ٹیلی پیتھی پیغام بھیجنے کا طریقہ– غلام مصطفےٰمہر

ٹیلی پیتھی پیغام بھیجنے کا طریقہ– غلام مصطفےٰمہر
ٹیلی پیتھی پیغام بھیجنے کا طریقہ محض ایک تصور، کہانی یا فلمی خیال نہیں بلکہ انسانی ذہن کی ایک حقیقی فطری اور حیرت انگیز صلاحیت ہے۔
ٹیلی پیتھی وہ طاقت ہے جس کے ذریعے انسان بغیر کسی زبان، آواز، موبائل یا اشارے کے اپنے خیالات، احساسات، تصاویر اور ارادوں کو براہِ راست دوسرے انسان کے ذہن تک منتقل کر سکتا ہےاور انہیں اپنی مرضی سے کنٹرول بھی کر سکتا ہے۔
ٹیلی پیتھی کیا ہے؟
ٹیلی پیتھی کا مطلب ہے ذہن سے ذہن کا رابطہ۔
جب دو افراد کے درمیان گہری توجہ، یکسوئی اور ذہنی ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو خیالات ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
روزمرہ زندگی میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں
جیسےکسی عزیز کا خیال اچانک ذہن میں آیا… اور چند لمحوں بعد اس کی کال آ گئی؟
یا آپ کسی شخص کو شدت سے یاد کر رہے تھے اور وہ خود بخود آپ کے سامنے آ گیا؟
یہ اتفاق نہیں یہ ٹیلی پیتھی کی قدرتی جھلک ہے۔
کیا ٹیلی پیتھی ہر انسان سیکھ سکتا ہے؟
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیلی پیتھی صرف چند خاص لوگوں، صوفیوں یا غیر معمولی افراد کے پاس ہوتی ہے۔
حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
ٹیلی پیتھی ہر انسان کے اندر موجود ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ لاشعوری طور پر اسے استعمال کر لیتے ہیں
اور کچھ لوگ اسے سیکھ کر شعوری طور پر طاقت بناتے ہیں۔
بالکل ایسے ہی جیسےجسم میں پٹھے سب کے ہوتے ہیں مگر مضبوط وہی ہوتے ہیں جو ورزش کرتے ہیں۔
ٹیلی پیتھی کیوں سوئی ہوئی رہتی ہے؟
ٹیلی پیتھی ایک سوئی ہوئی طاقت ہےجو بھی اسے بیدار کرنے کے لیے مستقل مزاجی اور پورے یقین کےساتھ مخصوص ایکسرسائز کرے گاوہی کامیابی کا ذائقہ چکھے گا۔
آپ کا ذہن ایک طاقتور ٹرانسمیٹر اور ریسیور ہے مگر آپ نے اسے استعمال کرنا ہی نہیں سیکھا۔
روزمرہ کی مصروفیات اور ذہنی انتشار نے اس صلاحیت کو سُلا دیا ہے۔
ٹیلی پیتھی کو دوبارہ ایکٹیو کیسے کیا جائے؟
اگر آپ ابھی بھی سنبھل جائیں ۔
مکمل فوکس اور مستقل مزاجی سے میری نگرانی میں مخصوص ایکسر سائز کرتے ہوئےیہ طاقت دوبارہ ایکٹیو کر سکتے ہیں ۔
مستقبل کے ٹیلی پیتھی ماسٹرز کے لیے عملی روڈمیپ
اس خصوصی تحریر میں آپ کو صرف معلومات نہیں بلکہ ایک عملی روڈمیپ دیا جا رہا ہے گا۔
جس پر عمل کر کے آپ اپنے موجودہ لیول میں ایکسر سائز کے ساتھ ساتھ کامیاب تجربات کر سکتے ہیں۔
جی ہاں ۔۔۔۔ اور وہ بھی حیران کن حد تک بس شرط یہ ہے آپ کو اپنے استاد کی ہدایات پر عمل کرنا ہے
ٹیلی پیتھی ایکٹیو ہونے کی نشانیاں … نتائج جو آپ خود محسوس کریں گے
آپ خود حیران ہوں گے کہ چند ہی ہفتوں میں آپ کے خیالات میں ایک خاص قسم کی طاقت، ٹھہراؤ اور گہرائی پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔
وہ خیالات جو پہلے بکھرے ہوئے اور کمزور ہوتے تھے اب واضح اور اثر رکھنے لگتے ہیں۔
آپ محسوس کریں گے کہ سوچتے ہی ویسا ہو جاتاہے جیسے ذہن نے درست فریکوئنسی پکڑ لی ہو۔
آہستہ آہستہ آپ لوگوں کے جذبات، اندرونی کیفیت کو بغیر کسی لفظ کے سمجھنے لگتے ہیں۔
سامنے والا کچھ کہے یا نہ کہے آپ کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے دل و دماغ میں کیا چل رہا ہے۔
یہ سمجھ بوجھ کسی اندازے یا تجربے پر نہیں بلکہ ایک اندرونی احساس پر مبنی ہوتی ہے جو خود بخود درست ثابت ہوتا ہے۔
آپ یہ بھی محسوس کریں گے کہ لوگ لاشعوری طور پر آپ کی طرف کھنچنے لگتے ہیں۔
آپ کی موجودگی انہیں محفوظ، پُراعتماد اور پُرسکون محسوس ہوتی ہے۔
آپ کی باتوں میں وزن آ جاتا ہے اور لوگ پہلے کی نسبت آپ کی رائے کو زیادہ اہمیت دینے لگتے ہیں
بغیر اس کے کہ آپ زور دیں یا خود کو منوانے کی کوشش کریں۔
اکثر اوقات ایسا ہوگا کہ آپ کا پیغام کہے بغیر ہی سامنے والے تک پہنچ جاتا ہے۔
وہی بات، وہی خیال یا وہی فیصلہ سامنے والا خود زبان پر لے آتا ہے
جو کچھ لمحے پہلے آپ کے ذہن میں پوری شدت سے موجود تھا۔
یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں آپ کو پہلی بار اندازہ ہوتا ہے
کہ ذہن واقعی ایک طاقتور ٹرانسمیٹر اور ریسیور کی طرح کام کر رہا ہے۔
یاد رکھیں ٹیلی پیتھی کوئی جادو نہیں
لیکن جب یہ طاقت بیدار ہو جائے تو اس کا اثر الہ دین کے چراغ کے جن جیسا محسوس ہوتا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں کوئی جن حاضر نہیں ہوتا
بلکہ آپ کا اپنا ذہن آپ کے حکم پر متحرک ہو جاتا ہے۔
جب انسان خود پر قابو پا لیتا ہے
تو دنیا خود بخود اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
ٹیلی پیتھی پیغام بھیجنے کا بنیادی اصول
ٹیلی پیتھی میں کامیابی کسی جادو یا خاص کرشمے کا نام نہیں
بلکہ یہ تین سادہ مگر طاقتور چیزوںملتی ہےہے۔
جب یہ تینوں ایک ساتھ درست انداز میں کام کرنے لگیں
تو آپ کا ذہن دوسروں کے ذہن سے خود بخود رابطہ کر لیتا ہے ۔
گہری توجہ
سب سے پہلے اپنے ذہن کو ادھر اُدھر کی سوچوں سے آزاد کریں۔
جب آپ پوری توجہ کے ساتھ صرف ایک ہی بات پر دھیان دیتے ہیں
تو آپ کا ذہن بکھرنے کے بجائے ایک نقطے پر جمع ہو جاتا ہے۔
یہی جمع دکھائی نہ دینے والی طاقت کو جنم دیتی ہے۔
واضح تصور
جس شخص کو پیغام بھیجنا ہو
اسے اپنے ذہن میں صاف صاف دیکھیں۔
ایسے جیسے وہ اس وقت آپ کے سامنے موجود ہو۔
جتنا واضح تصور ہوگا
پیغام اتنا ہی سیدھا اور مضبوط ہوگا۔
احساس
ٹیلی پیتھی کی اصل جان احساس ہے۔
صرف الفاظ سوچنا کافی نہیں ہوتا
دل سے وہی کیفیت محسوس کریں جو آپ دوسرے تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
احساس کے بغیر پیغام کمزور رہتا ہےاور احساس کے ساتھ بھیجا گیا پیغام سیدھا دل تک اتر جاتا ہے۔
اصل راز …جہاں ٹیلی پیتھی حقیقت بننا شروع ہوتی ہے
جب آپ پوری توجہ صاف تصور اور سچے احساس کے ساتھ
ایک ہی لمحے میں پیغام بھیجتے ہیں
تو وہ عام خیال نہیں رہتا
بلکہ ایک طاقتور ذہنی پیغام بن جاتا ہےاور فوری آپ کے مطلوبہ فرد کے ذہن تک پہنچ جاتا ہے۔
یہی ٹیلی پیتھی کا سب سے سادہ اور سب سے مؤثر اصول ہے۔
ٹیلی پیتھی کی بنیادی تیاری
ایک پرسکون جگہ پر بیٹھیں ۔
گہراسانس 4 سیکنڈ تک اندرکھنچیں 4 سیکنڈ روکیں اور 6 سیکنڈ میں باہر نکالیں۔
مطلوبہ شخص کا واضح تصور
اب اپنی آنکھیں بند کرلیں اور جس شخص کو پیغام بھیجنا ہے اس کا چہرہ، مسکراہٹ، آنکھیں سب کچھ اپنے ذہن کی سکرین پر واضح دیکھیں۔
جیسے وہ آپ کے سامنے بیٹھا ہو۔
ٹیلی پیتھی لہریں
اب تصور کریں کہ آپ کے دماغ کے سنٹر یعنی پائنیل گلینڈ سے ایک تیز سفید روشنی کی لہریں نکل رہی ہیں اور یہ اس شخص کے دماغ میں داخل ہو رہی ہیں۔
پیغام بھیجیں اورتصورمیں اسے عمل کرتا ہوا دیکھیں
اس کے بعد اپنے ذہن میں اس شخص کو یہ پیغام دیں کہ “تم فوری میرے پاس آ جاؤ”یہ پیغام حکما دینا ہے۔
پھراپنے تصور میں اسے اپنے پاس آتا ہوا دیکھیں۔
اب آنکھیں کھولیں اور یقین رکھیں کہ آپ کا پیغام پہنچ گیا ہے۔
آپ کا تصور اور یقین جتنا مضبوط ہوگا کہ اتنی جلدی وہ آپ کے پاس آ جائے گا۔
کامیابی کی کنجی
کامیاب ٹیلی پیتھی میسج کے لیے ضروری ہےدوران ایکسر سائز جن جن سٹوڈینٹس کو روزانہ تجربات کا کہا گیا ہے
وہ میری ہدایات پر اسی طرح عمل کرتے ہوئے اپنے تجربات جاری رکھیں ۔
جتنے زیادہ تجربات کریں گے اتنی ہی آپ میں ٹیلی پیتھی کی صلاحیت بڑھتی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ اپنے دماغ کو صاف رکھنے کی کوشش کریں۔
منفی خیالات اور دباؤ سے بچیں کیوں کہ یہ آپ کی ٹیلی پیتھی کی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
تجربات اور کامیابیاں
یاد رکھیں آپ کے ٹیم ممبرز جو مختلف لیولز پر ٹیلی پیتھی سیکھ رہے ہیں وہ روزانہ کامیاب تجربات کر رہے ہیں۔
ہر ممبرکے تجربات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن صبر اوریقین کی طاقت کے ساتھ آپ سب کے تجربات کامیاب ہو رہے ہیں۔
حیران کن ٹیلی پیتھی تجربات …جب ذہن حقیقت سے بات کرنے لگے
آپ میں سے کئی ٹیم ممبرز اپنی زندگی میں ٹیلی پیتھی کی طاقت کو محسوس کر چکے ہیں۔
بہت سے اس طاقت کو اپنے روز مرہ کاموں میں استعمال بھی کر رہے ہیں
اور کئی ایسے کام جو بظاہر ناممکن لگتے تھے وہ ٹیلی پیتھی اور سے کر چکے ہیں ۔
آپ میں سے کچھ ٹیم ممبرز نے اپنے دوستوں کے ساتھ کامیاب تجربات کر کے کامیابی حاصل کی ہے
جبکہ کچھ نے نے اپنی فیملی کے افراد کے ساتھ کامیاب تجربات کیے ہیں۔
پہلے لیول والے سٹوڈینٹس جو ابھی ایکسر سائز کر رہے ہیں اور میں نے انہیں تجربات کرنے کی ہدایت کی ہےان کے لیے ٹیلی پیتھی میسج بھیجنے کا وقت 2منٹ ہے
اور جب پہلے لیول کی ایکرسائز مکمل ہو جائیں گی اور آپ امتحان میں پاس ہو جائیں گے
تو پھر آپ کے رزلٹ کی روشنی میں بتایا جائے گا کہ اب آپ ٹیلی پیتھی پیغام کتنے سیکنڈ میں بھیجیں ۔
روزانہ کم از کم 5 تجربات کریں۔ کورس مکمل کرنے کے بعد تو آپ کی ٹریننگ ایسی ہو چکی ہو گی
کہ جیسے ہی اپنے مطلوبہ شخص کا تصور کریں گے فورری اسی وقت وہ آپ کہے پر عمل کرے گا۔
آج کے سوالات
سوال 1: ٹیلی پیتھی کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟
سوال 2: ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے کیا اصول ضروری ہیں؟
سوال 3: ٹیلی پیتھی سے ہمارا ذہن اور روزمرہ زندگی کیسے بہتر ہوتی ہے؟



جواب 1: ٹیلی پیتھی خدا کی دی ہوئی اس صلاحیت کا نام ہے جس کی بدولت ہم اپنا پیغام کسی دوسرے انسان کے ذہن میں منتقل کرسکتے ہیں اور یہ بہتر توجہ اور مشق کی بدولت مزید نکھرتی ہے.
جواب 2: ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لئے اُستاد کی نگرانی میں مسلسل مشق اور ان کی ہدایات پر عمل ضروری ہے۔
جواب 3: ٹیلی پیتھی سے ہماری چھپی ہوئی ذہنی صلاحیت نمودار ہوتی ہے جس سے ہم ذندگی کےمعاملات آسان کر سکتے ہیں۔
1۔ ٹیلی پیتھی ذہن سے ذہن کا رابطہ ہے
2۔ گہری توجہ، واضح تصور اور سچا احساس — یہی ٹیلی پیتھی کی اصل بنیاد ہیں۔
3۔ ذہن میں طاقت اور ٹھہراؤ آتا ہے، دوسروں کے جذبات بغیر لفظ سمجھے جاتے ہیں، اور پیغام کہے بغیر پہنچنے لگتا
ہے۔
ٹیلی پیتھی کا مطلب ذہن کا ذہن سے رابطہ ہے
ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیے استاد کی نگرانی میں مسلسل ایکسرسائز کرنے میں پوشیدہ ہے
ٹیلی پیتھی سے ہمارا ذہن پر سکون ہو جاتا ہے اور ہماری زندگی میں مسکراہٹ اور آسانیاں فراہم ہو جاتی ہیں کیونکہ نہ صرف ہماری زندگی آسان ہو جاتی ہے بلکہ مخلوق خداوند عالم کے لیے بھی ہم آسانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں
1) telepathy mind to mind link ka naam hai,yani do zehn ek frequency ke plateform per active rehne se message ek se dusre ko transfer ho jane ka Naam hai…
2) telepathy sikhne ke liye 3 usul zaroori hai.
!)Gehri tavajja…..yani apne zehn ko idhar udhar ki socho se ek plateform per yakja karna..
!!)Wazeh tasavvur….. yani apne Target ko zehn ki screen per clearly dekhna..
!!!)Ehsaas…..yani hum jo paigam dena chahate hai usi ko apne zehn me feel karna..
3)hamare rozana ki mashqo se hamara zehn is qadr mazboot ho jata hai k jab hum amli taur per maidan me aye to hamare tajrbaat fori kamiyab ho..
Isi tarah telepathy se hamari Mali halat bhi behtar ho sakti hai…
ٹیلی پیتھی سوچ کے زریع ے رابطے کا نام ہے اور یہ سوچ کی لہروں کے زریع ے مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کرتی ہے۔۔
ٹیلی پیتھی سیکھنے کے لیئے سب سے زیادہ ضروری دماغ کو ایک سوچ پر مرکوز رکھنا ہے۔۔
ٹیلی پیتھی کے زریعے ہمارا دماغ بہت زیادہ فوکس رہتا ہے سوچیں یہاں وہاں بھٹکتی نہیں اور سب سے بڑھ کر اپنی سوچ کی لہروں سے زریعے کسی کے بھی دماغ کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور اس سے اپنی مرضی کا کام لے سکتے ہیں۔۔
1—mind to mind linked KO telepathy Kathy ha
2 telepathy seekhny k lye full attention or feeling KO strongly feel karna chye..or strong well power k sath telaypathy Ka Amal Karna ha k hm apni ankho us shaks taswwar easy rakhy k wo samny hi majod ho .
3– telepathy sy hmara zahin negative thoughts sy Pak rahy ga.jo B hm Kam kary gay pori yaksooi K sath kary gay jis sy kharbi or galti ki gunjaish hi Nahi Baki rahy gi..or kamyabi K faisly puratimad ho kr kary gay..jis sy hmari Zindagi ma sukon Ajay ga..
1:ذہن سے ذہن کے رابطے کا نام ٹیلی پیتھی ہے
جب دو ذہنوں میں مکمل یکسوئی گہری توجہ اور ذہنی ہم آہنگی پیدا ہو جاے تو ٹیلی پیتھی عمل میں آتی ہے اور پیغامات ایک ذہن سے دوسرے ذہن میں منتقل ہوتے ہیں
2:گیری توجہ
واضح تصور
اور احساس
یہ ٹیلی پیتھی سیکھنے کے ضروری اصول ہیں
3:ٹیلی پیتھی سے ہمارا ذہن کی غیر معمولی صلاحیت جو پائنل گلینڈ میں چھپی ہوتی ہے بیدار ہو جاتی ہے اور ہماری زندگی میں غیر معمولی خوشگواری تبدیلی آنے لگتی ہے اور ہم لوگوں کے ذہنوں میں اپنی مرضی کا پیغام بھیج کر ان سے اپنی مرضی کے کے مطابق بھی کام لے سکتے ہیں اور اپنی زندگی کے مسائل حل کر سکتے ہیں
Tp mind to mind bat krne ki silahiyat h jiske zarye pegham bina kisi zarye SE jata h mustaqil mizagi SE maqsus exercise krne SE work krti h
2-mustaqil mizagi pursukun huna khas exercise or tension free huna is silahiyat ko jaga deta h
3-mind equrate hujata h kamun m asani hujati h decision ki silahiyat grow krti h personality grow krti h
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔۔۔۔جواب ۔۔۔۔1۔۔۔
ذہنوں کے اپس کے رابطے کا نام ٹیلی پیتھی ہے۔جب دو افراد کے درمیان گہری توجہ یکسوئی اورہم اہنگی پیدا ہو جاۓ ۔تو خیالات ایک ذہن سے دوسرے ذہن میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔اس کو عملاً ٹیلی پیتھی کہا جاتا ہے۔
۔۔۔جواب۔۔۔2۔۔۔
ماہر ۔تجربہ کار۔استاد کی زیر نگرانی مستقل مزاجی کے ساتھ ۔فوکس اور توجہ سے استاد کی بتائ ہوئی مخصوص ایکسرسائز کرکے ہی ٹیلی پیتھی سیکھی جاسکتی ہے ۔اس کا کوئ شارٹ کٹ نہیں ہے۔
۔۔۔جواب ۔۔۔3۔۔۔
ٹیلی پیتھی ذہنی توجہ یکسوئی اور مخصوص ایکسرسائز سے چند ہفتوں میں دماغی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے تو منتشر ۔بکھرے خیالات۔کنٹرول ہونے لگتے ہیں ۔دوسروں احساسات ۔اور خیالات کا درست ادراک ہونے لگتا ہے ۔قوت فیصلہ بڑھتی ہے ۔اور زندگی کے بیشمار معملات میں پریشانیوں سے بچا رہتا ہے۔۔خود پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے ۔اور دوسرے لوگ خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں ۔کیونکہ ان کو آپ کی شخصیت میں مقناطیسیت محسوس ہوتی ہے۔ اپنائیت محسوس ہوتی ہے ۔۔۔