ٹیلی پیتھی اور ٹیلی کینیسس ایک ساتھ کیوں نہیں چلتے؟
ٹیلی پیتھی اور ٹیلی کینیسس
ایک ساتھ کیوں نہیں چلتے؟
آن لائن ٹیلی پیتھی سیکھنے والے سٹوڈینٹس آپ کے ٹیم ممبر نے جب ٹیلی کینیسس کے تجربات شروع کیے تو اس حوالے سے پیش آنے والی صورتحال کے بارے پوچھا تھا استفادہ کے لیے سوال اور جوابی رپلائی شئیر کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔
سوال
سر پہلے بھی میں جب ٹیلی کینیسس کے تجربے کیے تو بے چینی اور مایوسی بڑ گئی تھی تو جب سے دوسرا لیول شروع ہوا میں نےآپ کی ہدایت پر ٹیلی کینیسس کی پریکٹس بند کردی۔
اب تیسرے لیول پر ابھی تین دن ہوئے ہیں پھر سے ٹیلی کینیسس کی پریکٹس شروع کی تو وہی حال ہو گیا ہے
اس بارے تفصیل سے بتائیں میں پریشان ہوں۔
جواب
ٹیلی پیتھی اور ٹیلی کینیسس ایک ساتھ کیوں نہیں چلتے …..اس کی سائنسی وجہ یہ ہے
ٹیلی پیتھی اور ٹیلی کینیسس ایک ساتھ کیوں نہیں چلتے؟
دماغ کی فریکوئنسی اور ذہنی کیفیت
ٹیلی کینیسس کی پریکٹس کے بعد جو بےچینی اور مایوسی آپ محسوس کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیلی پیتھی کی مشقوں کے دوران آپ کے دماغ کی پاور اور فریکوئنسیز ایک خاص سمت جا رہی ہوتی ہے
اس حالت میں ذہن پرسکون ہوتا ہے اور خیالات آسانی سے کسی دوسرے فرد تک بھیج سکتےہیں اور ان کے خیالات پڑھ سکتے ہیں۔
لیکن
جب آپ ٹیلی کینیسس کے تجربات کرتے ہیں
تو اس فریکوئنسی میں جسمانی اشیاء پر فزیکل اثر ڈالنا ہوتا ہے
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب دماغ ایک ہی وقت میں
دو مختلف فریکوئنسیوں کے درمیان بار بار آگے پیچھے ہوتا ہے
تو ذہنی پاور تقسیم ہونے لگتی ہے۔
جس سے بےچینی الجھن اور مایوسی جیسے احساسات بڑھنے لگتے ہیں۔
مزید آسانی کے لیے اس طرح سمجھیں کہ
آپ ریڈیو پر ایک ہی وقت میں دو مختلف اسٹیشن سننے کی کوشش کریں۔
ایک اسٹیشن آہستہ چل رہا ہو اور دوسرا تیز
فریکوئنسی کی ٹکراؤ کی وجہ سے بےچینی
ایک طرف دماغ ٹیلی پیتھی کے لیے پرسکون گہری توجہ والی فریکوئنسی چاہتا ہے
اور دوسری طرف ٹیلی کینیسس کے لیے تیز اور محنت والی فریکوئنسی چاہتا ہے
دونوں سگنلز آپس میں ٹکرا کر دماغ میں شور بے ترتیبی اور تھکن پیدا کر دیتے ہیں۔اسی لیے مطلوبہ نتائج بھی نہیں ملتے۔
لہٰذا میں نے سٹوڈنٹس کے اسی طرح کے ناکام تجربات دیکھنے کے بعد
ٹیلی کینیسس کے تجربات ختم کروا دیے تھے
کیونکہ ان کا براہ راست ٹیلی پیتھی سے تعلق نہیں ہے۔
آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ اپنی توجہ مکمل طور پر صرف ٹیلی پیتھی تجربات پر مرکوز رکھیں
اور ٹیلی کینیسس کے تجربات کو مکمل طور پر بند کردیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کےدماغ کی تربیت فی الحال ٹیلی پیتھی کی مخصوص فریکوئنسی پر ہو رہی ے
اور اس کی صلاحیت بڑھ رہی ہے
جب تک یہ تربیت مکمل نہ ہو جائے دوسری قسم کی ذہنی سرگرمی
جیسے ٹیلی کینیس آپ کے ٹیلی پیتھی سیکھنے میں رکاوٹ بنے گی۔
یہ بے چینی دراصل اس بات کی ایک مثبت نشانی ہے کہ
آپ کا دماغ ٹیلی پیتھی کی فریکوئنسیوں پر مؤثر طریقے سے کام کرنے لگا ہے۔
جب کوئی ذہن کسی مخصوص فریکوئنسی پر کام کر رہا ہو تو کوشش کرنی چاہییے کہ
اسے دوسری مختلف فریکوئنسی کی طرف نہ جانے دیا جائے۔
آپ اپنی پوری توجہ اور انرجی صرف ٹیلی پیتھی کے تجربات کرنے پر لگائیں۔
جب تک آپ کی ٹیلی پیتھی کی صلاحیت مکمل طور پر ایکٹیو نہ ہو جائے
کسی دوسری قسم کی ذہنی مشق خاص طور پر ٹیلی کینیسس سے مکمل پرہیز کریں۔
اس طرح آپ اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے یعنی ٹیلی پیتھی ماسٹر بن جائیں گے۔
آپ کی موجودہ کارکردگی اس بات کی دلیل ہے کہ
آپ کا دماغ اس راستے پر صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
مسلسل اور یکساں فوکس کے ساتھ
آپ اپنی اس صلاحیت کو مزید نکھارتے اور جگاتے جائیں۔
سٹوڈینٹس کے تجربات کی وضاحت
تیسرے اور چوتھے کے سٹوڈنٹس کے ٹیلی کینیسس کے تجربات ناکام اس لیے ہوتے ہیں کہ
ان کا دماغ ٹیلی پیتھی کی مخصوص فریکوئنسی پر پختہ ہو چکا ہوتا ہے
اور ٹیلی کینیسس کی مختلف فریکوئنسی پر کام کرنا
ان کے لیے قدرتی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔
اگر یہی سٹوڈنٹس پہلے لیول پر بھی ناکام رہےہوں
تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے لیول پر بھی ان کی توجہ ویکسوئی ہائی لیول کی تھی
جو صرف ٹیلی پیتھی کو سپورٹ کرتی ہے۔
پہلے لیول کے طلباء کے لیے ٹیلی کینیسس میں کچھ کامیابی اس لیے ہوتی ہے کہ
ان کا ذہن بھی کسی ایک فریکوئنسی پر مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا ۔
اس لیے تیسرے اور چوتھے لیول والے سٹوڈنٹس کو
میں نے ٹیلی کینیسس کے تجربات کرنے سے منع کیا تھا
تاکہ وہ اپنی توجہ مکمل طور پر ٹیلی پیتھی پر مرکوز رکھیں
کیونکہ ان کا دماغ ایک ہی فریکوئنسی پر مسلسل اور بغیر کسی مداخلت کے تربیت حاصل کر رہا ہے۔



یہ سر اپ نے بالکل ٹھیک فرمایا ایک وقت میں ایک ہی کام کیا جا سکتا ہے پھر وہ دماغی ہو یا جسمانی مطلب کہ متعلق ایک سرگرمی کی جا سکتی ہے مثال تو ٹیلی پیتھی ایک سرگرمی ہے ایک عمل ہے اور وہ عمل ایک ٹیلی پیتی ایسا عمل جو ایک عمل ایک سرگرمی دماغ کر سکتا ہے اس کے ساتھ دٹیلی کینسس کی جائے گی ٹیلی پیتھی باقی نہیں رہے گی کام ذہنی ہوا ہے جسمانی ایک وقت میں ایک ہی ہو سکتا ہے اگر ایک وقت میں دو کام کیے جائیں گے تو کوئی بھی کام سیدھا نہیں ہوگا پہلے والا کام میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا
ٹیلی پیتھی اور ٹیلی کا نائسز بالکل ایک دوسرے کے متضاد ہیں کیونکہ ٹیلی پاتھی میں اپ کو بالکل لو فریکونسی پر کام کرنا ہوتا ہے جو کہ بیف میڈیٹیشن میں بھی کام اتی ہیں جبکہ ٹیلی کا اناسس بالکل اس کے متضاد بہت ہی ہائی فریکونسی اور ایکٹیو فریکونسی میں کام کرتی ہے اس لیے دونوں ایک ساتھ متضاد ہونے کے وجہ سے ایک قسم میں اکٹھے نہیں رکھ سکتے۔ہاں جب انسان ایکسپرٹ ہو جاتا ہے تو پھر جا کے وہ ان دونوں لیول کو پا سکتا ہے لیکن ابھی اس لیول پہ بالکل نہیں۔
G isle k mind ki frequency tp p set huti H isle dusri side . attention isko disturb krti h isle dono side p ek sath experiment kamyab ni hute
درست فرمایا ہمارے استاد جی نے یہ دونوں ہیں تو سائیکک پاور ہے لیکن دونوں کو ہم ایک ساتھ استعمال نہیں کر سکتے ۔اور جیسا کہ استاد محترم نے نشاندہی فرمائی ہے کہ ان دو ٹیلی پیتھی اور ٹیلی کنیسز کا اگر ایک ٹائم میں استعمال کریں گے تو ان کا تجربہ ناکام ہوگا اس کا یہ اس میں سے مثبت پہلو یہ نکلتا ہے کہ ہماری ٹیلی پیتھی پاوریٹ ڈیویلپ ہو رہی ہیں تو ہمارے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم ٹیلی پیتھی پوری سیکھیں اور اس پہ عبور کرنے کے بعد جیسے ہمیں ہمارے استاد گائیڈ کریں گے ویسے ہی ہم سیکھیں گے یقینا اس بارے میں ہم لوگ لاعلم تھے کہ ہم سمجھتے تھے کہ اگر پاور سائکک پاور ا جائیں گی تو ہم کئی سارے پاوریں یک مشت استعمال کر سکتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے جیسا کہ ہمارے استاد محترم فرماتے ہیں
G sir zaroor aap ki baat duroost hai dono ek saath kam nahi kar sakte dono ki frequency alag hoti hai
جی سر آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں،،میں آج کل موم بتی کا تجربا کر رہی ہوں ۔۔اس میں کامیابی نہیں ہو رہی تھی تو میں بہت جهنجلا رہی تھی پھر یہ بھی خیال آرہا تھا کہ یہ ٹیلی پیتھی نہیں ٹیلی کائنسس کا تجربا ہے اور الحمدلله میرا فوکس بھی بہت اچھا ہے پھر بھی پتا نہیں کامیابی کیوں نہیں مل رہی اب بہت سی باتیں سمجھ آرہی ہیں ۔۔الحمدلله دماغ کھلا ہے ۔۔بہت فائدہ مند تحریر ہے ۔۔
جی سر آپکی بات بلکل ٹھیک ہے کہ توجہ 2جگہ ہوگی تو دونوں طرف ڈسٹر بینس ہوگی
اور قانون قدرت بھی ہی ہے کہ جس کام پر ہمارا مکمل فوکس ہوتا ہم اسی میں کامیاب ہو جاتے ہیں
لہذا آپکی ھدایت پر عمل کرتے ہوے ہم صرف ٹیلی پیتھی پر فوکس کریں گے انشا اللہ۔ اور کامیاب ہونگے امین
جزاک اللہ خیرا
بالکل سر، آپ نے درست فرمایا—ایک وقت میں دو کام نہیں کیے جا سکتے۔
سکون اور فریکوئنسی کے بگڑنے پر بے چینی اور مایوسی کا آنا، ہمارے حساس اور بیدار دماغ کے ارتقاء اور کامیابی کی نشانی ہے۔
Mashallah sir aap sahi keh rahe hai ek waqt me do kam mumkin nahi
Good Description. Clears the confusion related to the topic. Excellently defined.
کسی بھی فن میں مہارت کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا فوکس مضبوط ہو، اور اگر ہم کوئی بھی دو اہم نوعیت کے کام ایک ہی وقت میں کریں گے اس سے فوکس تو لوز کریں گے ہی ساتھ ساتھ اپنے دماغ کو ایکسٹرا اسٹریس دیں گے اس لیے جو بھی سیکھنا چاہیے پہلے ایک چیز پر فوکس کرنا ضروری ہے
سر آپ نے صحیح کہا ھے کہ انسانی دماغ ایک وقت میں ایک ہی طرف اپنا فوکس قائم رکھ سکتا ہے ۔سر اس کا مطلب ہے کہ جب بھی فوکس بکھر تا ہے تو جسم میں بیچینی اس بات کا ثبوت ہے وہ کام نہ کیا جائے ۔۔