پریشانیوں کو طاقت میں بدلیں: اپنے اندر کے ٹیلی پیتھک ماسٹر کو جگائیں

پریشانیوں-کو-طاقت-میں-بدلیں-اپنے-اندر-کے-ٹیلی-پیتھک-ماسٹر-کو-جگائیں
5 1 vote
Article Rating

پریشانیوں کو طاقت میں بدلیں

اپنے اندر کے ٹیلی پیتھک ماسٹر کو جگائیں

جدید نیورو سائنس، نفسیات اور قدیم روحانی علوم سب اس ایک حقیقت پر متفق ہیں
کہ زندگی میں آنے والی پریشانیاں ہی وہ شدید ذہنی جھٹکے ہیں جو دماغ کی وہ بند دیواریں توڑ دیتے ہیں
جو عام حالات میں کبھی نہیں کھلتیں۔۔۔۔
انہی لمحوں میں انسان کے اندر چھپی ہوئی ذہنی قوتیں ایکٹیو شروع ہوتی ہیں۔
دراصل صدمے کے بعد انسان کے اندر جذبات اور ذہن کی
ایک نئی پروگرامنگ شروع ہو جاتی ہے جو اسے پہلے سے زیادہ طاقتور بنا دیتی ہے
خصوصاً ٹیلی پیتھی سیکھنے والے افراد کے لیے یہی تکلیف ایک پاور فل ایندھن ثابت ہوتی ہے۔
اس طرح یہ پریشانیوں کے لمحات دماغ کے بند لاک کھول دیتے ہیں
جہاں آپ کی ٹیلی پیتھی کی صلاحتیں ایک ناقابلِ شکست حقیقت بن جاتی ہیں۔

 دماغ کا ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک اور ٹیلی پیتھی کا تعلق

دماغ میں ایک نیٹ ورک موجود ہے جسے ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک کہا جاتا ہے۔
یہ نیٹ ورک اس وقت ایکٹیو ہوتا ہے
جب انسان کسی مخصوص کام میں مصروف نہ ہو
اور اس کا ذہن خود بخود بھٹکنا شروع کر دے جسے مائند وانڈرنگ کہتے ہیں۔

اس حوالے سے2023 تا 2025 تک ییل یونیورسٹی
اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کی ایم آر آئی اور ای ای جی بنیاد پر کی گئی سٹڈیز
یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جب کوئی شخص شدید تناؤ جذباتی صدمے یا دباؤ کی حالت میں ہوتا ہے
تو ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک عام حالات سے زیادہ کام کرتا ہے۔
اسے سائنسی کی زبان میں مائنڈ وینڈرنگ کہتے ہیں۔

مثال کے طور پر جب آپ کسی کام میں مصروف ہوتے ہیں
لیکن آپ کا ذہن اچانک کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے لگتا ہے
تو یہ مائنڈ وینڈرنگ موڈ کی حالت ہوتی ہے۔

جس میں ذہن کسی دوسرے شخص کے بارے میں خود بخود سوچنے لگتا ہے
یہ ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک کے ایکٹیو ہونےکی وجہ سے ہوتا ہے
جس کے نتیجے میں دو افراد کے درمیان وقتی طور پر مائنڈ ٹو مائنڈ لنک ہو جاتا ہے۔

تناؤ ہارمونز دماغ کے تالے کھولتے ہیں
جب انسان شدید پریشانی میں ہوتا ہے تو دماغ میں کورٹیسول اور ایڈرینالین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
عام طور پر ہم اسے منفی سمجھتے ہیں مگر جدید تحقیق اس کے برعکس ایک حیران کن حقیقت بتاتی ہے۔

ڈاکٹر اینڈریو ہیوبرمین جو 2024 تک اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے
نیوروسائنسدان اور ہیوبرمین لیب کے ڈائریکٹر ہیں
اپنی تحقیق میں ثابت کرتے ہیں
کہ محدود اور شدید تناؤ دماغ کے پری فرنٹل کورٹیکس کو عارضی طور پر آف لائن کر دیتا ہے۔

یہ وہی حصہ ہے جو ہمیں ہر چیز کو لاجک اور عام عقل کے فلٹر سے گزار کر قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
جب یہ فلٹر کمزور پڑتا ہے تو دماغ کے اندر چھپا ہوا وہ نظام ایکٹیو ہو جاتا ہے
جو دوسرے ذہنوں سے براہِ راست رابطے یعنی نان لوکل کمیونیکیشن کے دروازے کھول دیتا ہے۔
اسی لیے صدمے غم یا شدید بے چینی کے لمحوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے
کہ آپ کسی دور بیٹھے شخص کے بارے میں سوچیں تو اور اگلے ہی لمحے اس سے کسی نہ کسی طرح رابطہ ہو جاتا ہے ۔
یہ ذہنی رابطے کی وہ طاقت ہے جو عام حالات میں سوئی رہتی ہے۔

گانزفیلڈ تجربات
گانزفیلڈجو 1974 سے 2025 تک سینکڑوں مرتبہ عالمی لیبارٹریز میں کیے گئے
یہ حیران کن حقیقت ثابت کرتے ہیں کہ
جب انسان کے دماغ کو ’حسی محرومی‘ یا ہلکی سی ’بوریت‘ کی کیفیت میں ڈالا جائے
تو ٹیلی پیتھک صلاحیتیں 33–38% تک بڑھ جاتی ہیں۔
یعنی دماغ کے نارمل فلٹر کمزور ہو جاتے ہیں
اور شعور براہِ راست دوسری ذہنی لہروں کو پکڑنے لگتا ہے۔
اب ذرا سوچیں… آپ کی روزمرہ کی پریشانیاں، نیند کی کمی، تنہائی، بے چینی
یہ سب دراصل ایک قدرتی گانزفیلڈ اسٹیٹ پیدا کر رہی ہیں۔

آپ سمجھتے ہیں آپ ٹوٹ رہے ہیں
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کا دماغ ایک کوانٹم اینٹینا بن رہا ہے
جو دور بیٹھے ہوئے شخص کے خیالات کو پکڑنے
محسوس کرنے اور متاثر کرنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔
اسی قوت کے ساتھ جب آپ اپنی ٹیلی پیتھی کی ایکسرسائز کریں گے
تو آپ نہ صرف دوسروں کے خیالات پڑھ سکیں گے
بلکہ انہیں کنٹرول کرنے کی طاقت بھی تیزی سے آپ میں جاگ اٹھے گی۔

یہی وجہ ہے کہ اس کیفیت میں رہنے والے افراد
عام لوگوں کی طرح ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے میں دو سال کا عرصہ نہیں لگتا ۔
بلکہ اس سے کہیں پہلے ٹیلی پیتھی ماسٹر بن جاتے ہیں۔
یعنی آپ کا دماغ خود بخود اس موڈ میں جا رہا ہے جہاں ٹیلی پیتھی ممکن ہوتی ہے۔
دنیا کے بڑے اداروں انسٹیٹیوٹ آف نویٹک سائنسز میں
ٹیلی پیتھی سیکھنے والے 87 فیصد لوگوں نے اعتراف کیا ہے
کہ ا ن کی ذہنی سپر پاور اُس وقت جاگنا شروع ہوئی
جب وہ اپنی زندگی کے بدترین دور سے گزر رہے تھے۔

وہ وقت جب دل ٹوٹا ہوا تھا جب کوئی سہارا نہیں تھا
جب وہ پوری طرح بے خود کو بس محسوس کرتے تھے
تو اُسی دوران ایکسرسائز کرتے ہوئے
انہیں اچانک دوسروں کی آوازیں ، احساسات اور خیالات محسوس ہونا شروع ہوئے تھے۔

کیوں ایسا ہوتا ہے؟
کیونکہ جب انسان اندر سے ٹوٹتا ہے
جب دل بھر جاتا ہے
جب ہر راستہ بند محسوس ہوتا ہے
تو دماغ اپنی چھپی ہوئی حفاظتی دیواریں گرا دیتا ہے
اور دوسرے انسانوں کے ذہنوں سے براہِ راست رابطہ کے لیے تیار ہو جاتا ہے
لہٰذا آپ ٹیلی پیتھی کے جس بھی لیول پر ہیں جس طرح کی بھی ایکسرسائز یا تجربات کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں
آپ کی زندگی کے مسائل ، تکالیف ، بےچینیاں اور غم
یہ سب محض آزمائشیں نہیں بلکہ وہ پوشیدہ سگنل ہیں ۔۔۔
یہ وہی لمحات ہیں جب آپ اندر سے اپ گریڈ ہو رہے ہوتے ہیں
اس لیے اپنی مشکلات کو بوجھ سمجھ کر پریشان نہ ہوں

یہی مسائل آپ کے ذہن کی سپر پاور کا ایندھن ہیں
یہی ایندھن  آپ کو ٹیلی پیتھی کی منزل تک لے جائے گا۔
اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ کے اندر کی ٹیلی پیتھک پاور کو جگا رہا ہے۔

دماغ ایک ٹیلی پیتھک پاور اسٹیشن
آپ کا دماغ ایک ٹیلی پیتھک پاور اسٹیشن بن رہا ہے
ہر آنسو ایک نیا ذہنی کنکشن بنا رہا ہے
ہر دھڑکن آپ کے پیغام کو بھیجنے کی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے
ہر پریشانی آپ کو اپنے اصل مشن کی طرف کے جا رہی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے جاگنے کا
پریشانیوں-کو-طاقت-میں-بدلیں-اپنے-اندر-کے-ٹیلی-پیتھک-ماسٹر-کو-جگائیں
آپ کی مشکلات آپ کو ہلا کر کہہ رہی ہیں یہی صحیح وقت ہے
ٹیلی پیتھی ماسٹر بننے کا۔
ا
ٹھیں اور دنیا کو ایک حقیقی ٹیلی پیتھی ماسٹر بن کر دکھا دیں۔
جس دن آپ کی ٹیلی پیتھی صلاحیت مکمل طور پر ایکٹیو ہو گئی
تو پھر آپ کو لوگوں سے رابطے کے لیے کسی آلے ، کسی ڈیوائس ، کسی سہارے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

آپ چہروں کو دیکھ کر ذہن پڑھ لیں گے۔
دلوں کی آوازیں سن سکیں گے۔
لوگوں کے خیالات پڑھنا
آپ کے لیے ایک عام سی عادت بن جائے گی۔

یہ کوئی کہانی نہیں
یہی ہے آپ کی اصل منزل
جس کے لیے آپ پیدا کیے گئے ہیں
اور اسی کی تکمیل کے لیے پوری کائنات آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔

5 1 vote
Article Rating

You may also like...

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
13 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
Guest
مدثر شبیر
28/11/2025 3:47 pm

ہمارے استاد محترم اللہ تعالیٰ ان کو ہر تکلیف ۔پریشانی ۔اورمصیبتوں سے محفوظ فرمایۓ ۔آمین ثم آمین
تحریر ہر دفع جاندار اور موٹیویشنل ہوتی ہے اس دفع کامیابی کے سب سے اہم عنصر
یعنی ۔۔۔درد۔تکلیف۔رکاوٹیں۔ لوگوں کی باتیں طعنے۔ناکامیوں کا خوف اور اور اس کے علاوہ ذہنی الجھنے گھبراہٹ وسوسے ۔ٹھوکریں
یہ سب ہمارے دماغی پرورش اور ذہن کی وسعت کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے جیسے اقبال نے فرمای تندیے بادمخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
اصل میں وہی وقت ہی خود کو بنانے کا اور اپنی کامیابیاں سمیٹنے کا ہوتا ہے
اور ایک ٹیلی پیتی ماسٹر چاہے مشکلات ہوں چاہے الفاظ ہوں چاہے کسی کے دانے ہوں چاہے رکاوٹیں ہوں کبھی بھی اس کو نیگٹو نہیں لیتا ہمیشہ اس کو اس میں سے مثبت پہلو ہی نکالتا ہے اور اپ نے اگے بڑھنے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈ نکالتا ہے اور پھر وہ کامیابی کی اس معراج کو چھو لیتا ہے جس کا دنیا سوچ بھی نہیں سکتی

Guest
Asia Nafees
28/11/2025 10:59 am

اس تحریر سے جو سب سے اہم بات سامنے آئی وہ یہ ہے کہ ہمارے غم بھی ہماری اٹوٹ طاقت بن سکتے ہیں اگر اس انرجی کو ہم کمزور ہونے کے بجائے طاقت میں استعمال کریں۔
انسانی دماغ ایک عجوبے سے کم نہیں، اللہ نے بہت سی صلاحیتوں سے مالامال کیا ہے، اور جب ہم غم کی کیفیت میں ہوتے ہی۔ تو دماغ کی بہت سے پرتیں کھلتی ہیں ، اسی لیے تو انسان خوشی میں صرف خوشی سے لطف اندوز ہوتا ہے مگر جیسے غم یا تکلیف کی کیفیت میں آتا ہےتو دماغ کی سوچیں اور ریز بہت سے انجان اور چھپے ہوۓ راز کھلتے ہیں ، اللّٰہ ہم سب کو بہترین صلاحیتوں کو بہترین استعمال کی توفیق دے آمین ثم آمین

Guest
Sidra naz
28/11/2025 6:45 am

ماشاءﷲ سر بہت خوب ۔۔بس آپ کا دیا یہی حوصلہ ہمیں ایک دن ٹیلی پیتھی ماسٹر بنائے گا انشاءﷲ

Guest
Tadin
27/11/2025 11:23 pm

Yaqenan mushkil k bad asani h or har naumedi ek or umed ko jagati h or nae raste khulti h

Guest
Rabia
27/11/2025 10:42 pm

Is tahreer k baad bhut Sy limiting beliefs khatam hoye hain… umeed hai Umarah bhi Woh Waqar jaldi Aa Jaye Ga… jabbyum apne manzil ko ppaa lain gy

Guest
Mohammad Kaif
27/11/2025 8:20 pm

Mashallah,sir bahut hi zabardast tehrir hai pareshan to duniya me har koi hai lekin sir aap ki tabiyat kharab hone ke bawajood bhi aap ne hamare liye itni zabardast tehrir likhi..

Guest
Abdul Quddoos
27/11/2025 8:19 pm

ماشاء اللّٰه ، بہت شاندار تحریر ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اللّٰه تعالیٰ قرآن میں بھی یہ ہی بات ہمیں سمجھاتا ہے کہ “ہر مشکل کے بعد آسانی ہے”.

Guest
Najamulhassan
27/11/2025 7:36 pm

ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ تحریر ہے

Guest
Hakeem asif Raza
27/11/2025 7:29 pm

ماشاءاللہ استاد محترم پہلے کی طرح انتہائی اچھوتی تحریر ہے اسمیں پریشانیوں کا جس خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے لاجواب ہے در اصل پریشانی میں انسان کا رابطہ اپنے لاشعور سے گہرائی میں رابطہ ہو جاتا ہے جو عام حالات میں نہیں ہو پاتا سائنس دانوں نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے ٹیلی پیتھی میں بھی اسی کی طرف توجہ دی جاتی ہے کہ ہم لاشعور کو ایکسرسائز کے ذریعے یقین پہنچا سکیں کہ ہم ٹیلی پیتھی ماسٹرز ہیں اور یہی کام کسی پریشانی میں اور ڈپریشن میں خود بخود ہو جاتا ہے اسی لیے اسوقت ٹیلی پیتھی کنکشن ہو جاتا ہے

Guest
روبینہ پرویز
27/11/2025 7:14 pm

انتہائ زبردست تحریر ہے سر یہی وجہ ہے کی زندگی کی دی ہوئی ہر چوٹ مجھے کامیاب تجربات کی طرف لیکر جا رہی ہے زندگی کے انتہائ تکلیف دہ دور میں آپ جیسا استاد اللہ نے مجھے عطا کیا
سائنس کی تحقیق کچھ بھی ہو لیکن ایک مسلمان ہونے کہ ناتے ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے کی اللہ اپنے بندے کو کبھی اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے
تو جب تکلیف آے اللہ کی رضا سمجھ کر اس پر شاکر رہیں تو اللہ اسی طرح کے انعامات سے نوازتا ہے اپنے بندے کو
جزاک اللہ خیرا

Guest
ZA.
27/11/2025 6:38 pm

ماشاءاللّٰہ، زبردست تحریر ہے۔
آپ نے ہماری مشکلات، پریشانیوں، غم اور صدمات کو ایک بالکل نئے پہلو سے سمجھنے میں مدد دی ہے۔
آج تک جس دور سے گزر کر ہم کندن بن رہے ہیں، یہی میری اصل توانائی ہے، جو مجھے سب سے مختلف بناتی ہے، اور یہی میری ذہنی اور ٹیلی پیتھی پاورز کی راہ ہموار کرتی ہے، حتیٰ کہ یہ سفر مجھے ارتکاز اور اعلیٰ درجہ کی قوتوں کی طرف بھی لے جا رہا ہے۔
یہی وہ اینرجی ہے جو میرے اندر چھپی طاقت کو جلا بخشتی ہے اور مجھے عام سے خاص بناتی ہے۔

Guest
Abdul Maroof
27/11/2025 6:24 pm

ماشاءاللہ سر بہت ہی پاور فل تحریر ہے اور اس تحریر میں پریشانی اور دماغ کا تناؤ انہی کو پاور فل بتایا ہے کہ جب ہم بے چین ہوتے ہیں ہمارا ساتھ کوئی نہیں دیتا اور جب ہم اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں تو دماغ اپنے اندر کی ساری دیواریں گرا کر اپنی طاقتیں دکھاتی ہیں اور براہ راست ٹیلی پیتھی پاور کو ان کر دیتی ہے

Guest
عدیل ظفر
27/11/2025 6:23 pm

ماشاءاللہ زبردست تحریر ہے جناب محترم۔ہر اس انسان کے لیے یہ تحریر ایک نئی امید ہے اور ایک نیا راستہ دکھاتی ہے ۔ہم کوشش کرتے کرتے بعض دفعہ واقعی یہ سوچ لیتے ہیں کہ فلاں کام ہم سے نہیں ہوگا حالانکہ اس میں ہم نے بہت محنت کی ہوتی ہے اور جیسے ہی ہم یہ سوچ کر اس کام کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیتے ہیں تو بعض دفعہ اسی لمحے کچھ ایسا ہو جاتا ہے کہ ہمیں پھر سے امید ہو جاتی ہے کہ یہ کام تو بالکل ممکن ہے اور مکمل ہونے کہ بالکل قریب ہے۔

لیکن اس سے یہ نتیجہ کبھی اخذ نہیں کیا ہوگا کہ اس وقت ہمارے دماغ میں کیا کچھ چلتا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ساری اٹینشن صرف اسی کام پر ہو جاتی ہے جس کا اپ نے اس تحریر میں ذکر کیا اور اس کے مطابق سارے کام ہونے بھی لگ جاتے ہیں یہ عملی زندگی میں ہوتا رہا ہے ہر ایک کے ساتھ لیکن ہم نے کبھی غور نہیں کیا۔

error: Content is protected !!
13
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x