ٹیلی پیتھی کا خوف دنیا پر حکومت کی خفیہ چالیں

ٹیلی پیتھی کا خوف دنیا پر حکومت کی خفیہ چالیں
5 2 votes
Article Rating

ٹیلی پیتھی کا خوف  دنیا پر حکومت کی خفیہ چالیں
خصوصی تحریر:غلام مصطفےٰ مہر

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طاقت ہمیشہ چند ہاتھوں میں رہی ہے اور جو لوگ طاقت رکھتے ہیں وہ کبھی نہیں چاہتے کہ وہ طاقت عام انسان تک پہنچے۔
آج ٹیلی پیتھی ذہن سے ذہن کا رابطہ انسانی طاقتوں میں سب سے خفیہ سب سے اعلیٰ اور سب سے خطرناک طاقت سمجھی جا رہی ہے۔
اس لیے عالمی طاقتوں پر ٹیلی پیتھی کا خوف  ہےدنیا پر حکومت کے لیے خفیہ چالیں چل رہے ہیں

ٹیلی پیتھی سب سے خفیہ اور طاقتور

ٹیلی پیتھی کا خوف دنیا پر حکومت کی خفیہ چالیں

ٹیلی پیتھی کوسب سے خفیہ اور طاقتور اور سب سے خطرناک انسانی صلاحیت اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ
 ٹیلی پیتھی کی طاقت اسٹیٹس کو  توڑ دیتی ہے
 یہ ٹیلی پیتھی ذہنی غلامی کو ختم کر دیتی ہے
 ٹیلی پیتھی کی طاقت سے کسی بھی انسان کے ذہن کے راز پڑھے جا سکتے ہیں
کہ واقعی اس وقت کیا سوچ رہا ہےکیا چاہتا ہے اور کیا محسوس کر رہا ہے
چاہے لوگ دور بیٹھے ہوں آپ بغیر فون یا پیغام کے اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں

 دنیا بھر میں کہیں بھی کسی کا کوئی بھی کام کو جائز ہو لیکن وہ کام متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کا ملازم پیسوں کے بغیر نہ کرے
تو آپ ٹیلی پیتھی کی قوت سے اس کا دماغ پڑھ کر اس کو کنٹرول کر کے جائز حد تک اپنی مرضی سے کام کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
سب سے بڑی بات یہ کہ اگر آپ چاہیں کام بھی ہو جائے اور وہ یہ سمجھے کہ وہ اپنی مرضی سے ہی سب کر رہا ہے
تو ٹیلی پیتھی سے یہ بھی ممکن ہے۔

 آپ کا دنیا کے کسی بھی ملک میں کوئی کام ہو آپ جب چاہیں گھر بیٹھے متعلقہ شخص سے ناصرف رابطہ کر سکتے ہیں
بلکہ اسے کنٹرول کر کے اپنی مرضی سے کام بھی کروا سکتے ہیں۔
لاکھوں روپے خرچ کر کے بڑی بڑی ڈگریوں، بڑی بڑی پوسٹوں پر فائز افراد بھی ٹیلی پیتھی پاور کا ایک فیصد ان ڈگریوں اور پوسٹوں سے فائدہ نہیں لے سکتے ۔
جتنا فائدہ ٹیلی پیتھی کے ایک وقت استعمال سے لے سکتے ہیں۔
دنیا بھر کے ارب پتی افراد کی بھی ٹیلی پیتھی پاور کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں وہ سب ٹیلی پیتھی پاور کے مقابلے میں زیرو ہیں۔
اس لیے میں ٹیلی پیتھی کو کائنات کی سب سے بڑی قوت عہدہ کہتا ہوں
لیکن ٹیلی پیتھی پاور خطرناک صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ان پرٹیلی پیتھی کا خوف طاری ہے اسیلیے وہ  دنیا پر حکومت کی خفیہ چالیں چل رہے ہیں

خفیہ طاقتوں کے خفیہ منصوبے کا مرکز

ان خفیہ طاقتوں کے خفیہ منصوبے کا مرکز پائنیل گلینڈ ہے کیونکہ یہی ٹیلی پیتھی کا مرکز ہے
دنیا کے بڑے ریسرچراور انٹیلیجنس نیٹ ورکس ٹیلی پیتھی کئی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں
یہ خفیہ انٹیلیجنس ادارے جان چکے ہیں کہ
جس انسان کا پائنیل گلینڈ ایکٹیو ہو گیا وہ نہ صرف دوسروں کے ذہن پڑھ سکتا ہے بلکہ اُن کے فیصلے اور جذبات بھی بدل سکتا ہے
یہی وہ چیز ہے جس سے دنیا کے مختلف طاقتور ادارے خوفزدہ ہیں۔۔۔۔۔وہ یہ طاقت صرف اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں باقی دنیا کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔
جن مشہور اداروں نے دماغ اور اس کی پاور پر جو تحقیق کی ان اداروں کے نام یہ ہیں۔
DARPA
ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی (امریکہ)
(Defense Advanced Research Projects Agency) Brain–Computer Interface
دماغ اور مشین کے رابطے پر تحقیق
CIA
سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (امریکہ)
(Central Intelligence Agency) Remote Viewing
(دور سے دیکھنے کی صلاحیت)
Mind Influence
(ذہنی اثراندازی)
MI6
سیکرٹ انٹیلی جنس سروس (برطانیہ)
(Secret Intelligence Service) Psychological Operations
نفسیاتی جنگ یہ سب اس بات کا اعتراف ہے کہ: اصل جنگ ہتھیاروں کی نہیں ذہنوں کی ہے۔

خفیہ اور خاموش ہتھیار: ٹیلی پیتھی کو روکنے کی سازش

ٹیلی پیتھی یعنی مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کی ایک ایسی غیر معمولی صلاحیت ہے جسے صدیوں سے انسانیت کا حصہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
لیکن اس کی پاور سے خوفزدہ عالمی طاقتیں  اس صلاحیت کو عام لوگوں تک پہنچنے سے روکنا چاہتی ہیں ۔
ٹیلی پیتھی کی طاقت سے خوفزدہ یہ عالمی طاقتیں ایسے خفیہ اور خاموش ہتھیار استعمال کر رہی ہیں
جن کے بارے میں عام لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی ٹیلی پیتھی سیکھنے کی کوشش بھی کرے تو کامیاب نہ ہو سکے۔
 ان خفیہ ہتھیاروں اور ان کے سائنسی حقائق پر ایک جائزہ

نمبر1:فلورائیڈ والا پانی: پائنل گلینڈ کا کیلسیفیکیشن

فلورائیڈ والا پانی پائنل گلینڈ کا کیلسیفیکیشندعویٰ: فلورائیڈ دانتوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ اسی بہانے اسے پانی میں ملایا جا رہا ہے۔
حقیقت: فلورائیڈ ایک کیمیکل ہے جو دانتوں کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن اس کی زیادہ مقدار انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فلورائیڈ پائنل گلینڈ  کے ارد گرد کیلشیئم جمع کر دیتا ہے
پائنل گلینڈ دماغ کے مرکز میں موجود ایک چھوٹا سا غدود ہے جسے قدیم تہذیبوں میں تیسری آنکھ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیلی پیتھی کا مرکز ہے۔
جب پائنل گلینڈ کیلسیفائیڈ ہو جاتا ہے تو وہ سخت ہو جاتا ہے اور اپنی مطلوبہ کارکردگی
یعنی میلاٹونن  کی پیداوار اور دیگر دماغی افعال کو صحیح طریقے سے انجام نہیں دے پاتا۔
میلاٹونن نیند کے چکر اور موڈ کو کنٹرول کرنے والا ہارمون ہے۔
اس کی خرابی سے دماغی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اوریہ  ٹیلی پیتھی جیسی صلاحیتوں کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا  کرتاہے۔

نمبر2:موبائل اور وائی فائی کی لہریں: دماغی برقی لہروں کی تباہی

موبائل اور وائی فائی کی لہریں دماغی برقی لہروں کی تباہی

دعویٰ: موبائل اور وائی فائی جدید دور کی ضرورت ہیں۔

حقیقت: ہمارے ارد گرد ہر لمحہ موبائل فون، وائی فائی اور دیگر بے تار  آلات سے نکلنے والی مصنوعی برقی مقناطیسی لہروں   کا ایک حصار موجود ہے۔
انسانی دماغ خود بھی برقی لہروں کے ذریعے کام کرتا ہے۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان مصنوعی لہروں کا مسلسل سامنا دماغ کی فطری برقی لہروں کو متاثر کر تا ہے۔
یہ لہریں دماغی خلیوں  کے درمیان سگنلز کی ترسیل کو خراب کر سکتی ہیں
جس سے پائنل گلینڈ سمیت دماغ کے دیگر حصوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
اس کے بہت زیادہ استعمال سے پائنل گلینڈ “ڈی ایکٹیویٹ” ہو سکتا ہے
 یہ ٹیلی پیتھی جیسی حساس صلاحیتوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

 نمبر3: ایلومینیئم کیمیائی اسپرے : پائنل گلینڈڈی ایکٹیویٹ

ایلومینیئم کیمیائی اسپرے پائنل گلینڈڈی ایکٹیویٹ
دعویٰ:
یہ بادل عام فضائی مظاہر ہیں۔

حقیقت:کیم ٹریلز  ایک نظریہ ہے ہوائی جہازوں سے ہوا میں کیمیائی مادے (بشمول نینو ایلومینیئم پارٹیکلز) چھڑکے جاتے ہیں۔
کئی محققین کا خیال ہے کہ ہوا میں موجود ایلومینیئم اور دیگر بھاری دھاتیں انسانی جسم میں داخل ہو کر نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
ایلومینیئم کو نیورو ٹاکسن  سمجھا جاتا ہے،یعنی یہ دماغی خلیوں کے لیے زہریلا ہے۔
یہ پائنل گلینڈ کی کارکردگی کو سست کر سکتا ہے
اس کی میلاٹونن پیدا کرنے کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے اور اسے دیگر ضروری افعال انجام دینے سے روک سکتا ہے۔
ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایلومینیئم اور گلائیفوسیٹ کا مشترکہ اثر پائنیل گلینڈ کو نقصان پہنچا تاہے۔

نمبر4: گلائیفوسیٹ سلو پوائزن کا اثر پائنیل گلینڈ پر

گلائیفوسیٹ سلو پوائزن کا اثر پائنیل گلینڈ پر
دعویٰ:
گلائیفوسیٹ فصلوں پر کیڑے مار دوا ہے۔
حقیقت: گلائیفوسیٹ ایک کیمیکل ہے جو زرعی ادویات میں شامل ہوتا ہے
یہ ہمارے کھانے پینے کی اشیاء کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر اسٹیفنی سینیف، جو امریکہ کی ایک معروف سائنسدان اور محقق ہیں نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ
گلائیفوسیٹ انسانی دماغ پر سلو پوائزن  کی طرح کام کرتا ہے۔
یہ آنتوں کے مائیکرو بایوم کو متاثر کرتا ہے
جو دماغی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔
اس کا اثر دماغی کیمیکلز کی پیدائش کو بھی متاثر کرتا ہے
جو دماغی افعال اور موڈ کو کنٹرول کرتے ہیں۔
ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ میلٹونن کی پیداوار کو کم کر سکتا ہے اور دماغی آکسیڈیٹو سٹریس بڑھاتا ہے۔
بالآخر یہ پائنل گلینڈ کی صحت اور کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے
جس سے ٹیلی پیتھی جیسی دماغی صلاحیتوں کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔

ٹیلی پیتھی کو ختم کرنے کی سازش کا مقصد

ٹیلی پیتھی کو ختم کرنے کی سازش کا مقصد

ان خفیہ طاقتور ایجنسیوں  کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ صرف اُن کا ہی گروہ مائنڈ پاورز کا ماسٹر بنے
تاکہ وہ دنیا پر کنٹرول حاصل کر سکیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ باقی دنیا کے لوگ صرف حکم ماننے والے بنیں اور ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو محدود کر دیا جائے۔

خوشخبری: پائنل گلینڈ کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں

یہ قدرتی پاور ہے جسے مکمل طور پر ڈی ایکٹیو یا ختم کرنا ناممکن ہے۔
اگرچہ اسے مختلف عوامل سے سست کیا جا سکتا ہے
لیکن اسے دوبارہ ایکٹیو کیا جا سکتا ہے اور اس کی طاقت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

ان خفیہ اور خاموش ہتھیاروں سے کیسے بچیں؟
پائنل گلینڈ کو دوبارہ ایکٹیو کرنے اور ان نقصان دہ عوامل سے بچنے کے ہدایات
ان خفیہ اور خاموش ہتھیاروں سے کیسے بچیں؟

فلورائیڈ سے بچنے کا طریقے 
فلورائیڈ سے پرہیز
فلورائیڈ فری ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں۔
فلورائیڈ سے پاک پینے کا پانی استعمال کریں (جیسے فلٹر شدہ پانی، ریورس اوسموسس  پانی، یا ڈسٹلڈ واٹر)
فلورائیڈ والی ادویات اور غذاؤں سے پرہیز کریں۔
پانی کو ابالنے سے فلورائیڈ ختم نہیں ہوتا۔

وائی فائی ای ایم ایف  لہروں سے بچاؤ کے طریقے
موبائل فون کو ضرورت کے وقت ہی استعمال کریں اور رات کو سوتے وقت اسے کمرے سے باہر رکھیں یا فلائٹ موڈ پر رکھیں۔
وائی فائی راؤٹر کو رات کو بند کر دیں یا جب استعمال میں نہ ہو۔
وائرڈ انٹرنیٹ کنکشن کو ترجیح دیں۔
ای ایم ایف سے بچاؤ کے لیے کچھ خاص آلات  بھی دستیاب ہیں اگرچہ ان کی افادیت پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ایلومینیئم سے بچاؤ
ایلومینیئم کے برتنوں کی بجائے سٹینلیس سٹیل یا کاسٹ آئرن کے برتن استعمال کریں۔
ایلومینیئم فوائل اور ایلومینیئم پر مشتمل ڈیوڈرنٹس سے پرہیز کریں۔
قدرتی اجزاء سے بنی مصنوعات استعمال کریں۔
سلینٹرو (دھنیا) جیسی سبزیاں اور چیا سیڈز، فلیکس سیڈز جیسی غذائیں جسم سے ہیوی میٹلز نکالنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

گلائیفوسیٹ سے بچاؤکے طریقہ
خو
د اپنے باغیچے میں سبزیاں اگائیں (اگر ممکن ہو)۔
گہرائی سے صاف کیے گئے اناج اور دالیں استعمال کریں۔
آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے والی غذائیں جیسے پروبائیوٹکس اور پری بائیوٹکس  اپنی خوراک میں شامل کریں۔
نامیاتی غذاؤں کو ترجیح دیں تاکہ زرعی کیمیکلز سے بچا جا سکے۔

آج کے سوالات
ان تینوں سولات کے جوابات کمنٹس میں دیں

سوال 1: ٹیلی پیتھی کو سب سے طاقتور اور خطرناک کیوں سمجھا جاتا ہے؟

سوال 2: فلورائیڈ، موبائل، وائی فائی، ایلومینیئم اور گلائیفوسیٹ پائنل گلینڈ پر کیسے اثر کرتے ہیں؟

سوال 3: پائنل گلینڈ کو فعال رکھنے اور ٹیلی پیتھی کی صلاحیت بچانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

 

5 2 votes
Article Rating

You may also like...

5 2 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
15 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
Guest
مدثر شبیر
06/01/2026 3:30 pm

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ۔۔۔
1۔۔۔ٹیلی پیتھی پاور کو دنیا میں سب سے خطرناک اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ جو قومیں اور جو گروپس اس پاور کو پہلے سے جانتے ہیں انہوں نے اپنی پینل گلینڈ کو ایکٹو کر کے دنیا کی دوسری قوموں کے آپسی اختلافات کے راز جان لیے اس کے بعد انہوں نے دوسری قوموں کو اپس میں جھگڑا کر لڑوا کر کسی کو فرقہ بندی میں لڑا کر کسی کو زبان کے فرق میں قومیت کے فرق میں لسانی فرقہ بندی یہ سب اسی طرح کے چکروں میں لڑا کر ان ملکوں کی معیشت پر قبضہ کر دیا اور ان کو غلام بنا لیا ماضی میں اس طرح کی بے پناہ مصالحے ہیں جیسے انہوں نے عرب دنیا پر ان کو اپس میں لڑا کر وہ اب تک خانہ جنگی کا شکار ہیں ان کی تیل گیس اور معدنیات کی دولت پر قبضہ کر لیا اور طاقتور گروپ یہ یہ جانتے ہیں کہ اگر یہ راز ان قوموں نے جان لیا تو پھر یہ ہمارے بہکاوے میں نہیں ا سکے گی اسی لیے ٹیلی پیتھی پاور دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے
2۔۔۔۔ ان طاقتور اور چالاک قوموں نے دنیا میں کچھ ایسے کیمیکلز اسپرے اور دھاتیں ایجاد کی ہیں کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں جن سے وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی دوسری محکوم قوم غلام قومیں وہ یہ راز نہ جان سکیں اور ان کی پینل گلینڈ ایکٹو نہ ہو سکے مثلا جیسے ہمارے استاد محترم نے بتایا ہے فلورائٹ فلورائڈ یہ دانتوں کو تو سفید کرتا ہے لیکن ساتھ میں یہ پینل گلینڈ کے ارد گرد کیلشیم کی تہجما دیتا ہے جس سے اس کو پینل گلینڈ کا کھلنا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے دوسرا موبائل کا استعمال موبائل وہ موبائل اور دوسرے بغیر تار والے وائرلیس سگنل بھیجنے والے جن میں انفرا ریڈ شعاعیں جو دماغ کو کمزور کرتی ہیں
مختلف دہاتیں جیسے المونیم وغیرہ ان کے برتنوں کا استعمال سلور کے برتنوں کا اعتبار زرعی سپرے جات اور کھادے جو ہمارے جسم میں پیسٹیرائز کی زیادتی کرتی ہیں اور دماغ میں میلٹون جو کہ ہماری نیند اور جاگنے کا کیمیکل ہے جو ہماری پینل گلینڈ پیدا کرتی ہے اس میں خرابی پیدا کرتی ہے
3۔۔۔۔فائنل گلینڈ کو ایکٹو کرنے کے لیے اور ٹیلی پیتھی پاورز کو بحال رکھنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ روزانہ ہماری دماغی اور جسمانی ایکسرسائز کر کرتے رہنا چاہیے اور کوشش کریں کہ اپنی سبزیاں اپنے اور اپنے کھانے پینے میں سادگی اختیار کرے بغیر سپرے اور کھاد کے سبزیاں استعمال کرے موبائل فون کا استعمال کم سے کم کریں خاص کر کے جو سگنل بھیجنے والے حالات ہیں ان سے دور رہیں جیسے موبائل کے ٹاورز جو بہت ہی پاور فل ریڈییشن اور سگنل چھوڑتے ہیں وہ ہمارے دماغوں میں بہت برا اثر ڈالتے ہیں سونے سے پہلے موبائل کی وائی فائی کو بند کر دیں یا ایروپلین کے پلین کے موڈ میں لگا دیں قدرتی ماحول سے جڑے رہیں صبح کی سیر کو لازمی بنائیں تازہ ہوا میں سانس لیں اس طرح ہم اپنی پینیل گلینڈ کو ایکٹو کر سکتے ہیں اور اپنی ٹیلی پیتھی پاورز کو بحال رکھ سکتے ہیں

Guest
Mohammad Kaif
06/01/2026 3:11 pm

1)jung jitne ke liye 2 chize zaroori hai ek to yeh k shatir jasoos hone chahiye aur dusri sipahi,aur hum dono ki Kami ko telepathy ke zariye Mumkin bana sakte hai,.
Yani jasooso se bhi jyada hum malumaat telepathy ke zariye hasil kar skate hai.
2) mobile aur wifi ka jyada istemal hamare pineal gland per bohat asar karta hai,kyun mobile internet aur WiFi yeh ek web ki shakal me kaam karta hai aur is ka jaal lehro ki shakal me hamare ird gird faila hua hai,
Is ke bachav ke liye hame mobile ka istemal kam karna chahiye.
3) mobile internet ka hasbe zaroorat istemal,
WiFi aur internet ko raat me band kardena chahiye,
Aur alomenium ke bartano ka istemal na kare.
Aur agar Mumkin hua to sabji ko apne hi garden me ugai

Guest
Sohail Abdul Sattar
06/01/2026 11:21 am

Sir bht hi zabardast post likhi hai apne.

sawalat k jawabat:
Q.1: telepathy ko islye sabse taqatwar aur lhatarnaak kah gaya hai kyunki ye status tor deti hai. Aur har insaan mai ye taqat phle se hai. Aur iske use se governments phr humse propagandas nai chupa sakegi.
Q.2: in sbse isteemal se pineal gland weak ho skti hai. Floride use krne se pineal gland k around calcium jama ho jata hai. Aur neurotoxins bhi jama ho jate hai.
Q.3: pineal gland ko bahaal rakhne k lye hume floride and wifi ka use bht km krna chahye

Guest
Shahbaz Khan
12/01/2026 1:29 am

1)
ٹیلی پیتھی کو اس کے خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اگر اس کو ہر کوئی سیکھ گیا تو مخصوص طبقہ جو صرف حکمرانی چاہتا ہے محکوم ہو جائے گا اور عام آدمی خاص بن جائے گا اس لیے اس علم کو خفیہ رکھا گیا

2)
یہ انکی ایکٹیویٹی کو سلو کرتا ہے تاکہ سلیپ سائیکل متاثر ہو اور ٹیلی پیتھی کا مرکز کمزور رہے
3)
بغیر فلورائیڈ کا ٹوتھ پیسٹ
سیمپل ٹیپ واٹر
وائی فائی کا کم استعمال
موبائیل کا کم استعمال
سبزیاں اپنے باغ میں اگائے
ریگولر مشق

Guest
Hakeem asif Raza
06/01/2026 3:11 pm

ٹیلی پیتھی پاوور سے ہر راز معلوم کیا جا سکتا ہے
فلورائیڈ پانی سے پائنل گلینڈ کمزور ہو جاتا ہے
قدرتی ماحول میں رہا جائے اور خوراک بھی قدرتی استعمال کی جائے

Guest
Rabia
06/01/2026 11:10 am

Q1:
Telepathy ko powerful is liye mana jata hai kyun ke yeh direct mind-to-mind connection ka concept deta hai, aur dangerous is liye ke yeh power control system aur status quo ko challenge kar sakti hai.

Q2:
Fluoride, mobile aur Wi-Fi waves, aluminium aur glyphosate brain balance, sleep cycle aur nervous system ko affect kar ke pineal gland ki functioning ko slow kar dete hain.

Q3:
Clean water, organic food, kam screen time, proper sleep, meditation aur chemicals se bachao pineal gland ko active aur mind ko strong rakhne mein madad karta hai.

Guest
Zubair Ahmed
06/01/2026 9:13 am

ٹیلی پیتھی کی طاقت سے کسی بھی انسان کے ذہن کے راز پڑھے جا سکتے ہیں کہ واقعی اس وقت کیا سوچ رہا ہے اور اس سے اپنی مرضی کا کام بھی لیا جا سکتا ہے۔

پانی، خوراک اور برقی لہروں کے ذریعے پائنل گلینڈ کو ڈی ایکٹیویٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صاف پانی، قدرتی غذائیں اور سورج کی دھوپ لیں، لیموں کا پانی ایک گلاس پیا کریں۔

Guest
سید زبیر
06/01/2026 3:06 am

1.isliy me telephthy ki power vi sb kuch kr skti h jo aam bnda ya aam dgree leny wala bhi nhi krskta. 2.ye slow poisoning ki shkl me pineal gland ko deacctiv krti h. 3.mobil km use krna chiey wifi router zarort na ho bnd rkhna chiey ta k brqi waves se bcha ja sky

Guest
روبینہ پرویز
05/01/2026 9:47 pm

ٹیلی پیتھی اسٹیٹس کو توڑ دیتی ہے ذہنی غلامی سے آزاد کر دیتی ہے1
ٹیلی پیتھی سے لوگوں کے ذہنوں کے راز تھے جاسکتے ہیں
دنیا میں کہیں بھی کسی سے بھی کوئی کام لیا جا سکتا ہے
2 فلورائڈ پائنل گلینڈ کے گرد کیلشیم کی تہ بنا دیتا ہے جو پائنل گلینڈ کی کار کردی کو متاثر کرتا ہے
وائٹ فائ کے سگنلز مصنوئی ہیں اور بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے دماغی سگنلز کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں
3ایلمانیم نیرو ٹاکسن ہے دماغی خلیوں کے لیے زہر ہےپائنل گلینڈ کی کار کردی کو سست کرتا ہے اور میلاٹونن پیدا کرنے کی صلاحیت کم کر دیتا ہے
4 گلائفوسیٹ دماغ کے لیے سلو پوائزن ہے ہیہ آنتوں کے مائکرو بیوم کو متاثر کرتا ہے جو دماغی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں
3فلورائڈ والے پانی ٹوٹھ پیسٹ غذا اور دوا فلورائڈ فری استعمال کریں
وائٹ فائ راؤٹر رات کو بند کردیں اور موبائل کو ایرو پلین موڈ پر رکھ کر سوئیں
ایلومینیم کے برتنوں میں کھانا نہ بنائیں دھنیہ چیہ سید اور فلیکس سید کا استعمال کریں یہ ہیوی کیمیکل کو جسم سے خارج کرتے ہیں
اور سبزیاں خود اگا کر استعمال کریں اناج اور دالوں کو گہرائی سے صاف کریں اور پرو بائیو ٹکس اور پری بائیو ٹکس اپنی خوراک میں شامل کریں

Guest
Sidra naz
05/01/2026 9:47 pm

کیونکہ یہ دنیا کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے جس کے زریعے کسی کے بھی دماغ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اس سے اپنی مرضی کا کام لیا جا سکتا ہے اس لیئے ٹیلی پیتھی کو سب سے خطرناک ہتھیار سمجھا جاتا ہے
خوراک کے زریعے، برقی لہروں کے زریعے پینل گلانڈ ان ایکٹو ہو جاتا ہے اس کے گرد ایک خاص قسم کا مادہ جم جاتا ہے جس کی وجہ سے پینل گلانڈ کی طاقت ایکٹو نہیں ہو پاتی۔۔
ہوایسے ٹوتھ پیسٹ سے پر ہز کریں جس میں فلورائڈ ہو ۔۔بلا ضرورت وائی فائی نا چلائیں یا بند کر کے رکھیں۔۔رات کو جلدی سوئیں صبح جلدی اٹھیں۔۔ایسی خوراک سے پرہیز کریںگلائیفوسٹ پایا جاتا ہو۔۔

Guest
Abdul Maroof
05/01/2026 9:30 pm

ٹیلی پیتھی کو سب سے طاقتور اور خطرناک اس لیے سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے ذہنی غلامی ختم
اور کسی کے بھی خیالات پڑھے اور کنٹرول کیے جا سکتے ہیں۔

فلورائیڈ، موبائل، وائی فائی، پائنل گلینڈ کے گرد جمع ہو کر اس کی صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں اور اسے کمزور بناتے ہیں، جس سے ٹیلی پیتھی کی طاقت دب جاتی ہے۔

پائنل گلینڈ کو فعال رکھنے کے لیے فلورائیڈ اور دیگر نقصان دہ چیزوں سے بچنا چاہیے ، صاف پانی اور قدرتی غذائیں استعمال کرنا چاہیے ،

Guest
Najam ul Hassan
05/01/2026 7:09 pm

Sir bhot hi umdah tharir ha.
1 es elm sy Kisi Ka bhi mind control ma lay skty ha or tahi SB sy Bari taqat ha k hm Kisi KO b mahkom bana salty ha .
2. WiFi singles, chemical or aluminium metal dimag K pinal glad KO bhot susut Kar data ha jis Bina or sochny smjhny or confident level down hojata ha…
3 . telepathy ki power KO barqarar rakhny or pinal gland KO active rakhny k lye meditation or sun waves or moonlight sy help laty hoy .pinal gland KO active rkhty ha or hm SB insha’Allah es tharir k mutabiq amal Kar k telepathy master bany gay..

Guest
Asia Nafees
05/01/2026 6:45 pm

ٹیلی پیتھی کو اس لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے آپ کسی بھی دماغ کو کنٹرول کر سکتے ہیں ، بغیر مواصلاتی اسباب کے آپ ڈائیریکٹ کسی پیغام بھیج سکتے ہیں ، اور اپنی مرضی کا کام کروا سکتے ہیں ، اس کے علاؤہ ٹیلی پیتھی طاقتور اسٹیٹس کو توڑ سکتی ہے۔ ، ذہنی غلامی کو ختم کر سکتی
درجہ بالا تمام میڈیم ذہنی برقی توانائی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں اور ٹیلی پیتھی کی فراہمی کو بلاک کرنے کا سبب ہیں۔
، نقصان دہ دھاتوں اور کیمیکلز سے ، وائی فائی کے بے جا استعمال سے خود کو بچائیں

Guest
Tadin
05/01/2026 6:37 pm

1-isle k y wo raz Janne m madad deti h Jo k normal halat m koi Jan ni Sakta y logun p hukmurani krti h TP wo power jis SE wo khuwab hasil hute hn jinko Sirf sucha jasakta h
2- y chemical pinal gland ko mutasir krte hn pinal gland ki activity km hujati h
3-hmko natural way p ana huga dalen vegetables fruit use krna hunge mobile ka use km krna huga florid wale Pani SE bachna huga

Guest
Abdul Quddoos
05/01/2026 5:02 pm

کیوں کہ دنیا میں ہمیشہ سے ایسے لوگ اور گروہ رہے ہیں جو طاقت کو صرف اپنے پاس ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ اور ٹیلی پیتھی ایک ایسا علم اور ہتھیار ہے کہ جس کی مدد سے فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور ہر سازش کا پردہ چاک ہو سکتا ہے۔ اسلیئے ٹیلی پیتھی کو سب سے خطرناک ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

یہ سب کیمیکل دماغ اور خاص طور پر پائینیئل گلینڈ کو کمزور اور اسے کرتے ہیں اور ان کا مسلسل استعمال یا ان کے اثر میں مسلسل رہنے سے دماغ کی اصلی اور قدرتی طاقت انتہائی کمزور ہو جاتی ہیں جسکی وجہ سے ٹیلی پیتھی سیکھنا اور اس طاقت کو ایکٹیویٹ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

آرگینک غذا کا استعمال، ایلومینیئم کی برتنوں اور دوائوں سے بچنا، وائی فائی اور آج ایم پی اے بچ کے رہنا، ہمیشہ ورزش کرنا اور ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائز کو معمول بنانے سے ان نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔

15
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x