ملی سیکنڈ فارمولا …. ایک لمحہ جو زندگی بدل دے
ملی سیکنڈ فارمولا …. ایک لمحہ جو زندگی بدل دے
آپ کا دماغ کسی بھی چیز کا فیصلہ صرف ایک سیکنڈ کے چوتھائی حصے یعنی 0.25 سیکنڈ میں کر لیتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جو کامیاب اور ناکام انسان میں فرق پیدا کرتا ہے۔ایک لمحہ … ایک فیصلہ … جس سے پوری زندگی بدل جاتی ہے۔
آپ کے دماغ کا ایک حصہ پری فرنٹل کارٹیکس دماغ کا ہاں والا بٹن ہے
یہ دماغ کا اگلا حصہ ہے جو آپ کے فیصلے کرنے، منصوبہ بنانے، خود پر قابو رکھنے
توجہ مرکوز رکھنے اور حوصلہ برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
جب آپ اپنے آپ سے کہتے ہیں میں کر سکتا ہوں
تو یہی حصہ فوراً ایکٹیو ہو کر آپ کے اندر انرجی جوش اور فوکس پیدا کرتا ہے۔
یعنی صرف ایک جملہ
میں کر سکتا ہوں
آپ کے پورے جسم کو حرکت میں لے آتا ہے۔
جب دماغ کہے نہیں …..آپ فوراً کہیں ہاں
جب دل ڈرے …. آپ فوراً پہلا قدم اٹھائیں۔
بس یہی لمحہ یہی فیصلہ آپ کی قسمت بدل سکتا ہے۔
روزمرہ زندگی آپ ایسے عمل کریں۔۔۔۔۔۔
جب صبح آنکھ کھلے اور بستر سے اٹھنا مشکل لگے؟
تو فوری ایک دو تین گنیں اور فوراً اٹھ جائیں۔
(یعنی دماغ کو سوچنے کا موقع نہ دیں)
جب کوئی کام کرنے لگیں اور وہ مشکل اور ناممکن لگے؟
تو فوراً بغیر سوچے سمجھے اسے شروع کریں۔
اگر کسی کام میں ڈر محسوس ہو؟
ایک لمحہ رکیں گہری سانس لیں خود سے کہیں یہ میرا وقت ہے اور ہمت کے ساتھ اگلا قدم بڑھائیں۔
جدید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 90% لوگ کامیابی کے بالکل قریب پہنچ کر ہار مان لیتے ہیں۔
اور وہی 10% جو آخری لمحے میں بھی ہمت نہیں ہارتے۔
دنیا انہی کو “کامیاب” کہتے ہیں۔
آپ کا آخری فارمولا…… پاور آف ایکشن
زندگی کے ہر چیلنج میں ایک لمحہ ایسا ضرور آتا ہے
جہاں یا تو آپ رک جاتے ہیں یا پھر آپ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
وہ لمحہ… صرف تین سیکنڈ کا ہوتا ہے۔ مگر انہی تین سیکنڈ میں آپ اپنی زندگی بدل سکتے ہیں۔
جب بھی آپ کی زندگی میں کوئی بڑا چیلنج آئے؟
دل میں فوراً فیصلہ کریں میں نہیں رکوں گا
پھر ایک دو تین گنیں
اور حرکت میں آجائیں۔
ہر دن صرف ایک فیصلہ فوراً عمل میں بدلیں
آپ دیکھیں گے کائنات آپ کے ساتھ مل کر راستے خود بنانے لگے گی۔
ہمیشہ یاد رکھیں
کامیابی کے راستے پر کبھی سہولت نہیں ہوتی
صرف حوصلہ، جذبہ اور یقین ہوتا ہے۔
محفوظ راستے عام لوگوں کو جنم دیتے ہیں
لیکن مشکل راستے… عظیم انسان پیدا کرتے ہیں۔
آج کے سوالات
انسانی دماغ کتنے وقت (ملی سیکنڈ) میں فیصلہ کر لیتا ہے اور یہی لمحہ کامیاب اور ناکام انسان میں کیا فرق پیدا کرتا ہے؟
جب دماغ “نہیں” کہے تو کامیاب انسان کو کیا کرنا چاہیے؟
کامیابی کے راستے پر کیا نہیں ہوتا …. اور عظیم انسان ہمیشہ کس راستے پر بنتے ہیں؟



1- aik second k 1/4 hisy main damagh faisla krr laita hai
2- jab damagh no kahy aik kamyab insan ko foran han khh krr qadam ytha lena chahiye
3- kamyabi k rasty k liye sirf jazba , hosla aur yaqeen gona chahiye
دماغ محض 0.25 ملی سیکنڈ میں فیصلہ کر لیتا ہے، اور یہی لمحہ کسی بھی فیصلے کو پختگی اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
ہاں“ میں کر سکھتا ہوں۔”
کامیابی کے راستے پر آسانیاں نہیں ہوتیں۔
عظیم انسان مشکلات، صبر اور مسلسل جدوجہد کے راستے پر بنتے ہیں۔
1:انسانی دماغ 0.25 سیکنڈ میں فیصلہ کرتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہے کامیاب انسان کی پوری زندگی بدل دیتا ہے لیکن ناکام انسان وہیں کھڑا رہتا ہے
2:جب دماغ نہیں کہے تو کامیاب انسان کو فوری ہاں کہنا چاہیے اور ایکشن لینا چاہیے کام کرنے کا
3:کامیابی کے راستے پر سہولتیں نہیں ہوتی مشکل راستے عظیم اور کامیاب انسان پیدا کرتے ہیں
ایک سیکند کے 0.25 حصے میں انسانی دماغ فیصلہ کر لیتا ہے اور اس وقت اپنے فیصلے پر پختگی انسان کو کامیاب بناتی ہے اور یہ ہی بنیادی فرق ہے
جب دماغ نہیں کہے تو اس وقت فورا اس کام کو انجام دینا ہی کامیابی ہے
کامیابی کے راستے کٹھن ہوتے ہیں ، دل شکستہ ہوتے ہیں ، اس کے لیے ہمت حوصلہ چاہیے ، اور تب ہی کامیاب انسان وجود پاتا ہے
1۔انسانی دماغ 0۔25 سیکنڈ میں فیصلہ کر لیتا ہے ۔اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جو ژندگی بدل دیتا ہے ۔
2۔جب دماغ کسی فیصلہ سازی میں نہ کرے تو ہمیں فورا ہاں کہنی چاہیے ۔
3۔کامیابی کے راستے آسان کبھی بھی نہیں ہوتے۔آسرے کمزور تلاش کرتے ہیں
اور نہ ہی کامیابیوں کے کوئ شارٹ کٹ ہوتے ہیں ۔ہمیشہمشکل امتحانوں سے
گزر کر کوئ کامیاب ہو سکتا ہے
1-insani mind .25 second m decision leta h
2- hm ko forn 123 krke Kam start krdna chahye
3- kamyab log mushkil Rasta apnate hn
O.25 سیکنڈ یعنی ایک سیكنڈ کے چوتھائی حصّے میں،،
جواب نمبر ٢ )۔۔ہاں میں کر سکتی ہوں تاکہ پری فنٹل کارٹکس ایکٹو ہو۔۔
جواب نمبر 3) ۔۔کامیابی کے رستوں پر سہولت نہیں ہوتی عظیم انسان مشکل رستوں پر چل کر بنتے ہیں
سوال نمبر ایک انسانی دماغ کتنے ملی سیکنڈ میں فیصلہ کرتی ہے
جواب 25 ملی سیکنڈ
سوال نمبر دو فورا کر گزرنا چاہیے تاکہ دماغ کو سوچنے کا موقع نہ ملے
سوال نمبر تین کامیابی کے راستے پر کیا نہیں ہوتا
جواب اسانیاں سہولت نہیں ہوتی اور عظیم انسان ہمیشہ مشکل راستے بنتے ہیں
1)insani Dimagh sirf 1 second me faisla karta hai, aur yahi 1 lamha hota hai aur yahi 1 faisla hota jo kamiyab aur nakam insan me imtiyaz karta hai….
2)jab dimagh nahi kahe to kamiyab insan ko fauran line of action lena chahiye..
3)kamiyabi ke raste per kabhi sahulat nahi hoti aap ko agar kamiyab hona hai to hamesha pal bhar yani ujlat me faisla karna hoga….aur azeem insan mushqil raston per bante hai…..
Bohat hi great tehrir hai mai bohat inspire hua isse…..