ٹیلی پیتھی انصاف کی خاموش فوج
ٹیلی پیتھی انصاف کی خاموش فوج
روشن مستقبل کے معمارو
آپ سب جانتے ہیں کہ میں نے اپنی پوری زندگی ایک ہی مقصد کے لیے وقف کر دی یے کہ اس کی شمع کو ہر گھر تک پہنچاؤں۔
انسانی ذہن کی پوشیدہ وپراسرار قوتوں کو ایکٹیو کیا جائے اور انسانیت کی خدمت کے لیے اس کے استعمال کا طریقہ سمجھایا اور بتایا جائے۔
لیکن زندگی کی راہ میں کانٹے بھی ہوتے ہیں جو ہمارے ارادوں کی آزمائش کرتے ہیں۔
پچھلے پانچ سالوں سے میں اپنے ذہن کی ٹیلی پیتھی سپر پاور کو ۔۔۔۔۔ مہروں کی تکلیف کی وجہ سے استعمال نہیں کر سکا۔
لیکن جب بھی میں کہیں ظلم ہوتا دیکھتا ہوں جب سوشل میڈیا پر امتِ مسلمہ پر ہونے والے مظالم کی ویڈیوز دیکھتا ہوں۔۔۔۔
جب نہتے لوگوں پر لاٹھیاں پڑتی دیکھتا ہوں ۔۔۔
جب ان پر گولیاں اور بم برستے دیکھتا ہوں۔۔۔۔
جب بچوں اور عورتوں کی چیخیں سنتا ہوں ۔۔۔۔
تو یقین کریں میری روح ٹوٹ جاتی ہے۔
میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔
ان مناظر نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا۔
اور اس لمحے دل چیخ کر کہتا تھا:
اگر آج میری ٹیلی پیتھی کی طاقت اپنی پوری قوت پر ہوتی ۔۔۔۔۔ تو میں ظالموں کے دماغوں میں ایسی خوفناک لہریں بھیج دیتا کہ وہ ظلم کرنا ہمیشہ کیلئے بھول جاتے۔
میں ان کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتا۔
لیکن یاد رکھیں یہ دکھ ہمارے لیے مایوسی نہیں۔۔۔۔ بلکہ پیغام ہے اور للار ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ
ہماری ذہنی تربیت ہماری ٹیلی پیتھی پاور صرف ایک ہنر نہیں بلکہ یہ مظلوموں کیلئے ایک ڈھال ہے۔
یہ ظلم کے خلاف ایک جہاد ہے۔
یہ وہ طاقت ہے
جسے روکنے کیلئے کسی فوج کی ضرورت نہیں۔
جسے دبانے کیلئے کوئی بارود کافی نہیں
جو بندوق سے زیادہ گہری چوٹ مارتی ہے
جو ظالم کے ضمیر تک پہنچ کر اس کی نیندیں حرام کر دیتی ہے۔
میری ذہین قوم کے ستاروں
آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو کمزور نہیں ہونے دیں گے۔
ہم اسے مزید مضبوط ایکٹیو کریں گے
اور اسے ظلم کے خاتمے کے لیے استعمال کریں گے۔

کیونکہ ٹیلی پیتھی ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس سے ایک ہاتھ نہیں دل، دماغ اور پوری دنیا بدلی جا سکتی ہے۔
اس لیے کبھی مت حوصلہ مت ہاریں اپنی روزانہ کی مشقوں کو کبھی معمولی نہ سمجھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ اپنی ہر مشق ایک ظالم سے حساب لینے والی گولی سمجھیں۔
جیسے کہ پہلے بھی کئی بار تاکید کی گئی ہے کہ ہر ہفتے ایک دن اپنی توجہ کی ایکسر سائز پابندی سے کیا کریں۔اپنے ہر خیال ہر ارادے کو اس عظیم مقصد کے لیے وقف کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ آپ اپنی طاقت کو اتنا مضبوط کر لیں کہ آپ کا ذہن انصاف کا ایسا قلعہ بن جائے جو ظلم کو کبھی قدم جمانے نہ دے۔
لہذا اپنی زندگی کو انسانیت کی خدمت حق کی سربلندی اور ظلم کے خاتمے کے لیے وقف کر دیں گے۔
یہ دنیا آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ آپ کی ہمت آپ کے عزم اور آپ کی ٹیلی پیتھک طاقت اس کے مستقبل کو روشن کر سکتی ہے۔
آپ صرف میرے شاگرد نہیں ہیں آپ میری امید ہیں ۔۔۔ میرے خوابوں کی تکمیل ہیں ۔۔۔۔ آپ انسانیت کے محافظ بننے والے نوجوانوں کی وہ فوج ہو جس کا انتظار صدیوں سے تھا۔
آؤ ۔۔۔۔ مل کر اس دنیا کی بنیاد رکھیں جہاں ظلم کو کوئی پناہ گاہ نہ ملے۔
جہاں ہمارے ذہنوں کی طاقت ہی وہ عظیم دیوار بنے جو مظلوم کی پناہ گاہ اور ظالم کے لیے خوف کا سبب ہو۔
آپ کا استاد اور سپہ سالار
غلام مصطفیٰ مہر
آج کے سوالات
ان کے جوابات کمنٹ میں دیں۔
سوال نمبر 1:استاد نے پچھلے پانچ سال اپنی ٹیلی پیتھی سپر پاور مکمل قوت سے کیوں استعمال نہیں کی؟
سوال نمبر 2:استاد کو سوشل میڈیا پر ظلم و ستم کی ویڈیوز دیکھ کر کیا محسوس ہوتا ہے؟
سوال نمبر 3:تحریر کے مطابق ٹیلی پیتھی کی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے؟
سوال نمبر 4:استاد اپنے شاگردوں سے روزانہ کی مشقوں کے بارے میں کیا ہدایت دیتے ہیں؟
سوال نمبر 5:استاد اپنے شاگردوں کو کس کردار کا حقدار قرار دیتے ہیں؟



1 مہروں کی تکلیف کی وجہ سے۔
2 دل ٹوٹ سا جاتا ہے۔
3 انسانیت کی خدمت اور رضائے الٰہی ۔
4 ہر ہفتے ایک دن اپنی توجہ کی ایکسرسائز پابندی سے کیا کریں تاکہ آپ کا ذہن بلکل مظبوط ہو جائے۔
5 امید کا، اپنے خوابوں کی تکمیل کا، انسانیت کے محافظ کا۔
کمرکے مسائل کی وجہ سے
دل بہت دکھی ہوتا ہے
انسانیت کی خدمت کے لیے
متواتر ایکسرسائز کرنے کے لیے
اپنے خواب پورے کرنے کے لیے
1-
کمر درد اور اصابی کمزوری کے باعث
2-
دل خون کے انسو روتا ہے اور دل پھٹ سا جاتا ہے۔
3-
انسانیت کی خدمت اور ظلم کے خاتمے کے لیے۔
4-
ہر ہفتے روزانہ کی مشقوں کو متواتر اور بلا ناغہ کریں تاکہ اپ کا ذہن بالکل مضبوط ہو جائے۔
5-
اپنی امید کا
اپنے خوابوں کی تکمیل کا
انسانیت کے محافظ کا۔
1:مہروں کی تکلیف کی وجہ سے
2:آپکی روح ٹوٹ جاتی ہے اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے دل سے آواز آتی ہے کہ کاش میری ٹیلی پیتھی کی طاقت ہوتی تو میں ان ظالموںکے دماغوں میں ایسی خوفناک لہریں بھیجتا کہ یہ ظلم کرنا بھول جاتے
3:ٹیلی پیتھی کی طاقت کو ظلم کے خلاف ہتھیار اور مظلوم کے لیے ڈھال اور امت مسلمہ کے لیے استعمال کرنا چاہیے
4:آپکی ہدایت ہے کہ اپنی روانہ کی مشق اور ہفتہ وار فوکس کی مشق لازمی کریں تاکہ ہماری ذہنی طاقت بڑھے
5:انسانیت کے ایسے محافظ مظلوموں کے لیے ڈھال اور ظالموں کے کے لیے خوف کا سبب یہ ایک ایسی فوج ہوگی جس کا صدیوں سے انتظار تھا
1-muhron ki takleef ki wajah sy tujerbat nhi ho saky
2- bhut takleef hoti hai aur bebasi ka ahsas hota hai
3- zulum k khilaf aman k liye
4- yhh mashaq nhi hai sirf yhh taqat hai jisy zulm k lhilaf istimal kiya jaye ga
5- insaniyat k muhafiz k kirdar ka
سوال نمبر ایک
جواب مہروں کی تکلیف کی وجہ سے
سوال نمبر دو
جواب اپ کی روح ٹوٹ جاتی ہے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں
سوال نمبر تین
جواب ظلم کے خلاف مظلوموں کی مدد کے لیے انصاف کے لیے امت محمدیہ کے لیے امت مسلمہ کے لیے انسانیت کی خدمت کے لیے
سوال نمبر چار
جواب کبھی حوصلہ مت ہاریں اپنی روزانہ کی مشقوں کو کبھی معمولی نہ سمجھے بلکہ اپنی ہر مشق ایک ظالم سے حساب لینے والی گولی سمجھیں
سوال نمبر پانچ
جواب انسانیت کے محافظ بننے والے نوجوانوں کی وہ فوج ہو جس کا انتظار صدیوں سے تھا
جواب ١) ۔۔۔مہروں کی تکلیف کی وجہ سے ہمارے استاد ٹیلی پیتھی کی قو ت استمعال
نہیں کر پا رہے ہیں۔۔
جواب ٢) ۔۔روح ٹوٹ جاتی ہے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے
جواب 3 )۔۔اسلام دشمنان کے خلاف،،اسلام کی سر بلندی کے لیئے
جواب٤) ۔۔روزانہ کی مشقوں کو معمولی نا سمجھیں بلکہ ہر مشق کو ظالموں کے
حساب کی ایک گولی سمجھیں
جواب ٥)۔۔انسانیت کے محافظ کی ایسی فوج جس کا صدیوں سے انتظار تھا۔۔
کمر کے مہروں یعنی ریڑھ کی ہڈی کی تکلیف کی وجہ سے
دل دکھ جاتا ہے، ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے
انسانیت کی بھلائی کے لیئے
روانہ کی مشقیں طاقتور گولیوں کی طرح کام کرتی ہیں۔
انسانیت کے محافظوں کا کردار
1)moharu ki taklif ki wajah se istemal nahi kiye sir ne..
2)jab bhi julm ki videos dekhte hai to sir ki ruh tut jati aur dil tukde tukde ho jaata hai.
3)tele pathy ki power ko hone wale ummat e muslima per mazalim ke khilaf istemal karna chahiye.
4)apni hone wali mashqo ko mamuli na samajhna aur in ko wo banduk ki goli samajhna jo zalim ke liye istemal hoti hai.
5) insaaf ka k koi zulm na kar sake..
1:sir apni muhrun ki taklef ki waja SE power use n krsake
2: sir ka Dil buhut dukhta h zulm dekh k
3: Insanyat ki khidmat k le use krna h
4: mustaqil mizagi SE daily routine ki practice
5:Insaf ka