ٹیلی پیتھی ماسٹر سے ملیے
ٹیلی پیتھی ماسٹر سے ملیے
خیالات پڑھنا …. لوگوں کے ذہنوں میں جھانکنا… کیا یہ ممکن ہے؟
یہ وہ سوال ہے جو میں نے خود سے صرف سوچا نہیں
میں نے اس کا تجربہ کیا ہے۔
میرا نام غلام مصطفیٰ مہر ہے۔
میری زندگی کا سفر ایک عام بچے کی طرح نہیں تھا۔
میں ابتدائی کلاسوں کا طالبِ علم تھا جب میرے اسکول ٹیچر
مولانا حکیم ابراہیم حنیف (مرحوم) نے میری آنکھوں میں کچھ الگ چمک دیکھی۔
ایک دن مسکراتے ہوئے کہنے لگے
بیٹا تمہارے اندر ذہنی قوت کا ایک ایسا خزانہ چھپا ہے جو اگر جاگ جائے
تو تم دنیا کے لیے حیرت کا باعث بن سکتے ہو۔
تم اپنے ذہن کی لا محدود طاقت سے ایسے کام کر سکتے ہو
جنہیں لوگ محیرالعقول کہیں گے۔
یہ الفاظ میرے ذہن میں بجلی بن کر گونج اٹھے۔
انہوں نے کہا تھا
تمہیں اپنے ذہن میں کامیابی کا نیا تصور پیدا کرنا ہوگا۔
جب تک پرانے خیالات کو ختم نہیں کرو گے
نئے خیالات ان کی جگہ نہیں لے سکتے۔
ان کی باتوں نے میرے اندر ایک طوفان برپا کر دیا۔
میرے دل میں ایک بے چینی جاگ اٹھی
میں جانتا تھا کہ میرے اندر کچھ ہے
مگر سمجھ نہیں آتا تھا کہ اسے پروان کیسے چڑھاؤں۔
وقت گزرتا گیا۔۔۔۔۔
لوگوں کی باتیں، معاشرتی دباؤ، عام راستے
یہ سب میرے سامنے دیوار کی طرح کھڑے تھے۔
میرے سامنے دو ہی راستے تھے
یا تو دنیا کی باتوں سے پیچھے ہٹ جاؤں
لوگوں کی باتوں سے راہ فرار یا ثابت قدمی سے جہد مسلس
ناکامی یا کامیابی وکامرانی کی روشن کرنیں
ایک طرف معاشرتی پریشر اور دوسری طرف کچھ کر گزرنے کا جذبہ وجنون
ایک طرف محدود سوچ اور عام راستہ دوسری طرف انقلابی سوچ و فکراور خاص راستہ
ایک طرف کامیابی کی محدود صورتیں ،دوسری طرف ذہن کی وسعتوں کے بند دریچوں کو کھولنے کے عظیم سفر کا آغاز
مسلسل ذہنی کشمکش کے بعدآخر کارفیصلہ کن لمحات آہی گئے
جب ان میں سے ایک رستے کا انتخاب کرنا تھا۔
میں نے سوچا کہ عام رستے کا انتخاب تو عام لوگ کرتے ہیں
لیکن جو رستہ مشکل ہے اس میں کامیابیوں کا گراف زیادہ ہے
لیکن مشکل راستہ ہی کمال کی طرف لے جاتا ہے۔
اور یہ محدود ذہانت سے لامحدود ذہانت کا سفر ہے۔
اس لیے سب چیزوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے
ذہن کی وسعتوں کو پانے کے سفر کا راہی بننا پسند کیا۔
یہ محدود ذہانت سے لامحدود ذہانت کا سفر ہے۔
یوں میں نے فیصلہ کیا
میں اپنے ذہن کی وسعتوں کو پانے کے سفر پر نکلوں گا۔
شعور کا سفر
وقت گزرتا گیا،لیکن میرے اندر کا تجسس بڑھتا گیا۔
میں جاننا چاہتا تھا کہ آخر یہ ذہن کام کیسے کرتا ہے؟
کیا واقعی انسان دوسرے کے مائنڈ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟
میں نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس راز کی تلاش شروع کر دی۔
اوراس علم کو عام افراد کی رہنمائی کے لیےمیں نے اپنا سفر جاری رکھا
مطالعہ و تجربات سے صلاحیتیں مزید نکھر آئیں
اس پر تحقیق وتجربات
کبھی خود پر تجربات کیے
کبھی دوسروں پر
کبھی پودوں اور جانوروں پر۔
کبھی اندھیرے میں دیکھنے کی مشق
کبھی خوابوں میں پیغام رسانی
کبھی مرضی کے خواب بنانا
کبھی حادثے سے پہلے آگاہی حاصل کرنا۔
کبھی فون کی گھنٹی پر فون والے کا نام۔ الغرض سفر جاری رہا۔
یوں لگتا تھا جیسے دماغ کے بند دروازے ایک ایک کر کے کھل رہے ہوں۔
میں نے جانا کہ انسانی دماغ ایک ریڈیو اسٹیشن ہے۔
ہر خیال، ہر جذبہ، ہر ارادہ لہروں کی صورت میں سفر کرتا ہے۔
اگر کوئی ان لہروں کو “ٹون” کر لے تو
وہ دوسرے کے ذہن تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
یہی لمحہ تھا جب میں نے پہچانا
یہ جادو نہیں بلک ایک زبردست علم اور فن ہے۔
بالآخر ایک دن اس علم پر ماسٹر پلان تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
حتیٰ کہ اسی موضوع کو بیان کرنے کا اہل بن گیا۔
چناں چہ اسی موضوع پر میری کتاب ذہن ی پر اسرار قوتیں 2007 میں منظر عام پر آئی ۔
جس کے بارے میں نے کتا ب میں ہی لکھا کہ کہ آپ نے یہ کتاب صرف اس لیے نہیں خریدی کہ اس موضوع پر معلومات مل جائیں
بلک اس کتاب کے ذریعے اپنے روشن مستقبل کے خواہاں ہوں گے۔
آ پ باقاعدہ وقت نکال کر یکسوئی کے ساتھ مطالعہ کریں
پھر دیکھیے کہ آپ کی سوچ کیسے بدلتی ہے؟
آپ کے خیالات کیسے بدلتے ہیں؟
اگراس کتاب کے مطالعہ کے بعد آپ کو اپنے اندر ایک نیا جوش وجذبہ
خود اعتمادی کا احساس،کچھ کرنے کی تمنا
اورایک نئی بھرپور زندگی کی خواہش نہ ابھرے
تو بیشک آپ کتاب واپس کر دیں اور پیسے واپس لے لیں ۔
زمانۂ طالب علمی سے نئی دنیا تک
کالج کا زمانہ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
کلاس میں بیٹھے بیٹھے میں اپنے ساتھیوں کے ذہنوں کے خیالات پڑھ لیتا۔
میں کہتاتم ابھی یہی سوچ رہے تھے نا؟
اور وہ حیرت سے مجھے دیکھتے رہ جاتے۔
وہ سوچتے یہ کیسے جان لیتا ہے کہ ہم کیا سوچ رہے ہیں؟
کچھ مجھے جادوگر کہتے، کچھ ذہن پڑھنے والا
لیکن میں جانتا تھا کہ یہ جادو نہیں یہ علم ہے
وہ علم جو انسان کے اندر ہی پوشیدہ ہے۔
ان کے چہروں کی وہ حیرانی آج تک میری یادوں میں نقش ہے۔
یہی میری پہچان بن گئی
لوگ مجھے ذہن پڑھنے والا کہنے لگے۔
ورلڈ انسٹیٹیوٹ فار جینئس مائنڈ … خواب کی تعبیر
اسی طرح ریسرچ کے ساتھ تجربات کا سلسلہ سالوں تک جاری رہا
جب میری ریسرچ مکمل ہوئی تو میں نے فیصلہ کیا
کہ اس علم کو اپنے تک محدود نہیں رکھوں گا۔
مئی 2002 میں ،میں نےاس علم کو لوگوں تک پہنچانے کے لی ایک ادارہ قائم کیا
“World Institute for Genius Mind”
تاکہ عام انسان بھی اپنی ذہنی طاقتوں کو بیدار کر سکیں۔
اس وقت انٹرنیٹ عام نہیں تھا۔
لوگ مجھے خط لکھتے، اپنی زندگی کے سوالات اور خواب بھیجتے۔
میں ان کا میرٹ ٹیسٹ لیتا
اور جو اہل ثابت ہوتے
انہیں ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائزز خط کے ذریعے بھیجتا۔
میرے پاس پاکستان کے ہر شہر اور بیرونِ ملک سے سینکڑوں خطوط آتے۔
ان خطوظ میں سے چند خطوط کو میں نے اپنی کتاب میں اپنی کتاب ذہن کی پر اسرار قوتوں
میں ان لوگوں کی رائے کے بعد میں شامل بھی کیا ہے
کچھ بیماروں کی مدد چاہتے
کچھ لاپتہ افراد کا سراغ
اور کچھ صرف اپنی گم شدہ طاقت واپس پانے کے خواہاں ہوتے۔
ڈیجیٹل دور کی شروعات
پھر 2013 میں میں نے اس علم کو آن لائن دنیا میں منتقل کر دیا۔
اب دنیا بھر سے خواتین و حضرات
میرے ادارے کے ذریعے ویڈیو کالز پر ٹیلی پیتھی سیکھتے ہیں۔
میں خود انہیں رہنمائی دیتا ہوں
کہ وہ اپنی ذہنی توانائی محسوس کریں
کنٹرول کریں، اور بھیجنا سیکھیں۔
ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس …. ذہن کی بیداری کا سفر
اگر آپ بھی اپنی سوچ کو طاقت میں بدلنا چاہتے ہیں
تو یہ کورس آپ کے لیے ایک نایاب موقع ہے۔
مدت کورس 2 سال
کل 6 لیول
ایڈمیشن فیس 15000
ماہانہ فیس 6000
آغاز میں ہفتے میں 5دن ایکسر سائز ہوتی ہیں پیر سے جمعہ۔
ہفتہ اور اتوار سٹوڈنٹس خود آف
لائن ایکسرسائز کرتے ہیں ۔
اگلے لیولز میں ہفتے کے ساتوں دن آن لائن ایکسرسائز کروائی جائیں گی۔
ایکسرسائز سٹوڈنٹس کو موبائل سٹینڈ پر لگوا کر
وٹس ایپ پر ویڈیو کے ذریعے اپنی نگرانی میں کرواتا ہوں۔
ایکسرسائز کی رپورٹ کے لیے سٹوڈنٹس کو ایک فارمیٹ سینڈ کیا جاتا ہے۔
جس کے تحت رپورٹ سینڈ کرنا ہوتی ہے
کورس میں داخلہ کے لیے
ایڈمیشن فیس اور ماہانہ فیس جاز کیش یا بینک میں ٹرانسفر کرنا ہوتی ہے۔
جیز کیش اکاؤنٹ نمبر
03214700965
Ghulam Mustafa
UBL bank account no:
1260329595995
Ghulam Mustafa
فیس ملنے کے بعد داخلہ فارم کا لنک سینڈ کیا جاتا ہے
جسے فل کر کے سب مٹ کریں گے تو داخلہ ہو جائے گا۔
اس کے بعد آن لائن ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس کرنے والے سٹوڈنٹس کے وٹس ایپ گروپ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
اس گروپ میں موٹیویشن کے لیے ہفتے میں چار سے پانچ خصوصی تحریریں شئیر کی جاتی ہے۔
اس کورس کی خصوصیت یہ ہے کہ لائف ٹائم سپورٹ ملے گی۔
جہاں کسی قسم کی مشکل پیش آئے فوری کال کریں رہنمائی دی جائے گی
شروع میں آن لائن 5 دن کلاس
بعد کے لیولز میں روزانہ آن لائن کلاس اور ایکسر سائز کروائی جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریگولر ٹائپ آن لائن ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس
یہ کورس آن لائن سٹوڈینٹس کی فرمائش پر ترتیب دیا ہے
ان کا اسرار تھا کہ جو افراد یا خصوصی طور پر خواتین ریگولرکورس نہیں کر سکتیں
اور زیادہ وقت دے سکتے ہیں یا دے سکتی ہیں۔
تو ان کے لیے کچھ ایسا پلان کریں
کہ زیادہ سے زیادہ وقت آپ کی رہنمائی میں گزار کر جلد ٹیلی پیتھی سیکھ سکیں۔
جو کورس 24 ماہ میں مکمل ہو گا
اس شیڈول میں وہی کورس 15 ماہ میں مکمل ہو گا اور تجربہ بھی زیادہ ہوگا
یہ کورس یکم نومبر 2025 سے شروع ہو رہا ہے
اس کی فیس سٹینڈرڈ فیس یعنی 6 ہزار ماہانہ فیس سے زیادہ رکھی گئی ہے
کیونکہ اس میں 24 گھنٹوں میں 2 سے 3 گھنٹے ایکسرسائز اور ٹریننگ ہو گی۔
اس کا ٹائم بھی ظاہر ہے الگ سے ہو گا
اس لیے اس کی فیس زیادہ رکھی گئی ہے
جاری کلاسز کے سٹوڈینٹس کے لیے
ماہانہ فیس 15000 روپے ہو گی
نئے سٹوڈینٹس کے لیے
ایڈمیشن فیس 25000 روپے
ماہانہ فیس 15000 روپے ہی ہو گی
اس میں ہر ماہ کی پہلی اتوار کو 8گھنٹے کا تربیتی سیشن ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسرا بیسک آن لائن ٹیلی پیتھی ماسٹر کورس
جو افراد زیادہ فیس نہیں دے سکتے ان کے لیے بیسک کورس کروایا جا رہا ہے
مدت کورس 3سال
ایڈمیشن فیس صرف ایک ہزار اور ماہانہ فیس ایک ہزار
اس کورس میں ہفتے میں صرف ایک دن آن لائن ایکسرسائز چیک ہوں گی۔
باقی دن وہ خود ایکسرسائز بتائے گئے طریقے کے مطابق کریں گے
رپورٹ روزانہ وٹس ایپ گروپ میں شئیر کرنا لازمی ہے
اس کورس میں ہفتے میں ایک دن مختص ہو گا جب چاہیں کال کر کے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں
یعنی محدو سپورٹ ہو گی۔
شروع میں آن لائن ہفتے میں ایک دن ہو گی
اور آخری لیول آن لائن کلاس
اور ایکسر سائز ہفتے میں دو بار کروائی جائیں گی۔
میں خود آپ کو سکھاؤں گا
اپنے ذہن کی پوشیدہ توانائیوں کو ایکٹیو کرنے کے راز
Mind-to-Mind Link بنانے کا طریقہ
کسی کو دور سے متاثر کرنے کا فن
کسی کی تصویر یا آواز سے ذہنی رابطہ قائم کرنے کی تکنیک
یہ علم آپ کی زندگی بدل دے گا۔
آپ صرف سوچنے والے نہیں رہیں گے
بلکہ سوچ سے حقیقت تخلیق کرنے والے بن جائیں گے۔
میرا مشن
میرا مقصد صرف علم دینا نہیں
بلکہ ہر انسان کو اس کی اصل پہچان دلانا ہے۔
کیونکہ ہر انسان کے اندر ایک ایک پوشیدہ و پر اسرار قوت کا خزانہ چھپا ہے
بس ضرورت ہے اسے تلاش کرنے اوراس سے کام لینے کی۔
اگر آپ اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں
اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کی سوچ کے مطابق چلے
تو آئیے
میری رہنمائی میں ٹیلی پیتھی سیکھیں۔
میں وعدہ کرتا ہوں
آپ کا ذہن وہ دیکھے گا جو پہلے صرف خواب تھا۔
اور پھر آپ خود کہیں گے
میں نے سوچا… اور یہ ہو گیا۔
آج کے سوالات
سوال 1
جب غلام مصطفیٰ مہر نے ٹیلی پیتھی کا ادارہ “ورلڈ انسٹیٹیوٹ فار جینئس مائنڈ” قائم کیا تو ان کا اصل مقصد کیا تھا؟
سوال 2
جب غلام مصطفیٰ مہر نے کتاب ذہن کی پراسرار قوتیں لکھی تو انہوں نے قارئین سے کہا کہ اگر اثر نہ ہو تو پیسے واپس لے لیں — اس بات سے ان کے اعتماد کے بارے میں کیا ظاہر ہوتا ہے؟
سوال 3:
ٹیلی پیتھی کے علم کو غلام مصطفیٰ مہر نے “جادو نہیں بلکہ علم” کہا — آپ کے خیال میں انہوں نے ایسا کیوں کہا؟



1،
انکا مقصد تھا کہ عام انسان کے اندر جو ذہنی پاورز ہیں انکو استعمال میں لائے اور اپنی زندگی بہتر بنا سکے
2،انکو اعتماد تھا وجہ یہ کہ انہوں نے اس علم کی گہرائی کا پتہ تھا کہ اس علم کو حاصل کر لیا یا معلومات مل گئی تو آپ اپنے مائنڈ سے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔
3،کیونکہ یہ ایک علم ہے جس کو جتنا زیادہ سمجھیں گے آپ کے سامنے ایک نئی دنیا دریافت کر سکتے ہیں جبکہ جادو ایک نظر کا دھوکہ ہے اور جادو میں حقیقت نہیں میں انکو نہیں مانتی جبکہ ذہن ہر انسان میں ہوتا ہے یہ ایک باقاعدہ علم ہے
Ans1- takh aam to ndan apni zehni powers ko use krr saky
Ans2- iss sy zahir hota hai k un ko apny ilm prr yaqeen tha
Ans 3- Q k jadoo aik negative amal hai jo k negative powers k istamal Sy Kia jata hai
Jab k telepathy aik zehni akhtra hai
Jissy koi bhi hasil krr sakta hai
جواب ١) ،،اس انسٹٹیوٹ کا اصل مقصد لوگوں میں آ گاہی پیدا کرنا ہے تاکہ وه اپنے اندر کے پوشیدہ خزانوں کو ڈھونڈ سکیں۔۔
جواب٢) ۔۔یقیناً آپ کا اعتماد انتہاؤں کو پہنچا ہوگا کیونکہ جو حق پر ہوتا ہے ہمیشہ پر اعتماد ہوتا ہے اور ٹیلی پیتھی جیسا علم آپ کا آزمایا ہوا ہے۔۔
جواب3) ۔۔بے شک ٹیلی پیتھی کوئی جادو نہیں ہے یہ ہمارے دماغ کی طاقت ہے جس کی وجہ سے ہم انسان اشرف المخلوق کہلاتے ہیں اور ہمیں فرشتوں سے بلند درجه ملا کیونکہ اللّه نے ہمیں عظیم ذہن اور شع ور کا مالک بنایا ہے اس طاقت کو کو ٹیلی پیتھی کے زريعے پایا جا سکتا ہے،،
Q1:jb y institute bna to iska maqsad y tha k logun m agahi peda ki jae jae k tp ek science h:Q2:sir ko yaqen tha k mind science Kam krti h or such muntaqil huti h
Q3: To Jadu ni blke ek ilm h sciencetific method jis k zarye hm kisi ki such read krsakte hn