ کیا واقعی دو ذہن بغیر بولے ایک دوسرے سے جُڑ سکتے ہیں؟ مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کی حقیقت کیا ہے؟

3️⃣ وہ کون سا درست راستہ ہے جس پر چل کر پینیل گلینڈ کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے ایکٹیو کیا جا سکتا ہے؟

 

 

5 1 vote
Article Rating

You may also like...

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
11 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
Guest
مدثر شبیر
24/01/2026 10:33 am

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔۔۔جواب۔۔۔1۔۔پائنیل گلینڈ ہمارے جسم افعال کو کنٹرول کرتا ہے مثلاً ۔میلاٹن ہارمون جو کہ نیند اور جاگنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے ۔جسم کا قدرتی بائیولوجیکل کلاک سسٹم کو کنٹرول کرتا ہے۔اور اندھیرے اور روشنی کے سگنل وصول کرتا ہے ۔اسکے علاوہ اگر کوئ ماہر استاد کی نگرانی میں اس کو ایکٹیویٹ کر لے تو نہ صرف دنیا میں جس سے چاہے مائنڈ ٹو مائنڈ لنک بنا سکتا ہے بلکہ کسی کے دماغ کو کنٹرول بھی کر سکتا ہے ۔
جواب۔۔۔2۔۔۔کیوں نہیں ۔۔۔پا ئنیل گلینڈ جو کہ لاشعور کا ا ینٹیئنا ہے ۔اس کو ایکٹیویٹ کر کے ۔جب ہماری سوچ کی فریکوئینسی کسی کے ساتھ ملتی ہے تو مائنڈ ٹو مائنڈ لنک بن جا تا ہے۔
جواب ۔۔۔3۔۔۔یہ بہت ہی حساس معاملہ ہے ۔کیونکہ دماغ کی ایکٹیویشن کی بات ۔۔۔۔اس میں لاپرواہی یا کوتاہی ۔۔مایوسی اور ناامیدی کے علاوہ نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔۔۔اس لیے خبردار ہمیشہ اس سے رہنمائی لینی چاہیے ۔جو ان جنگوں کا ماہر ہوتا ہے ۔ ہمیشہ تجربہ کار ماہر استاد ہی اس میں گائیڈ کرسکتا ہے ۔۔۔۔اپنے اندر ڈائیو لگانا کوئ عام بات نہیں۔۔۔….innr dive..اپنے اندر جھانکنا

Guest
Mohammad Kaif
23/01/2026 8:46 pm

1)pineal gland is khazane ka raaz hai
2)jab 2logo ke zehn 1 hi frequency per aa jaye to un ke darmiyaan zehni rabta ho jata hai.
3)mustaqil mijazi aur ustad ki rehnumai hi duroost rasta hai

Guest
Zubair Ahmed
23/01/2026 11:56 am

پائینیل گلینڈ شعور اور بائیولوجیکل کلاک کا مرکز ہے، اور سانس، فوکس، احتیاط اور استاد کی نگرانی میں مشق ہی محفوظ راستہ ہے۔

Guest
Sidra naz
23/01/2026 3:21 am

پینل گلانڈ ایک ایسا طاقت ور غدود ہے جس کے زریعے کسی سے بھی مائنڈ ٹو مائنڈ لنک
قائمہوتا ہے جبھی پینل گلانڈ کا سب سے بڑا طاقت ور راز ہے۔۔
پینل گلانڈ کے ایکٹو ہونے سے ایسی طاقت ور لہریں نكلتی ہیں جو کسی بھی شخص سے مائنڈ ٹو مائنڈ لنک قائم کر سکتی ہیں۔۔
وقت پر سونا اور جاگنا،،ایسے کھانوں سے پرہیز کرنا جو پینل گلانڈ کے ایکٹو ہونے میں رکاوٹبنتے ہوں اور پابندی سے مشقیںکرنا

Guest
Tadin
22/01/2026 10:21 pm

1-pinal gland m cristal hute hn Jo k signal peda krte hn or y signal connection krte hn
2-g kunke pinal gland ki taqat mind to mind link jorne ki silahiyat rakhti h
3-Telephaty exercise or mustaqil mizagi SE y mumkin h

Guest
روبینہ پرویز
22/01/2026 9:27 pm

پائنل گلینڈ جسم کو بہت سارے فوائد دینے کے ساتھ مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کی صلاحیت رکھتا1 ہے جو بغیر کسی واسطے کے دنیا میں کسی سے بھی رابطہ کرنے کی صلاحیت ہے اسی وجہ سے یہ انسانی دماغ کا سب سے طاقتور مرکز مانا جاتا ہے
2:جی حقیقت میں دو دماغ بغیر بولے ایک دوسرے سے جڑے سکتے ہیں
جب دو دماغ مکمل فوکس کے ساتھ ایک جیسی فریکوئنسی پر آجائیں تو انکے درمیان ذہنی رابطہ ہو جاتا ہے اسی کو ٹیلی پیتھی یا مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کہا جاتا ہے
3:اپنے استاد کی رہنمائ میں مسلسل ایکسر سائز کرکے پائنل گلینڈ کو محفوظ اور موثر طریقے سے ایکٹو کیا جاسکتا ہے

Guest
Hakeem asif Raza
22/01/2026 8:50 pm

مستقبل ایکسرسائز کرنے اور اپنے آپ پر یقین رکھتے ہوئے سفر جاری رکھیں تو یہ خاص مرکز جاگ اٹھتا ہے
ارتکاز توجہ کی قوت یکجا کر لی جائے تو مائنڈ ٹو مائنڈ کی طاقت بیدار ہو جاتی ہے
مستقبل مزاجی سے اپنے استاد کی نگرانی میں ایکسرسائز کرنا ہی محفوظ راستہ ہے

Guest
Najam ul Hassan
22/01/2026 8:13 pm

1-Pinal gland sy mind to mind linked or or Kisi or ki socho KO control karny Ka raz poshida ha.
2- g han JB mind to mind ki frequency same ho jati ha to 2 Zahain k darmiyan rabta qaim hojata ha or phr 2 afrad k darmiyan jazbat .kahyalat or naai Soch Ka tabadla hona shoro hojata ha..
3- mustakil mizajazi or sabar K sath exercise karty rahny say pinal gland active krty ha .negative socho sy khod KO mahfoz Rakh K hm piano gland ki taqat barqarar rkh skty ha..

پریشانیوں کو طاقت میں بدلیں اپنے اندر کے ٹیلی پیتھک ماسٹر کو جگائیں
22/01/2026 6:53 pm

[…] پریشانیوں کو طاقت میں بدلیں […]

مستقبل کے ٹیلی پیتھی ماسٹرز کے نام
22/01/2026 6:10 pm

[…]  یقین کی طاقت اپنے آپ یقین کو بڑھائیں اور اسے ہمیشہ سو درجہ پر رکھیں تاکہ ٹیلی پیتھی کے تجربات میں بھی سو فیصد کامیابی ملے۔ جب آپ یہ کر لیں گے تو دنیا خود آپ یقین کے سامنے سرنگوں ہو گی۔ جب آپ اپنے آپ پر سو فیصد یقین کے ساتھ ساتھ اپنے گائیڈپر بھی اسی طرح  یقین رکھیں گے کیونکہ جب یقین جاگتا ہے تو کائنات کا رخ بدل جاتا ہے لہذا  یاد رکھیں اگر آپ نے ہار نہ مانی اگر آپ نے یقین کے ساتھ اپنی مشقوں کو جاری رکھاتو وہ لمحہ ضرور آئے گا جب کائنات آپ کے اشاروں پر جھکے گیآپ کا ذہن اتنا روشن ہو جائے گا کہ لوگ آپ کی نگاہوں میں اپنی تقدیر پڑھیں گےاس وقت آپ کا نام صرف ایک شاگرد نہیںبلکہ روشنی کے استاد کے طور پر چمکے گا تب آپ نہ صرف ٹیلی پیتھی میں کامیاب ہوں گے بلکہ اپنی زندگی کے ہر میدان میں فاتح بن جائیں گےآپ کا مقام وہ ہوگا جہاں فرہاد علی تیمور کا سفر ختم ہوتا ہےاور آپ کا عہد شروع ہوگا۔ […]

Guest
Abdul Maroof
22/01/2026 5:25 pm

گہری توجہ، مضبوط یقین اور مسلسل ذہنی تربیت پینل گلینڈ کو ایک خاص اور طاقتور مرکز بناتی ہے۔

جی سر بالکل مسلسل مشق اور توجہ سے دو ذہن بغیر بولے آپس میں جُڑ سکتے ہیں۔

ٹیلی پیتھی ایکسرسائز، مستقل مزاجی اور تجربہ کار استاد کی نگرانی میں مشق کرنا ہی درست اور محفوظ راستہ ہے۔

11
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x