عام انسان اور ٹیلی پیتھی ماسٹر میں اصل فرق

عام انسان اور ٹیلی پیتھی ماسٹر میں اصل فرق
0 0 votes
Article Rating

عام انسان اور ٹیلی پیتھی ماسٹر

میں اصل فرق

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک عام انسان اور ٹیلی پیتھی کے ماہر کے درمیان اصل فرق کیا ہے؟
بظاہر دونوں ایک جیسے نظر آتے ہیں لیکن ان کے اندرونی نظام اور ذہنی فریکوئنسی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
ایک انسان معمولی سی مشکل سے ہمت ہار دیتا ہے جبکہ دوسرا انسان انہی مشکلات کو اپنی کامیابی کی سیڑھی بنا لیتا ہے۔
ایک شخص زندگی بھر حالات کا شکوہ کرتا رہتا ہے جبکہ دوسرا انسان انہی حالات کو بدل کر اپنی تقدیر لکھ دیتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
کیا یہ صرف قسمت کا فرق ہے؟
کیا یہ صرف حالات کا کھیل ہے؟
نہیں!
حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
میں نے اپنی زندگی کے تجربے میں بارہا دیکھا ہے کہ جب زندگی کے طوفان آتے ہیں تو کچھ لوگ واقعی تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ انہی لہروں پر سوار ہو کر اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔
اصل فرق نہ قسمت میں ہوتا ہے اور نہ ہی حالات میں۔
اصل فرق انسان کے ذہن، اس کی سوچ اور اس کی ذہنی تربیت میں ہوتا ہے۔
سائنس بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انسانی دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورونز (Neurons) ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ برقی سگنلز کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔ یہی نیورونز ہماری سوچ، فیصلوں اور ردِعمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔
جو انسان اپنے ذہن کی تربیت کر لیتا ہے وہ ان نیورونز کے استعمال کو بہتر بنا لیتا ہےعام انسان اور ٹیلی پیتھی ماسٹر میں اصل فرق
یاد رکھیں!
کامیابی کا اصل میدان باہر کی دنیا نہیں بلکہ آپ کے کانوں کے درمیان موجود وہ حیرت انگیز نظام ہے جسے انسانی ذہن کہا جاتا ہے۔
جو انسان اپنے ذہن کا مالک بن جاتا ہے وہ زندگی میں آگے بڑھ جاتا ہے،
اور جو اپنے ذہن کا غلام بن جاتا ہے وہ عام زندگی گزارنے پر مجبور رہتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عام انسان اور ٹیلی پیتھی ماسٹر کے درمیان اصل فرق پیدا ہوتا ہے۔

عام انسان: خیالات کا قیدی

میرے عزیزو!
زیادہ تر لوگ اپنی ذہنی طاقت سے واقف ہی نہیں ہوتے۔
ان کا ذہن اکثر بکھرا ہوا اور بے سمت ہوتا ہے۔
جب کوئی مشکل سامنے آتی ہے تو عام انسان کے دماغ میں امیگڈالا (Amygdala) نامی حصہ فوراً خوف اور خطرے کا سگنل جاری کر دیتا ہے۔
اس کے نتیجے میں جسم میں اسٹریس ہارمون (Cortisol) بڑھ جاتا ہے۔
اسی وجہ سے انسان گھبراہٹ، پریشانی اور بے بسی محسوس کرنے لگتا ہے۔
اس حالت میں دماغ کا وہ حصہ جو واضح سوچ اور فیصلوں کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے یعنی پری فرنٹل کارٹیکس (Prefrontal Cortex) کمزور ہو جاتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عام انسان مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے اس کے خوف میں الجھ جاتا ہے۔
آہستہ آہستہ وہ اپنی ہی سوچوں کا قیدی بن جاتا ہے۔
اسی لیے عام انسان کی زندگی اکثر ردِ عمل کی زندگی بن جاتی ہے۔
وہ حالات کے مطابق چلتا ہے، حالات کو اپنے مطابق نہیں بناتا۔

ٹیلی پیتھی ماسٹر: شعور کا بادشاہ

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ ایک ٹیلی پیتھی ماسٹر کی سوچ کس طرح مختلف ہوتی ہے۔
ٹیلی پیتھی ماسٹر کوئی جادوگر نہیں ہوتا بلکہ وہ شخص ہوتا ہے جس نے اپنے ذہن کو سمجھ کر اسے قابو میں رکھنے کی تربیت حاصل کر لی ہو۔
اس کا ذہن بکھرا ہوا نہیں ہوتا بلکہ مرکوز، متوازن اور پرسکون ہوتا ہے۔
وہ جذبات کے بجائے شعور کے ساتھ فیصلے کرتا ہے۔
سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان گہری توجہ اور مراقبے جیسی ذہنی مشقیں کرتا ہے تو دماغ میں الفا ویوز (Alpha Brain Waves) پیدا ہونے لگتی ہیں۔
یہ وہ حالت ہوتی ہے جہاں:
دماغ زیادہ پرسکون ہوتا ہے
سوچ زیادہ واضح ہو جاتی ہے
اور تخلیقی صلاحیت بڑھ جاتی ہے
ٹیلی پیتھی کی مشقوں کے ذریعے انسان اپنے ذہن کو اسی پرسکون حالت میں لے آتا ہے۔
اسی حالت میں انسان کو اکثر وہ حل نظر آ جاتے ہیں جو عام حالت میں نظر نہیں آتے۔
مشکل حالات میں اصل فرق ظاہر ہوتا ہے
زندگی میں مشکل وقت ہر انسان پر آتا ہے۔
لیکن عام انسان اور ٹیلی پیتھی ماسٹر کے درمیان اصل فرق اس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مشکل کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔
عام انسان گھبرا جاتا ہے۔
اس کا ذہن دباؤ میں آ جاتا ہے اور وہ واضح سوچ نہیں پاتا۔
جبکہ ایک تربیت یافتہ ذہن رکھنے والا شخص پہلے اپنے اعصاب کو پرسکون کرتا ہے۔
سائنس کے مطابق جب انسان گہری سانس لیتا ہے تو اس سے پیراسیمپیتھٹک نروس سسٹم (Parasympathetic Nervous System) فعال ہو جاتا ہے۔
یہ نظام جسم کو پرسکون کرتا ہے اور دماغ کو دوبارہ واضح سوچنے کے قابل بنا دیتا ہے۔
اسی لیے تربیت یافتہ ذہن رکھنے والا شخص اکثر ایسے راستے دیکھ لیتا ہے جو دوسروں کو نظر نہیں آتے۔

ٹیلی پیتھی مشقوں کی اہمیت
میرے عزیز طالب علمو!
جس طرح جسم کو مضبوط رکھنے کے لیے ورزش ضروری ہے اسی طرح ذہن کو طاقتور بنانے کے لیے ذہنی مشقیں ضروری ہوتی ہیں۔
نیورو سائنس کی ایک اہم حقیقت نیورو پلاسٹیسٹی (Neuroplasticity) ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دماغ اپنی ساخت اور طاقت کو مسلسل تبدیل کر سکتا ہے۔
یعنی جتنی زیادہ ذہنی مشقیں کی جائیں گی اتنے ہی مضبوط دماغی رابطے (Neural Connections) بنتے جائیں گے۔
ٹیلی پیتھی کی باقاعدہ مشقیں انسان کے دماغ اور اعصابی نظام کو مضبوط بناتی ہیں۔
روزانہ کی مشق سے:
ذہنی استحکام پیدا ہوتا ہے
ارتکاز کی طاقت بڑھتی ہے
فیصلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے
شعور میں وسعت پیدا ہوتی ہے
آہستہ آہستہ انسان اپنے اندر ایسی ذہنی طاقت محسوس کرنے لگتا ہے جس کا اسے پہلے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
زندگی بدلنے کا اصل فارمولا
میرے عزیز طالب علمو!
زندگی بدلنے کا راز باہر نہیں بلکہ اندر ہوتا ہے۔
ہم اکثر دنیا کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اصل تبدیلی ہمیشہ انسان کے اپنے ذہن اور اپنی سوچ سے شروع ہوتی ہے۔
نفسیات میں ایک اصول ہے جسے

Cognitive Psychology

کہا جاتا ہے۔
اس کے مطابق:
انسان کی سوچ   اس کے فیصلوں کو متاثر کرتی ہے
فیصلے   اس کے عمل کو تبدیل کرتے ہیں
اور عمل اس کی زندگی کا راستہ بدل دیتے ہیں۔
یاد رکھیں:
بدلی ہوئی سوچ
بدلے ہوئے فیصلے پیدا کرتی ہے
اور بدلے ہوئے فیصلے
انسان کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
قرآن مجید کی روشنی میں
اسلام بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ انسان کی حالت کی تبدیلی اس کے اپنے اندر سے شروع ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے۔” سورۃ الرعد
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی تبدیلی ہمیشہ انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔
عام انسان اور ٹیلی پیتھی ماسٹر میں 8 واضح فرق

۔۔عام انسان کی سوچ بکھری ہوتی ہے جبکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر کی سوچ مرکوز ہوتی ہے۔
 ۔۔عام انسان کی توجہ بار بار بدلتی رہتی ہے جبکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر اپنی توجہ کو ایک نقطے پر برقرار رکھ سکتا ہے۔
 ۔۔عام انسان جذبات کے بہاؤ میں بہہ جاتا ہے جبکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر اپنے جذبات پر قابو رکھتا ہے۔
 ۔۔عام انسان مشکل میں گھبرا جاتا ہے جبکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر پرسکون رہ کر حل تلاش کرتا ہے۔
 ۔۔عام انسان ردِ عمل کے طور پر فیصلے کرتا ہے جبکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر شعور کے ساتھ فیصلے کرتا ہے۔
 ۔۔عام انسان چند منٹ سے زیادہ توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا جبکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر گہرا ارتکاز پیدا کر لیتا ہے۔
 ۔۔عام انسان حالات کے مطابق زندگی گزارتا ہے جبکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر اپنے ذہن کی طاقت کو مثبت انداز میں استعمال کرتا ہے۔
 ۔۔عام انسان مشکل حالات میں پریشان ہو جاتا ہے جبکہ ٹیلی پیتھی ماسٹر پرسکون ذہن کے ساتھ صورتحال کو سمجھ کر بہتر فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ٹیلی پیتھی کے مستقبل کے ماسٹرز
آپ کا ذہن اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔
اگر آپ اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنا سیکھ لیں تو یہ آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔
آپ کا ذہن یا تو آپ کا بہترین خادم بن سکتا ہے یا پھر آپ پر حاوی ہو سکتا ہے۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اگر آپ واقعی اپنی ذہنی طاقت، ارتکاز اور شعور کو بیدار کرنا چاہتے ہیں تو ٹیلی پیتھی کی باقاعدہ تربیت اس سفر میں آپ کی رہنمائی کر سکتی ہے۔
مزید معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ کے دیگر آرٹیکل پڑھیں:
telepathypower.com
یہ اردو زبان میں ٹیلی پیتھی پر بہترین ویب سائٹ ہے جہاں ذہنی طاقت، ٹیلی پیتھی کی مشقوں اور ذہنی تربیت کے بارے میں مفید معلومات موجود ہیں۔
غلام مصطفیٰ مہر
چیف ایگزیکٹو
ورلڈ انسٹی ٹیوٹ فار جینئس مائنڈ

0 0 votes
Article Rating

You may also like...

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
0 Comments
Most Voted
Newest Oldest
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x