پائنیل گلینڈ سپر پاور کی چابی

دماغ کی گھڑی تیسری آنکھ پائنیل گلینڈ سپر پاور کی چابی ہے
پائنیل گلینڈ ایک نہایت چھوٹی مگر انتہائی طاقتور غدود ہے جو ہمارے دماغ کے بالکل مرکز میں ہے۔
پائنیل گلینڈ کا سائز چاول کے دانے جتنا ہوتا ہے اور اس کی شکل صنوبر کے پھل جیسا ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کہا جاتا ہے۔
یہ غدود دماغ کے دو حصوں کے درمیان تھیلمس کے اوپر موجود ہوتاہے۔
تھیلمس دماغ کے بیچ میں ایک چھوٹی سی جگہ ہے
جو دماغ کے دونوں حصوں کے درمیان پل کا کام کرتی ہے۔
یہ دماغ کے مختلف حصوں کے بیچ معلومات کو آگے پیچھے بھیجتی ہے جیسے ایک چھوٹا سا مرکز یا پوسٹ آفس۔
تھیلمس اور پائنیل گلینڈ کا کنکشش
پائنیل گلینڈ اسی تھیلمس کے اوپر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پائنیل گلینڈ کوئی سگنل یا ہارمون (جیسے میلٹونن) بناتاہے تو وہ دماغ کے دیگر حصوں تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے اور جسم میں نیند فوکس اور روحانی طاقت جیسے اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
اپنی جگہ اور کردار کی وجہ سے سائنسدان اسے دماغ کی گھڑی کہتے ہیں
کیونکہ یہی غدود ہمارے جسم کو دن اور رات کا فرق سمجھاتی ہے۔
یہ تصور بہت حیران کن ہے کہ اتنی چھوٹی سی غدود پورے جسم کے نظام کو کنٹرول کر رہی ہوتی ہے۔
پائنیل گلینڈ سائنسی حقیقت
پائنیل گلینڈ دماغ کا پوشیدہ راز اور سپر پاور کی چابی ہے۔پائنیل گلینڈ روشنی اور اندھیرے کے مطابق کام کرتی ہے
جب ہماری آنکھیں روشنی دیکھتی ہیں تو یہ پیغام دماغ تک پہنچتا ہے اور دماغ پائنیل گلینڈ کو بتاتا ہے کہ دن ہو چکا ہے۔
اس حالت میں پائنیل گلینڈ کم سرگرم رہتی ہے۔
جیسے ہی اندھیرا ہوتا ہے اور روشنی ختم ہو جاتی ہے پائنیل گلینڈ ایکٹیو ہو جاتی ہے اور میلٹونن نامی ہارمون بنانا شروع کر دیتی ہے۔
میلٹونن کو نیند کا ہارمون کہا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ صرف نیند نہیں بلکہ پورے جسم کے توازن کا ذمہ دار ہے۔
جسم کی اندرونی گھڑی
Circadian Rhythm
یہ پورا نظام سرکیڈین رتھم کہلاتا ہے
جو ہمارے جسم کی 24 گھنٹے کی اندرونی گھڑی ہے۔
یہی گھڑی فیصلہ کرتی ہے کہ ہمیں کب نیند آئے گی کب جاگنا ہے کب بھوک لگے گی اور ہمارا موڈ کیسا رہے گا۔
اگر پائنیل گلینڈ کمزور ہو جائے تو نیند خراب ہو جاتی ہے مستقل تھکاوٹ رہتی ہے
ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے اور انسان اندر سے بے چین رہنے لگتا ہے۔
پائنیل گلینڈ کا سب سے بڑا راز ہم سے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت چھپایا جا رہا ہے
گمراہ کن ریسرچ اور نظامِ تعلیم
ہمارے تعلیمی نظام میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پائنیل گلینڈ کی اصل طاقت یعنی ٹیلی پیتھی کو چھپایا جا رہا ہے۔
پائنیل گلینڈ کو صرف نیند سے متعلق ایک غیر فعال غدود بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
ان کا مقصد یہ ہے کہ عام انسان ٹیلی پیتھی نہ سیکھ سکے اور ساری زندگی صرف دنیاوی دوڑ میں ہی الجھا رہے
کیونکہ وہ جانتے ہیں اگر عام انسان پائنل گلینڈ کو ایکٹیو کر کے ٹیلی پیتھی سیکھ گیا تو وہ ان کے جھوٹ، فریب اور غلامی کے نظام کو پہچان لے گا۔یہیں سے سوال پیدا ہوتا ہے
اگر یہی غدود طاقتور ہو جائے تو کیا کچھ ممکن ہے؟
ہماری مصروفیات کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ہم رات گئے تک جاگنے پر مجبور ہو جائیں۔
رات گئے تک جاگنا فطری نیند اور پائنل گلینڈ کی روحانی فریکوئنسی کو بری طرح متاثر کرتا ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مصروفیات ہماری مجبوری ہیں حالانکہ حقیقت میں یہ ایک عالمی سازش ہے
تاکہ ہم تھکے رہیں الجھے رہیں اور روحانی اور ذہنی طاقتوں سے کٹ جائیں اورپائنیل گلینڈ دماغ کا پوشیدہ راز اور سپر پاور کی چابی ہے اسے ایکٹیو نہ کر سکیں۔
دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہوتا آیا ہے کہ جو طاقت چند لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے، وہ نہیں چاہتے کہ وہ طاقت عام لوگوں تک پہنچے۔
آج ٹیلی پیتھی یعنی ذہن سے ذہن کا رابطہ انسانی طاقتوں میں سب سے خفیہ سب سے اعلیٰ اور سب سے خطرناک طاقت سمجھی جا رہی ہے ۔
لیکن صرف ان لوگوں کے لیے جو دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
پائنیل گلینڈ اور تیسری آنکھ

روحانی ماہرین پائنیل گلینڈ کو تیسری آنکھ کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ انسان کی روحانی بیداری اور سپر مائنڈ پاورز کا مرکز ہے۔
مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ نے اسے روح کا مرکز قرار دیا مشرقی ماہرین فن نے اسے خدا اور کائنات سے رابطے کا دروازہ کہا جاتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جہاں سے انسان صرف سوچتا نہیں بلکہ حقیقت کو محسوس کرنے لگتا ہے۔
پائنیل گلینڈ ایکٹیو ہونے کے بعد انسان کی سوچ عام انسانوں سے مختلف ہو جاتی ہے۔
انسان صرف خیالات پیدا نہیں کرتا بلکہ خیالات بھیجنے لگتا ہے
مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کے ذریعے وہ کسی ایسے انسان سے بھی ذہنی رابطہ قائم کر سکتا ہے
جسے اس نے کبھی دیکھا ہو
تصویر میں دیکھا ہو
یا صرف آواز سنی ہو
فاصلہ ختم ہو جاتا ہے
ذہن راستہ بنا لیتا ہے
پرندوں کی حیران کن مثال
گیز اور سٹارلنگز
آپ نے آسمان میں ہزاروں پرندوں کو ایک ساتھ اڑتے دیکھا ہو گا
نہ کوئی لیڈر
نہ کوئی آواز
مگر پورا جھنڈ ایک دم مڑتا ہے ایک ساتھ سمت بدلتا ہے
یہ ایسے ہوتا ہے جیسے سب کے دماغ آپس میں جڑے ہوں
جیسے ایک خاموش ذہنی نیٹ ورک کام کر رہا ہو
ماہرین اسے قدرتی ٹیلی پیتھی اورپائنیل گلینڈ دماغ کا پوشیدہ راز اور سپر پاور کی چابی کہتےہیں
فرق صرف یہ ہے
پرندے فطری طور پر جڑے ہوتے ہیں
انسان کو خود کو بیدار ہونا پڑتا ہے
جب پائنیل گلینڈ ایکٹیو ہوتا ہے تو انسان میں اندرونی آواز تیز ہو جاتی ہے
فیصلے بہتر ہو جاتے ہیں
آنے والے حالات کا اندازہ ہونے لگتا ہے
کچھ لوگ خوابوں میں ہوش کے ساتھ رہنے لگتے ہیں
کچھ کو گہری روحانی خوشی اور سکون ملتا ہے
اور کچھ کو لوگوں کے جذبات اور تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان خود کو صرف جسم نہیں بلکہ شعور سمجھنے لگتا ہے
DMT روح کا مالیکیول
کچھ محققین کے مطابق پائنیل گلینڈ نامی قدرتی کیمیکل ڈی ایم ٹی یعنی ڈائمی تھیل ٹرپٹامین سے جڑاہواہے
یہ ایک قدرتی کیمیکل ہے جو پائنیل گلینڈ میں پیدا ہوتا ہے اور روحانی تجربات، گہرے مراقبے اور بعض اوقات پیدائش یا موت کے قریب کے تجربات میں خارج ہوتا ہے
یہی کیمیکل گہرے مراقبے پیدائش اور موت کے قریب تجربات میں متحرک ہوتا ہے
اسی لیے ایسے تجربات میں وقت رک جاتا ہے
خوف ختم ہو جاتا ہے
اور انسان خود کو کسی اور حقیقت کے قریب محسوس کرتا ہے
جدید سائنس اورانر اینٹینا کہتی ہے۔
جدید نیورو سائنس یہ مانتی ہے کہ جب دماغ پرسکون ہو
خیالات کم ہوں
اور فوکس گہرا ہو
تو انسان کی صلاحیتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں
اسی لیے پائنیل گلینڈ کو
Inner Antenna
کہا جاتا ہے
یہ وہ اینٹینا ہے جو جتنا صاف ہو گا
اتنا ہی واضح سگنل پکڑے گا
اگر انسان کے اندر واقعی ایسی طاقتیں موجود ہیں
اور اگر انہیں ایکٹیو کرنے کی کنجی پائنیل گلینڈ ہے
تو کیا انہیں سویا رہنے دینا دانشمندی ہے؟
ہر انسان کے اندر ایک سویا ہوا خزانہ ہے
فرق صرف اتنا ہے
کچھ لوگ اسے جاننے کی ہمت کرتے ہیں
اور کچھ پوری زندگی لاعلم رہتے ہیں
فیصلہ آپ کا ہے
کیا اسے سویا رہنے دینا ہے یا ایکٹیو کر کے اس کی پاورز کا استعمال کرنا ہے۔


Sorry for late reply. Jawabat dene se phle mai ache se samhjna chahta tha is topic ko. sawalat k jawabat likh raha hn:
1*
اندھیرا ہوتے ہی ہمارا دماغ میلا ٹونن جاری کرتا ہے۔
جو سارے دن کی تھکاوٹ کو ریپر کرتا ہے۔
جس سے دماغ کے خلیات دوبارہ بنتے ہیں اور پورا جسم ریفریش ہو جاتا ہے۔
اور فوکس بہتر ہو جا تا ہے۔
2*
اس مثال سے پتا چلتا ہے کہ وہ تمام پرندے دوران پرواز ہی مائنڈ مائنڈ لنک کر کے ایک دوسرے کو ہدایا دے رہے ہوتے ہیں کہ کس طرف جانا ہے یا کس وقت کس طرف مڑنا ہے۔
اور یہ چیز ثابت کرتی ہے کہ ان میں پائنیل گلینڈ قدرتی طور پر ایکٹو ہے جس سے وہ ایک دوسرے سے دوران پرواز رابطہ کر رہے ہوتے ہیں۔
3*
مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کے ذریعے وہ کسی ایسے انسان سے بھی ذہنی رابطہ قائم کر سکتا ہے
جسے اس نے کبھی دیکھا ہو
تصویر میں دیکھا ہو
یا صرف آواز سنی ہو
فاصلہ ختم ہو جا
تا ہے
جیسے ہی روشنی ختم ہوتی ہے اور اندھیرا شروع ہوتا ہے تو پینل گلانڈ ایکٹو ہوتا ہے اور میلیٹونن بنانے لگتا ہے۔۔
جیسے کہ ہم جانتے ہیں concious conciousness کے زریعے ہم سب جڑے ہوئے ہیں اس کو انرجی کے زریعے بھی سمجھا جا سکتا ہے جو کہ سب میں ایک جیسی ہے یہ انرجی فریکونسی بناتی ہے جس کے زریعے ہم کسی بھی انسان سے مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کر سکتے ہیں اور دماغی رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔۔
پائنل گلانڈ کے ایکٹو ہونے سے چھٹی حس تیز ہو جاتی ہے جسے ہم intuition بھی کہتے ہیں اس کے زریعے ہمارے دماغ میں سوئی ہوئی سپر پاور ایکٹو ہوتی ہے اور ہم کسی سے بھی مائنڈ ٹو مائنڈ لنک کر سکتے ہیں جسے ٹیلی پیتھی کہا جایا ہے۔۔۔
پینل گلینڈ روشنی میں کم سرگرم ہوتا ہے جبکہ جیسے ہی اندھیرا ہوتا ہے یہ گلینڈ ایکٹو ہو جاتا اور ایک میلٹونن نامی ہارمون ریلیز کرتا ہے جو نہ صرف نیند بلکہ پورے جسم۔کے توازن کو برقرار رکھتا ہے
یہ ایک خاموش ذہنی نیٹ ورک ہے جیسے انسان کو خود بیدار کرنا ہوتا ہے جب انسان کا پینل گلینڈ ایکٹو ہوتا ہے تو اندرونی آواز تیز ہو جاتی ہے ،
اس کے ایکٹو ہونے پر انسان بہتر فیصلے کرنے لگتا ہے
خوشی اور سکون محسوس کرنے لگتا ہے
انسان جسم کو نہیں شعور کو سمجھنے لگتا ہے
Zubair bahi Ka
Answers
1.din ki roshni me pineal rat ki nisabt km active hota jb andhera hota h to is k activation bhr jati nind ko pori body k liy naturally tor pe insn k dmgh or jism ko relax krti h jb hmari nind achi hoti h to hm jismani r zhni tor pe bhtr r fresh ferl krty hen jis se pineal ki power mazeed bhr jati h or hmari sochny smjhny ki salaihyt bhi bhr jati he.
2.tele ya mind to mind link ye hota h k ap samny bethy insan ki soch ko read krlen ya vo ap ki soch ko read krlrn jesa k ye birds naturally ek dosry k mind se connect hoty hrn or ek kafl a bna kr chlty hen jb jhan turn lena h sb ek sath lety hen.
3.insan me poshida super powers active hojti hen esp strong hojati he insan ki khmoshi bolny lgti he.
جواب1: پائنیل گلینڈ کو ہمارے سائنسدان اندرونی گھڑی اور اس پورے سسٹم کو ۔۔۔سرکیڈین رتھم۔۔۔کہتے ہیں ۔
یہ نہ صرف دن رات کا فرق واضح کرتا ہے ۔بالکہ اس سے نکلنے والا ہارمون۔۔۔میلٹونن۔۔۔نیند سے لیکر ہمارے پورے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔اورپائنیل گلینڈ کے ایکٹو کر لینے کے ھم دوسروں کے خیالات ۔احساسات ۔اور رویوں کو نہ صرف محسوس کر سکتے ہیں بلکہ اپنے اچھے پر امید ۔جوشیلے۔اور پاور فل احساسات سے ایک نئ لگن ۔امید ۔اور احساس جگا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔سبحان اللہ
جواب2: پرندوں جانوروں اور مچھلیوں میں اللہ تعالیٰ نے اس پائنیل گلینڈ کو ایکٹو کر کرکے ہی پیدا کیا ہے ۔اس کی ایک مثال ۔۔۔سائبیریا۔۔۔سے سردیوں کے موسم میں ہجرت کرکے آنے والے کونجوں کے جھنڈ کے جھنڈ پیچھے ہی اپنے وطنوں میں انڈے دے کر سفر کا آغاز کرتے ہیں اور اس کے بعد گرم ملکوں کی طرف اڑان بھری ہیں ۔اس میں حیران کن بات یہ ہے۔کہ یہ کونج اپنے ۔۔۔مائینڈ پاور سے ان انڈوں کو اتنے فاصلے سے ۔۔۔سیتی۔۔۔ہے۔ اور سفر بھی کتنا لمبا ہے۔ بغیر ۔۔۔۔گوگل لوکیشن۔۔۔کے واہ اللہ سوہنا۔سبحان اللہ۔
جواب3پائنیل گلینڈ کے ایکٹو ہونے کے بعد انسان میں ٹیلی پیتھی پاور ایکٹو ہو جاتی ہیں ۔جن سے انسان نا ممکن کو ممکن میں بدل سکتا ہے ۔کیونکہ یہ کائنات سے رابطے کا اینٹینا ہے ۔اس لیے اس کے خیالات بدل جاتے ہیں۔خوف مٹ جاتا ہے۔احساسات اور رویوں میں
توازن ۔۔یقین کا پختہ ہونا۔پازیٹوٹی ۔اور سب سے بڑھ کر
اللہ تعالیٰ سے لگاؤ بڑھ جاتا ہے
Painal glant ankhon ki madad sy din or rat Ka mahsos ka k signal daty ha .us signal ki Bina par conscious mind sy unconscious mind ma tabil karta ha. Jahan tak control ki bat ha painal glant link to link dimag sy tamam asaab KO control kiye hoye ha..
2
Parindo ma khudadad shalayt majood ha jab k insan KO fitarat k ain taamam tabdilion Ka majmowa banaya ha jis Bina pr insan KO meditation or mentally exercise Kar k insani dimag tak ponchy waly signals bedar Karny party ha ..
3
Painal glant active honey k bad shaowr ki ankh bedar ho jati ha jisay third eye Kahty ha jis sy dimag Bhot hi zyda active ho jata ha or poshida mazahir ho apni thinking power ma lay ata ha or us par amal Kar K SB Kuch achieve Kar skta ha.
۱۔ رات کے اندھیرے میں پائنل غدود (Pineal Gland) فعال ہو جاتا ہے اور میلٹونن ہارمون کا اخراج شروع ہوتا ہے۔ یہ ہارمون دماغ کو سکون اور آرام کی حالت میں لے آتا ہے، جس سے شعوری ذہن کا لاشعوری ذہن سے گہرا رابطہ قائم ہونے میں مدد ملتی ہے۔
۲۔ پرندوں میں یہ صلاحیت فطری طور پر موجود ہوتی ہے، جو انہیں سمت شناسی اور نیویگیشن میں مدد دیتی ہے ، جبکہ انسانوں کو اسے بیدار کرنے کے لیے مستقل محنت، مراقبہ اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔
۳۔ روحانی قوتیں بیدار ہوتی ہیں، دماغ سکون اور کنٹرول میں رہتا ہے، اور آس پاس کے لوگوں کی اینرجی یا فلنگس محسوس ہوتی ہے ، جو ایک گہرے جذباتی یا روحانی کنکشن کا باعث بنتی ہے۔
جب ماحول پر اندھیرا غالب آتا ہے تو دماغ کے اندر ایک خاموش سی بیداری شروع ہو جاتی ہے۔ پائنل گلینڈ متحرک ہو کر میلاٹونن ہارمون خارج کرتا ہے، جس کے نتیجے میں نیند کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اسی مرحلے پر شعوری ذہن کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے اور لاشعور سے ایک گہرا ربط قائم ہو جاتا ہے۔
پرندوں میں پائنل گلینڈ فطری طور پر پوری قوت کے ساتھ کام کرتا ہے، اسی لیے وہ سمت، وقت اور تبدیلیوں کو بغیر کسی تربیت کے محسوس کر لیتے ہیں۔ جبکہ انسان کو اس صلاحیت تک پہنچنے کے لیے شعوری محنت، خاموشی اور باقاعدہ مشق کی ضرورت پڑتی ہے۔
جب انسان کے اندر روحانی شعور بیدار ہونے لگتا ہے تو وہ حال کے لمحے میں جینا سیکھ لیتا ہے۔ وقت سے پہلے حالات کو بھانپنے کی صلاحیت جنم لیتی ہے، اور فیصلہ کرنے کی قوت پہلے سے زیادہ واضح، متوازن اور درست ہو جاتی ہے۔
1-pinal gland melatonin joke nend ka hormone h uske zarye SE pore jism m tawazun qaim rakhta h isko dimagh ki ghari kaha jata h kunke y hi din or rat ka difference btata h
2-y ek natural network h jiske zarye SE mind to mind TP link bnta h
3-Inner power Kam krne lagti h khusi feel huti feelings samjhne lagte hn decision m asani huti h or super natural bn jate hn
1) pineal gland roshni aur andhere ke mutabiq kam karti.andhere me ye melotinine nami harmones ko release karti hai.aur yahi jism ki wo clock hai jise carcedian rhythm kehte hai,jis ke uper hamare jism ka pura system depend hota hai k kab hame jagna hai aur kab sona hai ect…..
2) parindo ke us jhund ko natural telepathy kehte hai۔jab k insano ko apni telepathy ki power ko active karne ke liye mustaqil mashqo ki zaroorat hoti hai.lekin yahi wo taqat hoti hai jis se insan ghar per bhaithe hi bhaithe hazaro logo ko in parindon ki tarah ek waqt me ek hi raste par chala sakta hai.
3) pineal gland active hone ke baad insan ki soch aam insano se alag ho jati hai,aur is ke baad insan khayalat bhejne lagta hai,mind to mind link ke zariye insan kisi aise insaan se bhi rabta kar sakta hai jise us ne kabhi dekha,ya us ki Aawaz suni ho ya phir us ko tasweer me dekha ho…etc…
جب اندھیرا ہوتا ہے تو پائنل گلینڈ کام کرنے لگتا ہے اور نیند آنے لگتی ہے میلاٹونن ھارمون کا اخراج شروع ہو جاتا ہے اور یوں شعور کا رابطہ لاشعوری دماغ سے ہو جاتا ہے
2 پرندوں میں پائنل گلینڈ قدرتی طور پر استعمال کرنے کی بھرپور صلاحیت ہوتی ہے اور انسان کو کوشش کرنی پڑتی ہے
3 انسان کی روحانی بیداری شروع ہو جاتی ہے وہ لمحہ موجود میں رہنے لگتا ہے قبل از وقت واقعات کا اندازہ ہونے لگتا ہے اور بہترین فیصلہ کرنے کی صلاحیت بیدار ہو جاتی ہے
جیسے ہی روشنی ہوتی ہے پائنل گلینڈ کی ایکٹویٹی سست ہو جاتی ہے اور جیسے ہی اندھیرا ہوتا 1 ہے پائنل گلینڈ ایکٹو ہو جاتا ہے اور میلاٹونن ہارمون بنانا شروع کر دیتا ہے کے نیند کا ہارمون کہتے ہیں دراصل ہی پورے جسم کے توازن کو برقرار رکھتا ہے
2:پرندے فطری طور ر جڑے ہوتے اور انسان کو خود کو بیدار کرنا پڑتا ہے پائنل گلینڈ کو ایکٹو کرکے اسکے بعد انسان بھی انسان سے اسی طرح بغیر کسی واسطے کے ذہنی رابطہ کر سکتا ہے
3:اندرونی آواز تیز ہو جاتی ہے
حالات کا پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے
خوابوں میں میں ہوش میں رہنے لگتا ہے
فیصلے بہتر کرنے لگتا ہے
لوگوں کی دکھ اور تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے
پائینیل گلینڈ دن اور رات میں مختلف کیمیکلز خارج کر کے انسان کے دماغ کو رات دن کا فرق سمجھاتا اور محسوس کرواتا ہے۔ اس طرح ضرورت کے وقت ذہن کو فوکس کرنے اور سوتے وقت نیند لانے کا کام بھی کرتا ہے۔
پرندوں کے علاوہ بڑے چوپایوں میں بھی مائینڈ تو مائینڈ رابطے کی طاقت ہوتی ہے۔ افریقہ کے جنگلات میں جنگلی بھینسوں اور دوسرے جانوروں کے بڑے بڑے گروہ شیر کو دیکھ کر ایک ساتھ دوڑتے ہیں مگر ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے نہیں ٹکراتے۔ یہی اُنکا قدرتی ٹیلی پیتھی یا مائینر ٹو مائینڈ لنک ہے۔
پائینئل گلینڈ کے ایکٹو ہونے کے بعد انسان اُس روحانی حالت کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے جو کہ اُسے دوسرے انسانوں اور کائنات سے کنیکٹ کر دیتی ہے۔ جس کے بعد دوسروں کے خیالات پڑھنا اور اُنکے دماغ کو اپنے خیالات بھیجنا بلکل عال سی بات ہو جاتی ہے۔